25.3 C
Pakistan
Friday, September 17, 2021

کیا پاکستان امریکہ کو اپنے اڈے دے گا؟

سی نیوز انٹرنیشنل ڈیسک

امریکا کو ایک بار پھر پاکستان کے اڈوں کی ضرورت پڑ گئی ہے ۔ اور امریکا کی خواہش ہے افغانستان سے انخلا مکمل ہوتے ہی پاکستان کے اڈے اُسے مل جائیں ۔جس کی بڑی وجہ انخلا کی صورت میں افغانستان میں سر اٹھاتی خانہ جنگی ہے ۔ جس کے واضح اشارے مل رہے ہیں ۔ اڈوں کے معاملے پر پاکستان کا واضح موقف سامنے آ چکا ہے ، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں دو ٹوک اور واضح موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف کسی صورت استعمال نہیں ہوگی ۔ جبکہ ایک چینی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ پریشر میں نہیں آئیں گے قوم اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گی ۔ وزیراعظم نے پارلیمان میں بھی اپنے موقف کو دہرایا اور اڈے نہ دینے کا دوٹوک اعلان کیا ۔

دوسری طرف امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے اب تک وزیراعظم سے رابطہ نہیں کیا ،انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق  بائیڈن اڈوں کے حوالے سے پاکستان کے جواب کا منتظر ہیں اگر ہاں میں ہوا تو وہ وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کریں گے بصورت دیگر کچھ بھی لائحہ عمل اپنایا جا سکتا ہے۔

ادھر پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان کی سرزمین پر ڈرون آپریشنز کے لیے نہ تو پاکستان کی جانب سے کوئی فوجی اڈہ دیا جا رہا ہے اور نہ کوئی ایئر بیس۔وزیر خارجہ نے  کہا کہ ماضی میں امریکہ کو ایئر بیس فراہم کئے گئے مگراب ماضی کو بھول جائیں  ۔انھوں نے کہا عمران خان کی قیادت میں اس ملک میں امریکہ کے لیے کوئی فوجی اڈہ مختص نہیں ہو گا۔‘

پاکستانی موقف اُس وقت سامنے آیا جب بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی  ایک خبر میں  کہا  گیا کہ امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجوں کی مدد کے لیے پاکستان نے اپنی فضائی اور زمینی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اڈوں کے حوالے  سےموجودہ حکومت نے اب تک واضح لائحہ عمل اپنایا ہے  جس سے امریکاکو  یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اب پاکستان کسی کی جنگ یا تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا ۔ لیکن دیکھنا یہ ہے امریکا کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے ؟ حکومت پاکستان اس ردعمل کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اپنائے گی؟

اس سے بھی  بڑا سوال یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت  دوہزار ایک میں امریکا اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں

اے ایل او سی اور جی ایل اوسی کا کیا کرے گی کیونکہ ان معاہدوں کے تحت امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں ۔

ان معاہدوں کے تحت نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا کو پاکستان میں ایئربیس قائم کرنے کی اجازت ملی تھی ۔تاہم ان اڈوں کو دو ہزار گیارہ میں ختم کردیا گیا تھا ۔

نائن الیون کے بعد امریکا کو افغانستان میں دہشت گردوں پر حملوں کے لئے فضائی اور زمینی مدد کی ضرورت تھی جس کے لئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان  اے ایل او سی اور جی ایل او سی کے نام سے دو معاہدے ہوئے ۔ اے ایل او سی کے تحت امریکہ کو فضائی اڈے اور جی ایل او سی کے تحت زمینی راستے استعمال کرنے کی اجازت ملی تھی ۔

امریکہ کو شمسی ایئربیس اور شہباز ایئر بیس کا کنٹرول دیا گیا ، ان دونوں اڈوں سے امریکی جہاز اڑا کرتے تھے جبکہ شمسی ایئر بیس سے امریکہ نے ڈرون حملے بھی کئے ۔

 

امریکا کے لئے پاکستان میں اڈے ضروری ہیں ۔مگر اب کی بار حالات مختلف  ہیں ۔ پاکستان کسی بھی جنگ کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ۔ جبکہ ماضی میں امریکہ کی خواہش کے مطابق اُسے اڈے دیئے گئے ۔

نائن الیون کا واقع ہوا ، دنیا میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا گیا ۔ امریکا نے افغانستان میں موجوددہشت گردوں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے پاکستان سے اڈے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اُس وقت پاکستان میں جنرل پرویز مشرف حکومت کر رہے تھے اور اُنہوں نے خلاف توقع صرف ایک فون کال پر اڈے فراہم کر دیئے ۔ امریکا نے شمسی اور شہباز ایئر بیس استعمال کئے اور افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔

اب پھر سوال یہ ہے کہ

امریکہ کو پاکستان کے فضائی اڈے  کیوں چاہیں؟ کیا امریکہ پاکستان میں بیٹھ کر اپنے ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے؟

دو ہزار ایک میں امریکا کو اڈے دینے کی وجوہات کچھ اور تھیں ۔پہلی یہ کہ اُس وقت پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ تھا ۔

موجودہ حکومت اگر اڈے دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے پارلیمنٹ سے اجازت لینا ہو گی ۔اور اجازت دینے کی صورت میں حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

لیکن ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ امریکہ اڈوں کے لئے متحرک ہو چکا ہے ۔ سی آئی اے افغانستان کے اطراف میں اڈوں کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ایسے اڈے جہاں سے وہ افغانستان کی انٹیلی جنس اکٹھی کر سکے اور فوج کے مکمل انخلا کے بعددہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کر سکے ۔

یہی وجہ ہے اُسے افغانستان کے اطراف میں اڈے چاہیں ۔ چھ جون دو ہزار اکیس کو معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا جس  میں دعویٰ کیا گیا  کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے پاکستان کا دورہ کیا ہے  اور دورے کے دوران اُنہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ۔

صرف یہی نہیں سی آئی اے کے سربراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں اُنہیں کامیابی نہ ہوسکی ۔ اُنہیں کہا گیا کہ صرف دونوں ممالک کے سربراہان مملکت کے درمیان ہی ملاقات ہو سکتی ہے ۔

ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ حکام  جن میں سول اور اعلیٰ  عسکری  حکام شامل ہیں کے درمیان اس مسئلے پر رابطے ہوئے ہیں ۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ  پاکستان امریکا کو صرف ایک اڈے تک رسائی کی اجازت دینا چاہتا تھا لیکن پاکستانی حکام نے سخت شرائط رکھیں ۔

 

ماضی میں  پاکستان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے  افغانستان پر حملے سے قبل رکھی گئی شرائط کس طرح مانیں ، جنرل پرویز مشرف نے ان کا پنی کتاب ان د ی لائن اف فائر میں تذکرہ کیا ہے

مشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ نائن الیون کے اگلے روز امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے اُنہیں فون کیا اور کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔

اُس سے اگلے ہی دن  واشنگٹن میں موجود اس وقت کے آئی ایس آئی چیف نے  رچرڈ آرماٹیج سے ملاقات کی،۔رچرڈ آرمٹیج اس وقت امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ تھے ۔اس ملاقات کے بعد آئی ایس آئی چیف نے جنرل مشرف کو بتایا کہ آرمٹیج نے کہا ہے کہ ہم نے اگر دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو وہ بمباری کر کے ہمیں پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے ۔ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا کہ یہ انتہائی واضح دھمکی تھی اور یہ بھی واضح ہوتا  تھا کہ امریکہ نے جواب دینے  کا واضح فیصلہ کر لیا تھا ۔

تیرہ دسمبر کو پاکستان میں امریکی سفیر ویڈی چیمبلن جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کرتی ہیں اور سات مطالبات سامنے رکھ دیتی ہیں ۔جن کو ماننے کے سوا شائد پاکستان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ۔ اس سب کے بعد پاکستان نے جو فیصلہ کیا اُس سے دنیا اور پاکستانی بخوبی آگاہ ہیں ۔

اس امریکی دباؤ کے بعد پاکستان نے امریکہ کو فضائی اڈے بھی دیئے ، زمینی رستہ بھی دیا اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی ۔ جس کا جنرل پرویز مشرف برملا اظہار کرتے رہے؟ اس فیصلے کو پاکستان میں موجود بعض عناصر اور قوتوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نائن الیون کے بعد غصے میں بھپری دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور فوجی طاقت اور اس کے اتحادیوں کا سامنا کرنے کی  پاکستان صلاحیت رکھتا تھا یا نہیں ؟ مخالفت یا نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر یہ بات کہنا پڑی گی کہ  پرویز مشرف سے زیادہ اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا تھا ۔ یہ بات ایک کھلی حقیقت ہے جنگیں لڑنے کے لئے جذبہ مگر جیتنے کے لئے دانشمندی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اگر اُس وقت جنرل پرویز مشرف کی جگہ کوئی سویلین پاکستان کا حکمران ہوتا تو وہ کیا فیصلہ کرتا ؟ زمینی حقائق تو یہی بتاتے ہیں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ ہی لیا جاتا ۔

یہ تمام قصہ اپنی جگہ ،کیونکہ اب یہ ماضی کا حصہ بن چکا ۔ مگر اب کی بارپاکستان کا دورہ کرنے والے سی آئی اے کے سربراہ کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ۔ سی آئی اے سربراہ کو پاکستانی حکام کی جانب سے  واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستانی سرزمین سے کسی امریکی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس کے بجائے امریکہ کو یہ کہا گیا  کہ دہشت گردوں کے خلاف حملے کے  لئے انہیں ڈرون دیئے جائیں ۔

 

دوسری طرف موجودہ وزیراعظم کی ماضی میں مختلف مواقع پر کی  گئی تقاریر اور ٹی وی ٹاک شوز میں کی گئی باتیں اس بات کی گواہ ہیں وہ دوسروں کی جنگ کا حصہ بننے کے سخت خلاف ہیں  اُنہوں نے امریکا کو اڈے دینے کی اُس وقت بھی مخالفت کی تھی اور آج بھی کرتے ہیں ۔

امریکہ افغانستان سے نکل کر پاکستان میں بیٹھ کر جنگ لڑنا چاہتا ہے ۔جو شائد اب پاکستان کو قابل قبول نہیں ۔ جبکہ دوسری طرف افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کے انخلا کی صورت میں خانہ جنگی کے واضح اشارے مل رہے ہیں ،طالبان تقریبا جنگ کا آغاز کر چکے ہیں اور اب تک کئی اہم اضلاع پر قبضہ بھی جما چکے ہیں ۔امریکی فوج کی گاڑیاں ، اسلحہ بارو د بھی طالبان کے ہاتھوں لگا ہے ۔طالبان کی حالیہ کارروائیوں اور کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ چیلنجز اور مشکلات کا ایک طوفان پاکستان کی جانب رواں دواں ہے جو اب زیادہ فاصلے پر نہیں ہے ۔

چیلنجز اور مشکلات کے اس طوفان کا کیسے سامنا کرنا ہے ؟ اس کا انحصار پاکستان کی اپنائی گئی پالیسی پر ہوگا۔ مگر دو ہزار ایک  کے مقابلے میں اب کی بار منظر نامہ یکسر مختلف ہے

اُس وقت نائن الیون کی وجہ سے امریکہ مرنے مارنے پر تلا ہوا تھا ۔ دنیا کے ممالک کو دوٹوک پیغام دیا جا رہا تھا یا تو امریکہ کا اتحادی بنیں یا پھر دہشت گردوں کا ۔پاکستان کے سامنے بھی یہ شرط رکھی گئی تھی ۔ نائن الیون کے بعد دنیا  کے بیشتر ممالک دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں امریکہ کے حمایتی تھے ۔ ہر طرف سے اُسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف ایک آواز بلند کی جا رہی تھی ۔ گویا کہ کہا جا سکتا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک تھی ۔ ایسے میں امریکہ کی ہاں میں ہاں نہ ملانے کا مطلب صرف امریکہ کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو اپنے خلاف کرنا تھا ۔

اب صورتحال کیا ہے ؟کوئی نائن الیون جیسا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ پاکستان پر امریکی دباؤ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ امریکہ افغانستان میں طالبان  اور القاعدہ کے خلاف ایک طویل جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کر چکا ۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن افغانیوں کو اپنا وزن خود اٹھانے کا کہہ رہے ہیں ۔ جس سے اُن کی جنگ سے بیزاری کا اندازہ خوب لگایا جا سکتا ہے ۔ چین کی بڑھتی معاشی طاقت،امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ بلکہ خطے میں چین کا اثرورسوخ  بھی امریکا  کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ دنیا کے بعض حلقے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے یوں انخلا کو امریکہ ہی کی شکست قرار دے رہے ہیں ۔ دی انڈپینڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اُنیس سو چوہتر اور پچھہتر میں کمبوڈیا اور ویت نام کے طرز پر افغانستان سے امریکی انخلا ایک کمزور حکومت کے خلاف نظریاتی بنیادوں پر لڑنے والے باغیوں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہو گا ،

یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ  دو ہزار ایک اور آج کے منظر نامے میں خاصے فرق ہے ۔

اس کے باوجود بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے چیلنجز اور مشکلات کے باعث پاکستان زمینی اور فضائی اڈے دینے پر رضامند ہوجائے لیکن چین رستے میں حائل ہو سکتا ہے

پاکستان اور چین دو اہم دوست  ممالک ، جن کے مفادات مشترکہ ہیں اور اب چین عالمی سطح پر امریکا کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے تو ایسے میں پاکستان اپنے انتہائی قریبی دوست کی خواہش کے برخلاف فضائی اڈے نہیں  دے سکتا ۔ چین پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر بڑی سرمایہ کاری کر چکا اور چاہتا ہے کہ یہ منصوبے جلد ازجلد پایہ تکمیل کو پہنچیں ۔

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ  چین ،پاکستان پر دباؤ برھنے کی صورت میں  کیا حکمت عملی اپناتا ہے؟ وزیراعظم پاکستان دوٹوک الفاظ میں کہہ چکے پاکستان کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے گا ۔کیا چین بھی ایسا ہی  لائحہ عمل اپنائے گا ؟ سی پیک میں بڑی سرمایہ کاری کے باعث بظاہر تو لگتا ہے چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہی فیصلہ کرے گا ۔ باقی آنے والا وقت اور حالات بہتر فیصلہ کریں گے ۔ اب تو خطے میں امریکی اڈوں کے قیام پر روس بھی سامنے آ گیا ہے ۔ جس نے واضح طور امریکہ کے خطے میں اڈوں کے قیام کی مخالفت کی ہے ۔

اس تصویر کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ  ہےانڈیا کااستعمال۔۔دیکھنا ہوگا کہ امریکہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف کب ،کیسے استعمال کرتا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا ایسی خبریں دے رہا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اس دفعہ پاکستان کو وہ اہمیت نہیں دے رہا جو افغانستان کے معاملے میں اُس نے پاکستان کو ماضی میں دی۔ اب امریکا کا جھکاؤ بھارت کی جانب زیادہ ہے ۔ دوسری طرف بھارت اور چین کے تعلقات بھی دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ دونوں ممالک  کے فوجیوں کو گتھم گتھا ہوتے دنیا دیکھ چکی ہے ۔ جب امریکا انڈیا کی طرف جائے گا تو ایسے میں چین کا کردار پھر اہم ہو جائے گا ۔

اس وقت تک صورتحال یہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ایک طویل اجلاس ہو چکا جس میں اعلیٰ عسکری حکام جن  میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل ہیں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو صورتحال کے بارے میں مکمل بریفنگ دی ۔ اس موقع پر صحافی کے سوال پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا کہ امریکہ کو اڈے نہیں دیں گے ۔

افغانستان سے مطلب ہو یا نہ ہو امریکہ خطے میں اپنا اثرورسوخ ہر صورت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا ۔جس کے لئے شائد  ماضی میں سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدے کرنے والا ملک پاکستان اب امریکہ کی جھولی میں نہ جائے ۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles