کینڈا میں مسلم فیملی اسلامو فوبیا کا شکار ہو گئی

0
38

کینڈا میں مسلم فیملی اسلامو فوبیا کا شکار ہو گئی ۔ جنونی نوجوان نے سڑک کنارے فٹ پاتھ پر کھڑی فیملی کو اپنے ٹرک کے نیچے روند ڈالا ۔ فیملی کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے تھا ۔ جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین سمیت چار افراد شامل ہیں ۔ جبکہ نو سالہ بچہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعہ اس قدر دلخراش تھا کہ ہر دل رو پڑا ۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے حادثے کے وقت اُس نے اپنی معصوم بیٹی کی انکھیں بند کر دیں جبکہ دوسرے نے کہا ہر کوئی دوڑ رہا تھا ۔ تین خواتین اور ایک مرد کی لاش اس طرح مسخ ہو گئی کہ شناخت ہی مکمن نہ رہی ۔ واقعہ پل بھر میں دنیا میں موضوع بحث بن گیا اور سبھی کو رلا گیا ۔

 

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ کہ انہیں واقعہ پر انتہائی افسوس ہے ۔ کہ آپ یہ جان لیں ہم لندن سمیت پورے ملک کی مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کینیڈا میں اسلاموفوبیا کیلیے کوئی جگہ نہیں اور یہ نفرت قابل مذمت ہے، اسے روکنا ہوگا۔

ادھر کینیڈین پولیس کا کہنا ہے  کہ اس مسلمان خاندان کو ’سوچے سمجھے منصوبے‘ کے تحت گاڑی کے نیچے روند کر قتل کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملہ آور کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف چار قتل اور ایک اقدامِ قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

حملہ آور کا نام نیتھانیئل ویلٹ مین بتایا گیا ہے۔ وہ 20 سال کے ہیں اور لندن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُنھیں جائے وقوعہ سے چھ کلومیٹر دور ایک شاپنگ سینٹر میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد پیر کو انھیں پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا اور ان کی اگلی پیشی جمعرات کو متوقع ہے۔

 

دوسری طرف کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ بھی مقتولین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں شامل تھے۔ اُنھوں نے ٹویٹ کی کہ ‘نفرت اور اسلامو فوبیا کی اونٹاریو میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ کہ ’دہشتگردی کا یہ واقعہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا میں اضافے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنا ہو گی۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے اور جو لاشیں ملی ہیں وہ قابلِ شناخت نہیں ہیں اور تاحال پوسٹ مارٹم کا انتظار کیا جا رہا ہے۔‘

پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس واقعہ میں اسلاموفوبیا کا عنصر موجود ہے جس میں تین بے گناہ، بے قصور نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی متاثرہ فیملی کے ساتھ پہلا رابطہ ٹورانٹو میں ہمارے قونصل جنرل کا ہوا اور خاندان اس المناک سانحہ کے باعث کرب کا شکار ہے۔

ان کے مطابق واقعہ اتوار کی رات (کینیڈا کے وقت کے مطابق) آٹھ بجے پیش آیا تاہم اس حوالے سے اہلخانہ کو اگلے روز اطلاع دی گئی۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان کو میتیں پاکستان بھجوانے کی پیشکش کی ہے تاہم متاثرہ فیملی نے وہیں تدفین کرنے کے متعلق آگاہ کیا ہے۔‘

انھوں نے کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے اور وہ کینیڈا میں مقیم مسلمان کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے قونصل جنرل تورانٹو نےبتایا کہ پولیس کا رویہ اطمینان بخش ہے۔

ادھر کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تہہ دل سے پاکستانی نژاد کینیڈین خاندان کے چار افراد کی المناک ہلاکت پر تعزیت کرتے ہیں۔‘

’ہم صوبائی اور وفاقی حکام سے حقائق سامنے لانے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔‘

ہائی کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ’ابتدائی معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یہ افراد ایک دہشتگرد حملے کا نشانہ بنے جس کی بنیاد اسلاموفوبیا تھی۔‘

اعلامیے کے مطابق آج کونسل جنرل ٹورنٹو لواحقین سے افسوس کرنے کے لیے لندن اونٹاریو جا رہے ہیں جہاں وہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہر ممکن امداد کی یقین دہانی بھی کروائیں گے۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

پولیس کے سپرینٹنڈنٹ پال وائٹ نے مزید کہا: ‘ملزم اور ہلاک شدگان کے درمیان پہلے کوئی تعلق نہیں ہے۔’ اُنھوں نے مزید کہا کہ ملزم نے ایک جیکٹ پہن رکھی تھی جو ‘بلٹ پروف جیکٹ جیسی’ لگ رہی تھی۔

حکام نے مزید کہا کہ جب اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بج کر 40 منٹ پر ہائیڈ پارک روڈ کے فٹ پاتھ پر یہ سیاہ ٹرک چڑھ رہا تھا تو اس وقت موسم اچھا تھا اور حدِ نگاہ بہت بلند تھی۔

ایک عینی شاہد نے سی ٹی وی نیوز کو اس منظر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اپنی کم سن بیٹی کی آنکھیں بند کرنی پڑیں۔

ایک اور عینی شاہد کے مطابق ’افراتفری‘ کا عالم تھا۔

پیج مارٹن نے کہا: ’ہر جگہ سے لوگ بھاگ رہے تھے۔ لوگ امدادی کارکنوں کو بتا رہے تھے کہ واقعہ کہاں ہوا ہے۔ ہر کوئی اشارے کر رہا تھا، چلا رہا تھا اور بازو گھما رہا تھا۔‘

حملہ آور کو دہشتگرد قرار دینے کا مطالبہ

لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’لندن کے تمام شہریوں کی جانب سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے دل ٹوٹ گئے ہیں۔‘

’ہم اس خاندان کے لیے افسردہ ہیں جس کی تین نسلیں فوت ہو گئی ہیں۔‘ میئر کے بیان میں کہا گیا کہ لندن سٹی ہال کے باہر موجود پرچموں کو تین روز کے لیے سرنگوں رکھا جائے گا۔

نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز (این سی سی ایم) نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آور پر دہشتگردی کی فردِ جرم عائد کی جانی چاہیے۔

تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو افسر مصطفیٰ فاروق نے کہا کہ ’ایک شخص مبینہ طور پر اپنی گاڑی میں بیٹھا، ایک مسلمان خاندان کو گلی میں چلتے ہوئے دیکھا، اور تہیہ کر لیا کہ اُنھیں جینے کا حق نہیں ہے۔ وہ اُنھیں نہیں جانتا تھا۔ یہ کینیڈین سرزمین پر ایک دہشتگرد حملہ ہے اور اس سے ایسے ہی نمٹا جانا چاہیے۔‘

اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈین وزیراعظم اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے کیا اقدامات کرتے ہیں ؟ یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اس وقت مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا تیزہ سے پھیل رہا ہے اور دنیا کے ہر ملک میں مقیم مسلمانوں کی جانوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا دنیا اسلامو فوبیا کے خاتمے  کے لئے مناسب اقدامات اٹھا پائے گی یا نہیں ۔ لیکن یہ ایک حقیقیت ہے کہ اسلامو فوبیا تیزی سے مغربی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here