9.8 C
Pakistan
Monday, January 30, 2023

گو پنجاب ایپ کا آغاز،پنجاب یونیورسٹی کا انتظامی بحران اور بریسٹ کیسنر پر عوامی آگاہی

میری بات۔۔۔مدثر قدیر

             

گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں ”گو پنجاب“ ایپ کا باقاعدہ آغاز کیااس موقع پر سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی، صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ارسلان خالد، مشیر داخلہ عمر سرفراز چیمہ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جبکہ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے انتہائی کم وقت میں مختلف محکموں کی خدمات کی ایک ایپ بنا کر بڑا کام کیا ہے جس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے گااورخدمات کی آن لائن فراہمی سے رشوت کا خاتمہ ہوگا جبکہ ایپ کی وجہ سے گھر میں موجود خواتین بھی استفادہ کر سکیں گی۔وزیر اعلی پنجاب کا مزید ہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے ہر شہری اور ہر گھر کو سہولت فراہم کر دی ہے اورنجی شعبے کی خدمات کی ”گو پنجاب“ ایپ میں شمولیت سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس ایپ کے ذریعے قومی صحت کارڈ کی معلومات اور ہسپتالوں کی انفارمیشن کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر کی کاپی، گمشدگی کی رپورٹ، ای چالان کی ادائیگی گو پنجاب ایپ سے ہو سکے گی جبکہ ایپ سے ٹریفک چالان کی ادائیگی، کرائے داری اور گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن ہو سکے گی۔”گو پنجاب“ ایپ سے ڈیتھ، برتھ، میرج اور طلاق سرٹیکفیٹ حاصل کیا جاسکے گا۔کاٹن فیس، پروفیشنل، ٹوکن، پراپرٹی ٹیکس، ای آکشن، گاڑیوں کی ٹرانسفر اور رجسٹریشن بھی ہو سکے گی۔ای اشٹام پیپر، فرد ملکیت اور میوٹیشن فیس کی ادائیگی بھی ”گو پنجاب“ ایپ سے ہو سکے گی اور کاشتکار ”گو پنجاب“ ایپ کے ذریعے ای آبیانہ اور صنعتکار بزنس رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کر سکیں گے،‘ ایپ کے ذریعے پنجاب ٹورازم کارپوریشن کے ریسٹ ہاؤسز کی بکنگ اور دیگر تفصیلات حاصل کی جاسکیں گیاور اس کے ذریعے روٹ پرمٹ فیس اور فنٹس سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاسکے گا۔ پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن،پنجاب احساس راشن پروگرام کی رجسٹریشن بھی کی جاسکے گی۔ وزیر اعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ ”گو پنجاب“ ایپ پنجاب ہی نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی نوعیت کی پہلی پبلک سیکٹر ایپ ہے جسکے ذریعے پنجاب کے لاکھوں شہری گھر بیٹھے حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی سروسز سے نہ صرف مستفید ہو سکیں گے بلکہ شہریوں کا وقت اور پیسہ بچے گا اور سروس ڈلیوری بہتر ہوگی یہ ایپ واقعی ہی عوام کے لیے بڑی فائدہ مند ہے مگر اس میں وزیر اعلی پرویزالہی اگر طلباء کے ڈومی سائل کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات کا ازالہ کرجاتے تو کیا ہی بات تھی۔گزشتہ ہفتے کااہم ایونٹ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن، شعبہ سرجری اور انکالوجی کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر آگاہی واک اور سیمنار کا انعقاد بھی تھاجس میں پروفیسر زیبا عزیز، پروفیسر عائشہ شوکت، سی ای او میو ہسپتال پروفیسر ثاقب سعید، پروفیسر اصغر نقی، پروفیسر عائشہ ملک اور ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر منیر احمد ملک نے شرکت کی اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز کا شرکا سے خطاب میں کہنا تھا کہ کسی بھی بیماری کے لئے آگاہی، تشخیص اور علاج اہم ہوتے ہیں کینسر کے مرض میں جلد تشخیص اور علاج ضروری ہے خواتین کو چاہیے کہ خود سے اپنی چھاتی کا معائنہ کریں۔ چھاتی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی صورت میں قریبی مرکز صحت سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت پنجاب پروفیسر ڈاکٹر یاسمین راشد کی خصوصی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے کینسر کے مریضوں کو مفت علاج اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر میو ہسپتال میں بریسٹ کینسر کے 100 کے قریب مریض مستفید ہوتے ہیں اس موقع پرپروفیسر آف انکالوجی پروفیسر زیبا عزیز کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کی آگاہی گاوٗں اور دیہاتوں سے شروع ہونی چاہیے چھاتی کے کینسر کی آگاہی خواتین کے ساتھ مردوں کو بھی ہونی چاہیے اور تشخیص کے بعد 60 دن کے اندر علاج ہونا چاہیے جبکہ پروفیسر عائشہ ملک نے حاملہ خواتین میں کینسر کا مرض کی تشخیص ہونے کے بعد احتیاط اور علاج بارے ضروری معلومات پر تبادلہ خیال اور اظہار کیا۔ اس موقع پر صحت یاب ہونے والی مریضہ اور لواحقین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شرکا کو بتایا کہ وہ خوشگوار صحت مند اور بھر پور زندگی گزار رہی ہیں کینسر کی بروقت تشخیص ہو جائے تو انسان بڑے نقصان سے بچ جاتا ہے۔آگاہی سیمینار کے دوران پروفیسر عائشہ شوکت نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بریسٹ کینسر مکمل طور پر قابل علاج کینسر ہے لیکن بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے اس مرض کے بڑھنے کی بڑی وجہ عطائیت ہے انہوں نے کہا کہ اس مرض کو لاعلاج ہونے پہلے علاج کروانا ضروری ہے۔پنجاب یونیورسٹی کا انتظامہ بحران شدید ہوتا چلا جارہا ہے اور 140 سالہ تاریخ میں پہلی بار کئی دنوں سے پنجاب یونیورسٹی اپنے وائس چانسلر ہی سے محروم ہے،14اکتوبر کو پروفیسر نیاز کی مدت ملازمت مکمل کرکے سبکدوش ہوگئے تھے جس کے بعد وائس چانسلر کے اختیارات ڈینز کمیٹی استعمال کررہی ہے جبکہ گزشتہ ماہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے حوالے سے ایک سمری محکمہ ہائر ایجوکیشن کو بھیجی گئی تھی جس کے مطابق 14اکتوبر سے قبل نئے وائس چانسلر کی تقرری کی جانی تھی مگر کچھ دن قبل محکمہ ہائر ایجوکیشن نے راتوں  رات ایک علیحدہ سمری کی منظوری دی جس کے مطابق وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی پروفیسر اصغر زیدی کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر تعینات کیا جانا تھا مگر چانسلر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے اس سمری پر دستخط نہیں  کیے جس کے بعد پروفیسر اصغر زیدی کی تقرری کھٹائی میں  پڑ گئی۔ پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں  اساتذہ نے یونیورسٹی کی بگڑتی ہوئی مالی، تعلیمی اور سیکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور انتظامیہ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جن کی وجہ سے یونیورسٹی کے مفادات چار سال تک مجروح ہوتے رہے ان کا کہنا تھا کہ جلد بازی اور مخصوص افراد کے لیے تنظیم نو اور توسیع نے درحقیقت یونیورسٹی کے وسائل کو ضائع کیا ا اس موقع پر اساتذہ کی تنظیم نے مطالبہ بھی کیا کہ مستقل وائس چانسلر کی تقرری کا عمل شفاف، میرٹ کے مطابق ہونا چاہیے اور تمام امیدواروں کو مساوی مواقع  فراہم کیے جائیں۔عالمی یوم بصارت بھی چند روز قبل گزرا اس حوالے سے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام آنکھوں کے تحفظ،بیماریوں اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لئے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں علاج کروانے والے بچوں اور ان کے والدین نے بھی شرکت کی اور نونہالوں میں گفٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی قیادت میں ہونے والی اس واک میں پروفیسر محمد معین، پروفیسر آغا شبیر علی، پرفیسر ڈاکٹر محمد شاہد، ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر ثنا ء جہانگیر، ڈاکٹر آمنہ راجپوت کے علاوہ ڈاکٹرز،نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف اور مریضوں کے علاوہ شہریوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے عالمی یوم بصارت کی تھیم ”Love Your Eyes” کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد معین کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آنکھ کے پردہ کی بیماری Retinopathy of Prematurityکا بہت کامیابی سیمفت علاج کیا جا رہا ہے۔ اس بیماری میں 9ماہ سے پہلے یا بہت کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں کے پردہ کی بیماری اور نابینا پن کے امکانات ہونے ہیں۔ جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم میں ایسے بہت سے بچوں کی کامیاب سرجری اور علاج کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بچوں کا علاج ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔جنہیں مسلسل چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن خوشی کی بات ہے کہ ایل جی ایچ کے ڈاکٹرز محنت اور پیشہ وارانہ لگن کی بدولت ایسے بچوں کا علاج کامیابی سے ہو رہا ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,500SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles