کون ہو گا کشمیر کا اگلا وزیراعظم ؟چار ممکنہ نام سامنے اگئے

0
17

تحریروترتیب۔میاں افتخارالحسن

ازاد کشمیر کا نیا وزیراعظم کون ہوگا؟ جوڑ توڑ شروع ہو گیا ۔ پی ٹی ائی ازاد کشمیر میں ہونے والے عام انتخابات میں سب سے سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ، پی ٹی ائی کو پچیس ، پیپلزپارٹی کو گیارہ اور ن لیگ کو چھ نشستیں ملیں ۔یوں پی ٹی ائی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ازاد کشمیر میں الیکشن مہم کے دوران تینوں جماعتوں پی تی ائی، پی پی اور ن لیگ نے بھر پور مہم چلائی ۔ مریم نواز ، بلاول بھٹو ، ٓصفہ بھٹو اور عمران خان سمیت پی ٹی ائی رہنماوں نے خوب جان ماری ۔ ان جلسوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی ۔ مریم نواز نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا تو عمران خان کے ساتھیوں خاص طور پر علی امین گنڈا پور نے مریم نواز کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی ۔ تاہم مہم ختم ہو چکی الیکشن بھی ہو گا ۔پی ٹی ائی کا نتیجہ وہی ایا جو الیکشن سے ایک رو زقبل گیلپ سروے کی رپورٹ میں ایا تھا ۔ تاہم اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ازاد کشمیر کا وزیراعظم کون ہوگا ؟ اس کے لئے دوڑ شروع ہو گئی ہے ۔ اب تک بیرسٹر سلطان محمود اور سردار تنویر الیاس کے درمیان وزیراعظم کے لئے مقابلہ جاری ہے ۔ سردارتنویر الیاس پہلی دفعہ ازاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ سیاست میں ہی نو وارد ہیں تو غلط نہ ہو گا تاہم وہ معاملات کو سنبھالنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اور وزیراعظم عمران خان کے خاصی قریبی سمجھے جاتے ہیں ۔اُن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں وزیراعظم کی ذمے داریاں سونپی گئیں تو وہ وزیراعظم عمران خان کے اعتماد پر پورا اتریں گے ۔ اور مایوس نہیں کریں گے ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ازاد کشمیر کے وزیراعظم کے طور پر ذمے داریاں سنبھالنے کو تیار ہیں

اس کے ساتھ ساتھ سردار تنویر کو  معاشی شعبے میں تجربے کی وجہ سے انھیں کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح ٹائل مینوفیکچرنگ، آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر سمیت مختلف شعبہ جات میں اس گروپ کی 13 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ اس گروپ نے دیگر کاروبار سمیت میڈیا انڈسٹری کی طرف بھی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔ سردار میڈیا گروپ نے چار ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں جو گذشتہ سال 64 کروڑ روپے کی بولی کے ذریعے جیتے گئے تھے۔

ان میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز، انٹرٹینمنٹ، ریجنل لینگویجز اور سپورٹس شامل ہیں، جبکہ سردار میڈیا گروپ کے پاس ایف ایم ریڈیو کے چار لائسنس بھی موجود ہیں اور ایشین نیوز کے نام سے اخبار کا ملک کے پانچ بڑے شہروں سے اجراء کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔وزیراعظم عمران خان کی نگاہ  میں ہیں۔پاکستان کے 2018 کےعام انتخابات میں انہیں پنجاب کی عبوری کابینہ میں نگران صوبائی وزیر کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ عام انتخابات کے بعد بھی پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی برائے تجارت اور سرمایہ کاری ہیں اور پنجاب میں سرمایہ کاری بورڈ کی چیئرمین شپ بھی ان کے پاس ہے.

۔ دوسری طرف بیرسٹر سلطان محمود پرانے کھلاڑی ہیں اور اب تک متعدد بار اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں بلکہ دو مرتبہ ازاد کشمیر کے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں ۔ وہ اپنے اپ کو وزیراعظم کے لئے سب سے زیادہ اہل سمجھتے ہیں ۔ ذرائع تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اُنہوں نے وزیراعظم کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر انہیں وزیراعظم کا منصب نہ دیا گیا تو وہ انتہائی اقدام بھی اٹھا سکتے ہیں ۔ اس بیان سے اُن کے ارادے بھی جانے جا سکتے ہیں کہ وہ کسی طور بھی وزیراعظم کا عہدہ کسی اور کو دینے کے حامی نہیں ہیں بلکہ اس کے لئے پوری جدو جہد کر رہے ہیں ۔ ادھر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ازاد کشمیر کا وزیراعظم کون ہوگا ابھی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ وزیراعظم کے ھوالے سے عمران خان حتمی فیصلہ کریں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان سابق تجربہ کار کھلاڑیوں میں سے کسی کا انتخاب کرتے ہیں یا انہیں ازاد کشمیر میں بھی کوئی کسی عثمان بزدار کی تلاش ہے ۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان  نے قریبی رفقاء سے مشاورت شروع کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا  جس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لیے ناموں پر مشاورت ہوئی ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اجلاس میں وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، فواد چودھری، علی امین گنڈاپور شریک ہوئے۔

ذرائع نے یہ بھی  بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیرکے وزیر اعظم کے معاملے پر مزید مشاورت کا بھی فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ آزادکشمیر کے وزیراعظم کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

سردار تنویر الیاس اور بیرسٹر سلطان محمود  کے ساتھ ساتھ اب دو مزید نام بھی سامنے ائے ہیں جن میں تحریک انصاف کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  کے رکن خواجہ فاروق اور پارٹی میں نووارد انوارالحق کا نام بھی  ممکنہ وزرائے اعظم کی فہرست میں گردش کرنے لگا ہے  تاہم ان چاروں میں کون خوش قسمت ثابت ہوگا تو جسے پیا چاہے وہی سہاگن ہووے۔

خواجہ فاروق احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل اور کشمیر کے معروف سیاستدان ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود کے پرانے ساتھی 2016 میں بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لیا تھا، لیکن  ہار گئے تھے۔ تاہم اس دفعہ انھوں نے ایل اے 29 مظفر آباد سے 13 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے مسلم لیگ ن کے دو مرتبہ مسلسل جیتنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

ان کے کریڈٹ پر ایک اور بڑی سیاسی فتح بھی ہے انہوں نے آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان کو انتخابات میں ہرایا تھا۔وہ پاکستان تحریک انصاف کشمیر کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں، جبکہ 1996 سے 1998 تک وزیر بجلی بھی رہے ہیں۔ 2003 میں انھیں ہائیڈل پاور منصوبے میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے احتساب بیورو نے گرفتار بھی کیا تھا۔ کئی حلقے انہیں کشمیر کا وسیم اکرم پلس بھی قرار دیتے ہیں۔

چوہدری انوارالحق کا تعلق بھمبر آزاد کشمیر سے ہے وہ پہلی مرتبہ 2006 میں بیرسٹر سلطان محمود کی جماعت پیپلز مسلم لیگ سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب  ہوئے تھے  2011 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور ڈپٹی سپیکر اور وزیر بنے۔ اب ان کی تحریک انصاف میں آمد سردار تنویر الیاس کے ذریعے ہوئی اور این اے سات بھمبر میں ن لیگ کے مضبوط امیدوار چودھری طارق فاروق کو شکست دی۔

پارٹی میں نووارد ہونے کی وجہ سے ان کی تحریک انصاف کے اندر مخالفت تو ہےلیکن حلقے  میں ریکارڈ ووٹ اور ن لیگ کے امیدوار کو عبرتناک شکست دینے کی وجہ سے وزارت اعظمی کے امیدوار سمجھا جارہا ہے۔

اب ان چاروں میں کس کا نام فائنل ہوگا اس کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here