15 C
Pakistan
Wednesday, December 8, 2021

کیا واقعی چین امریکہ اور دیگر ممالک کے لئے خطرہ بن چکا ہے ؟

تحریر ،میاں افتخارالحسن

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک چین کے دنیا میں بڑھتے اثرورسوخ کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ اور اس کا حل تلاش کرنے کے لئے سر جوڑ بیٹھے ہیں ۔ جی سیون کا اجلاس بھی اسی وجہ سے اہمیت اختیار کر گیا ۔ جی سیون میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی ، اٹلی اور جاپان شامل ہیں ۔ جی سیون سربراہ اجلاس میں امریکا سمیت دیگر عالمی رہنماوں نے چین کے ون بیلٹ روڈ پروجیکٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکی منصوبے بیلڈ بیٹر ورلڈ پر اتفاق کیا ہے

جی سیون سربراہ اجلاس کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی سات بڑی معاشی طاقتیں سوالات اور بڑے چیلنجز پر قابو پانے کے لئے جمہوریت کی طاقت ازادی، مساوات، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے اقدار کو استعمال کریں گی ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ چین دنیا کے کئی ممالک میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا چکا ہے خاص طور چین نے سرمایہ کاری کے لئے ترقی پذیر ممالک کو ٹارگٹ بنایا جس میں اُسے بڑی حد تک کامیابی ملی۔ اقوام متحدہ کے مطابق چین نے نئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے امریکہ میں ہونے والی سرمایہ کاری میں تقریبا نصف کے قریب کمی ہوئی ۔ جس وجہ سے اس کی پہلی پوزیشن جاتی رہی ۔ جبکہ چینی فرموں کی براہ راست سرمایہ کاری چار فیصد بڑھی جو اسے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر لے ائی ۔ سنہ دو ہزار سولہ میں امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری عروج پر پہنچ چکی تھی ۔ جو تقریبا چار سو بہتر ارب ڈالر بتائی جاتی ہے ۔ اس وقت چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری ایک سو چونتیس ارب ڈالر تھی ؎

اس کے بعد چین میں سرمایہ کاری متواتر بڑھی ہے ۔ جبکہ دو ہزار سترہ میں امریکا میں سرمایہ کاری گرنا شروع ہو گئی ۔ اُس وقت کی ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ چین کو چھوڑ کر اپنے اپریشنز امریکہ میں دوبارہ شروع کریں ۔ دوسری طرف اس نے چینی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو بھی  متنبہ کیا کہ قومی سلامتی کی بنیاد پر امریکہ میں سرمایہ کاری کرتے وقت انہیں نئی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جو بھی اقدامات کئے ان کا فائدہ چین کو ہی پہنچا ۔یہی وجہ ہے کہ چین کی معیشت سکڑی نہیں بلکہ تیزی سے پھیلی ۔ بہت سے ماہرین اقتصادیات امریکہ کے ساتھ تناو کے باوجود بھی چین کی معاشی ترقی کی رفتار سے حیران ہیں

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ دو ہزار بیس میں مجموعی طور پر براہ راست عالمی غیرملکی سرمایہ کاری میں ڈرامائی کمی واقعہ ہوئی جو کہ بیالیس فیصد تھی ۔ لیکن چین کی معیشت میں بہتری پر سبھی حیران ہیں ۔

امریکا کا سب سے برا مدمقابل چین ہے اور امریکہ چین کی اس برق رفتار معاشی ترقی سے نہ صرف حیران ہے بلکہ پریشان بھی ہے ۔ جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے تعلقات میں گرما گرمی پائی جاتی ہے ۔ جی سیون کے اجلاس میں جو بائیڈن ہی نے چین اور روس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ۔ صدر بائیڈن کا بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ منصوبہ چین کی ایسی سکیم کا حریف ہے جس کی مدد سے کئی ملکوں میں ٹرین ، سٹرکیں ، اور بندر گاہیں بنائی گئی ہیں ۔ ناقدین کے مطابق اس سے کئی ملک چین کے مقروض ہو گئے  ہیں اور وہ یہ قرض واپس نہیں کر سکیں گے ۔

جی سیون ممالک کے رہنماوں نے ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے ۔ جی سیون سربراہ اجلاس کے موقع پر وائٹ ہاوس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہنماوں نے چین کے خلاف سٹریٹیجنک مقابلے کے موضوع پر بات چیت کی ہے جس کے بعد بیلڈ بیک بیٹر ورلڈ یا بی تھری ڈبلیو یعنی عالمی سطح پر تعمیر نو کے ایک نئے منصوبے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے ۔ بیان کے مطابق اس شفاف شراکت داری میں ترقی یافتہ جمہوری ممالک چار سو کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے کورونا سے متاثرہ ترقی پذیر دنیا میں انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے ۔ خیال رہے کہ بیجنگ نے دنیا کے کئی ممالک میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ نقادین کا کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے چین نے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو مقروض کیا ہے اوروہ ممالک یہ قرض واپس نہیں کر سکیں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو بائیڈن کا چین کو پیچھے چھوڑنے کا یہ منصوبہ کتنا  اور کس حد تک کامیاب ہوتا ہے ۔ دوسری طرف جی سیون کے اجلاس میں چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات ممالک کا یہ گروپ ائندہ برس کے دوران ایک ارب کورونا ویکسین کی خوراکیں مفت فراہم کرے گا ۔ اس سال سات کروڑ خوراکیں عطیہ کی گئی ہیں جن میں سے نصف غیر جی سیون ممالک کو بھیجی گئی ہیں

جی سیون کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر چین کا سخت ردعمل سامنے ایا ۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ وقت گیا جب دنیا کی قسمت کا فیصلہ چھوٹے گروپ کے ہاتھ میں تھا ۔ چین نے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا متبادل لانے کی جی سیون کے منصوبے کو ناممکن ، جبری مشقت  کے الزام کو جھوٹا اور سنگیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بہتان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پر چھوٹے گروپ کی حکمرانی نہیں چلتی۔ چین نے واضح طور پر متنبہ کیا ہے کہ وہ دن ختم ہو چکے جب چھوٹے ممالک کے گروپ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے ۔ ان چھوٹے گروپوں کے تراشے گئے نام نہاد اصول نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے اصولوں پر مبنی عالمی نظام ہی اصلی بین الاقوامی ارڈر ہے

چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کے حوالے سے جارحانہ رویہ اپنا رکھا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انے والے دنوں یا مہینوں میں دونوں طاقتوں کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں جس کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہونگے

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles