کورونا وائرس ،کیا دنیا تبدیل ہو گئی ؟

0
17

تحریر:سی نیوز ڈیسک

گزشتہ ایک برس سے کورونا وائرس جیسے موذی مرض نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جن میں برطانیہ، امریکہ ، فرانس ، اٹلی اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں اس وبا کا شکار ہیں اور یہ وہ ممالک ہیں جا کا ہیلتھ سسٹم انتہائی مظبوط ہے ۔ ان ممالک کا صحت کے نظام کی دنیا میں مثالیں دی جاتی ہیں ۔ مگر کورونا وائرس نے سب کچھ اُلٹا پلٹا کے رکھ دیا ۔لاکھوں لوگ اس کا شکار ہوئے اور اب بھی اس تعداد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے جبکہ اس وائرس سے زندگی کی بازی ہارنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے اور اس وقت بھی ہسپتال بھرے پڑے ہیں ۔

سب سے پہلے اس وائرس نے چین کے شہر وہان میں پنجے گاڑھے۔ اُس وقت دنیا کے دیگر ممالک کو اس وائرس کے حوالے سے کوئی خاص معلومات نہیں تھیں ووہان سے ٓنےو الی خبریں ہر ایک کو حیران ضرور کر رہی تھیں مگر شائد کسی کے وہم و خیال میں بھی نہیں تھا بہت جلد ساری دنیا اس کی لپیٹ میں ہوگئی ،چونکہ وائرس پہلے ووہان میں پھیلا اسہ لحاظ سے دنیا جب اس کا شکار ہوئی تو بعض رہنماوں نے اسے ووہان وائرس کا نام دیا جن میں اُس وقت کے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سر فہرست تھے ۔جس کا چین کی جانب سے بھی بھر پور جواب دیا گیا۔ جو کچھ بھی تھا وائرس سے دنیا متاثر ہوتی جا رہی تھی ۔ ایک کے بعد دوسرا ملک اس کی لپیٹ میں ا رہا تھا ۔ اٹلی اورسپین میں اموات کی تعداد نے دنیا بھر کو ہلا کے رکھ دیا ۔ جبکہ امریکہ اور چین کے درمیان اس وائرس پر باقاعدہ ایک لفظی جنگ جاری تھی  تاہم چین نے جس انداز سے کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے کنٹرول کیا اور اس کا شکار مریضوں کا علاج معالجہ کیا دنیا نے اس کی بھی بہت تعریف کی

ایک طرف تو وائرس پھیلتا جا رہا تھا اور دنیا اہم شخصیات جن میں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن بھی شامل ہیں اس کا شکار ہوئے تو دسوری طرف شعبہ میڈیکل سے منسلک ماہرین نے اس پر ریسرچ کا  اغاز بھی کیا تاکہ اس مرض کی کوئی دوا تیار کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کئی کمپنیوں نے کورونا ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کیا اور اب تقریبا دنیا کے  تمام ممالک میں لوگوں کو ویکسین لگائی بھی جا رہی ہے ۔ مگر اس کے باوجود یہ وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ پاکستان میں بھی اس وائرس کی پہلے ایک لہر ائی پھر دوسری اور تیسری لہر جاری ہے جس کے بارے میں این سی او سی کا دعوی ٰ ہے کہ زیادہ شدید اور خطرناک ہے ۔کورونا وائرس کے مریضوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے

اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ کورونا کی نئی قسم ہے جو برازیل اور جنوبی افریقہ سے پھیلی ۔ برازیل بھی دنیا کے اُن ممالک میں سے ایک ہے جہاں کورونا وائرس سے زندگی مفلوج ہو گئی ۔ اب یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ موجودہ ویکسین وائرس کی اس نئی قسم پر موثر ہے یا نہیں ؟ جس پر ماہرین کی  ارا بھی سامنے ا رہی ہیں ۔ تاہم جو کچھ بھی ہے صورتحال گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتی جا رہی ہے ۔

ایک بات اب طے ہے  کہ اس وائرس نے دنیا اور یہاں رہنےو الے لوگوں کا طرز زندگی مکمل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔اس وقت دنیا میں ہر کوئی اُن حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جو وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لئے پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ انسان جو ازاد پھرتا تھا اب اپنی ازادی کو کم کرنے پر سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے ۔ اور ایسے تدابیر اختیار کر رہا ہے کہ جن سے اس وائرس سے محفوظ رہ سکے ۔۔دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کورونا سے ہر شخص تنہا ہو گیا ہے ۔ سماجی فاصلہ اپنانے کی ٓصورت میں اس کی تنہائی میں مزید اضافہ  ہوا ہے ۔

دفاتر میں کام کرنے والوں کا نیا دفتر اب اُن کا گھر ہے ۔ آسٹریلیا کی بانڈ یونیورسٹی میں اداروں کے کام کے انداز کے ماہر لبی سینڈر کے مطابق آفس سے دور بیٹھ کر کام کرنے کو معمول بنانے میں کورونا وائرس ایک نقطۂ آغاز ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف گھر میں رہ کر زندگی گزاریں ۔۔اب دنیا بھر میں یہ درس دیا جا رہا ہے ۔ اس سے انسانوں کی تفریح کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ اب انسان سب سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے ہی کس طرح سے تفریح کا سامان کیا جا سکتا ہے ؟ دوسری طرف  اس وقت لوگوں میں تفریح اور مسائل سے فرار ہونے کی کی خواہش میں ایسا اضافہ ہوا ہے جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں ایا تھا ۔۔غرضیکہ دنیا کو ئی ایسا شعبہ نہیں جس پر کورونا وائرس کے اثرات نہ دیکھے جا سکتے ہوں ۔۔اس وائرس نے انسان کی سوچ تک کو متاثر کیا ہے ۔

پرہجوم جگہوں پر جانا اور سیرو سیاحت کا خواہش مند یہ انسان اب زندگی تنہا گزارنے کو ترجیح دینے لگا ہے ۔وائرس نے اسے مجبور کر دیا ہے کہ یہ سماجی فاصلہ اختیار کرے ۔ تاہم اس سماجی فاصلے کے جہاں نقصانات ہیں وہئیں ماہرین نے اس کے کئی فائدے بھی بیان کئے ہیں مثال کے طور پر دنیا میں کئی مقامات پر سیر سیاحت کے نام پر ہر وقت ایک ہجوم اکٹھا رہتا تھا جس وجہ سے وہاں کے رہنے والوں کو شدید دشواریوں کا سامنا تھا اسی طرح فضائی الودگی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا تھا جس میں کورونا وائرس کی سے نمایاں کمی ہوئی اگرچہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو پروازیں منسوخ کرنے یا ان پر پابندیوں کے اطلاق کے باعث اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا مگر الودگی شائد اس بھی بڑا مسئلہ تھا ۔ اسی طرح میڈیکل کے شعبہ میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اب ماہرین اس شعبے میں مزید جدت کے لئے کوشاں ہیں ۔ ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہم دنیا کو ایک مختلف نطر سے دیکھ سکتے ہیں جو ہمیں یہ جاننے میں مدد دے گا کہ وائرس کی وجہ سے دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں ائیں اور ائندہ برسوں میں کیا کیا تبدیلی اسکتی ہے ؟ کورونا ویکیسن کے حوالے سے اس وقت دنیا میں ایک عجیب و غریب مقابلہ جاری ہے دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ڈپلومیسی کی ایک نئی شکل نے جنم لے لیا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here