22.6 C
Pakistan
Tuesday, September 27, 2022

لاہور ( جنرل رپورٹر )کالج آف آفتھلمالوجی اینڈ الائیڈ وژن سائنسز، لاہور میں یوم آزادی کی سہ روزہ تقریبات کا آغاز ،پہلے روز مولانا ظفر علی خان کے پوتے مسعود علی خان، فیکلٹی اور طلبہ نے شرکت کی۔اس موقع پر پروفیسر اسد اسلم خان نے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ کو پاکستان کے بننے کے اغراض و مقاصدسے آگاہ کرنے کے ساتھ ان کی کردار سازی پر کام کریں انھوں نے بتایا کہ قائد اعظم کے ایک معالج نے اس بات کو اخلاقی طور پر پوشیدہ رکھاکہ وہ ایک لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں۔پروفیسر محمد خلیل نے حاضرین کو بتایا کہ نسیم حجازی اور کرشن چندر کی کتابوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو بنانے کیلئے خاک و خون سے گزرنا پڑا۔ تقریب کے دوران شہید کیپٹن عکاشہ طلال کے والد پروفیسر محمد سلیم چوہدری نے اپنے بیٹے کی شہادت کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے نے 2020 میں ایس ایس جی ٹریننگ کے دوران شہادت پائی۔اس موقع پر مولانا ظفر علی خان کے پوتے مسعود علی خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مولانا ظفر علی خان کہ ذات کی بہت سی جہتیں تھیں، سیاست، شاعری، ادب، صحافت مگر ان کی ذاتی زندگی بہت سادہ تھی۔چودہ سال قید وبند کی صعوبت کے باوجود پاکستان کیلئے اپنا مشن انہوں نے جاری رکھا۔ ہفت روزہ اخبار”زمیندار” سے مولانا ظفر علی خان نے اپنی صحافت کے کرئیر کا آغاز کیا اور اس شعبے کے ذریعے بھی پاکستان کی خدمت کرتے رہے۔ تقریب کے اختتام پر پرنسپل کالج،پروفیسر زاہد کمال صدیقی نے طلبہ کو  پاکستان کی جغرافیائی حدود کی اہمیت، دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو، کراکرم ہائی وے، عبد الستار ایدھی کا سوشل ویلفیئر میں مثالی کام، سکواش میں جہانگیر خان اور جان شیر خان کی بیمثال کارکردگی، ارشد ندیم کی کومن ویلتھ میں نیزہ بازی میں جیت، ملک میں بننے والے دنیا کے بہترین سرجیکل انسٹرومنٹس، سیالکوٹ کی کھیلوں کی انڈسٹری  کے ساتھ پاکستانی قوم کی بہترین صلاحیتوں کا ذکر کرکے طلبہ کی فکری شعور کا بیدار کیا۔ انہوں نے  پروفیسر اسد اسلم خان صاحب کی اس ادارے کو بنانے میں ان کی کوششوں سراہا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,100SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles