27.4 C
Pakistan
Monday, July 4, 2022

کیا مستقبل قریب میں پاکستان غذائی بحران کا شکار ہو جائے گا ؟

تحریر:میاں افتخارالحسن

گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بھوک کا شکار ممالک کی تعداد ایک سو سولہ  ہے جن میں پاکستان بانوے نمبر پر ہے ۔جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں شہریوں  کی کثیر تعداد کو ضرورت کے مطابق خوراک میسر نہیں ہے ۔ممکنہ خوراک یا غذا کی قلت کے خطرے کے پیش نظر پاکستان کی حکومت قلیل المدتی ، وسط مدتی  اور طویل المدتی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے ۔دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر فوڈ سکیورٹی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے تحقیقاتی کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،مگر ماہرین کے مطابق پاکستانی سائنس دانوں کیلئے اس چیلنج سے نبردآزما ہونا آسان نہیں ۔

پاکستان میں ممکنہ غذائی بحران کی وجوہات

عام طور پر اس ممکنہ غذائی بحران کی وجوہات ،موسمی تغیرات ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور روس یوکرین جنگ  کو قرار دیا جاتا ہے جبکہ ہر شہر کے گردو نواح میں  زرعی زمینوں پر بننے والی بے تحاشہ ہاؤسنگ سکیمیں  بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے ۔سب سے پہلے اگر بات کی جائے   موسمی تغیرات کی تو اس کے شدید مضر اثرات اب دکھائی دینا شروع ہو گئے ہیں ۔پاکستان آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے اوپر چلا گیا ہے ۔زرعی رقبوں کیلئے ضرورت کے مطابق پانی دستیاب نہیں ، پاکستان کے ڈیمز اور بیراجوں ، سکھر بیراج، پنجند بیراج ،چشمہ بیراج ، منگلا اور تربیلا ڈیم   میں پانی خشک ہو چکا یا انتہائی درجے کم ہو چکا ہے ۔دریاؤں اور نہروں سے مطلوبہ مقدار میں پانی نہ ملنے سے فصلوں کی پیداوار کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ماہرین کا خیال ہے کہ مارچ کے مہینے میں شدید گرمی کے باعث گندم کی گروتھ کو نقصان پہنچا ہے اور گندم کی بالیوں سے دانے پکنے سے پہلے ہی گر گر ضائع ہو گئے ۔اسی طرح آم کی فصل کو گرمی سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔پاکستان میں رواں برس مطلوبہ مقدار میں گندم پیدا نہیں ہو سکی اور حکومت دوسرے ملکوں سے گندم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ایک طرف تو شدید گرمی کی وجہ سے نہروں میں پانی نہیں آ رہا تو دوسری طرف دیہات میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیوب ویل کے پانی کی دستیابی کو بھی ناممکن بنا دیا ، یہی وجوہات ہیں کہ اس وقت  پاکستان کے زرعی سیکٹر میں بحرانی کیفیت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی کسانوں کو بری طرح سے متاثر کیا ہے ،کاشتکاری لاگت میں اضافے سے بچنے کیلئے اب کسان کم زمینوں پر فصلیں کاشت کر رہے ہیں اور صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ پاکستان پر غذائی قلت کی تلوار لٹک رہی ہے ،رواں برس حکومت نے گندم کا پیداواری ہدف اُنتیس ملین ٹن مقرر کیا تھا لیکن گندم کی پیداوار اس ٹارگٹ سے دو ملین یعنی بیس لاکھ ٹن کم پیدا ہوئی  جبکہ پاکستان کی ضرورت تیس ملین ٹن سے زیادہ ہے ،یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں ،بحران کی شدت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔اس کے ساتھ جڑا دوسرا پہلو انتہائی خوفناک ہے ،اپنی عوام کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اگر حکومت گندم امپورٹ کرتی ہے تو گندم کی فی من قیمت تریپن سو  روپے تک پہنچ جائے گی جبکہ حکومت نے گندم کی فی من قیمت بائیس سو روپے مقرر کی ہے جس کی مد میں حکومت کو سترہ ارب روپے ماہانہ سبسڈی دینا پڑ رہی ہے ۔اگر امپورٹ کرنے کی صورت میں گندم کی قیمت تریپن سو روپے فی من ہوتی ہے تو حکومت کو یا تو اپنی مقرر کردہ قیمت میں اضافہ کرنا ہوگا یا پھر سبسڈی دینا پڑے گی جو ان حالات میں مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے پاکستان میں ہر شہر کے گردو نواح میں ہاؤسنگ سکیموں کی بھرمار ہے ، اور یہ تمام ہاؤسنگ  سوسائیٹیز زرعی زمینوں پر بنائی گئی ہیں ۔ ہاؤسنگ سکیمیں بننے سے زرعی رقبہ تیزی سی کم ہوا اور ہو رہا ہے کسی نے

 نہیں سوچا یہ ہم کیا کر رہے ہیں اس کے نتائج کیا ہونگے ، آج سے چند سال قبل یعنی دو ہزار اٹھارہ میں گندم کے میدان خودکفیل ملک یوکرین سمیت دیگر ممالک سے گندم امپورٹ کرنے پر مجبور ہو چکا ہے اور اس کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں کیا جا رہا ہے جہاں لوگ بھوک کا شکار ہیں ۔

ان تمام مسائل کا حل مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے ۔پاکستان اُن دس ملکوں میں شامل ہے جن کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصانات کا سامنا ہے ۔زرعی فصلوں کی زیادہ قوت برداشت کی حامل نئی اقسام کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے ،زرعی ماہرین فصلوں کیلئے ایسا پیٹرن تجویز کریں جو موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کر سکے ۔حکومت عالمی تاجروں کو پیسے دینے کی بجائے پاکستانی کاشتکاروں کو سہولتیں دے تاکہ وہ نیشنل فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنا سکے۔ اب بھی وقت ہے شہروں کے گردونواح میں بننے والی ہاؤسنگ سکیموں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے ۔ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
19,800SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles