ڈینگی کیا ہے؟ ڈینگی کیسے  پھیلتا ہے؟ ڈینگی کی علامات کیا ہیں ؟

0
21

سی نیوز ڈیسک

آج کل پاکستان میں ڈینگی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،چاروں صوبوں میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں  اضافہ ہر شہری کے لئے پریشانی کا باعث ہے ۔ ن لیگ کے دورے حکومت میں بھی ڈینگی کے حملوں میں تیزی آ گئی تھی اور مریضوں سے اسپتال بھر گئے تھے تاہم اُس وقت حکومت کے بروقت اور موثر اقدامات کے باعث ڈینگی پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔گلیوں بازاروں میں سپرے کیا گیا اور مسلسل نگرانی کی گئی تاہم اب کی بار صورتحال مختلف ہے ۔ اب تک حکومت وقت کی جانب سے موثر اقدامات دکھائی نہیں دیئے اگرچہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد آئے روز طویل پریس کانفرنس کرتی ہیں  جن کے ذریعے ڈینگی کی روک تھام کے لئے اقدامات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں تاہم ڈینگی تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ اب اس سے اموات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے ۔ اس ویڈیو میں ہم ماضی اور حال کا تقابلی جائزہ نہیں لیں گے بلکہ یہ جاننے کی کوشش کریں گے ڈینگی کی علامات کیا ہیں ماحتیاطی تدابیر کیا اختیار کی جا سکتی ہیں اور ماہرین اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ۔ ہر شہری کے لئے ڈینگی کی علامات، احتیاطی تدابیر ،علاج معالجے اور ماہرین کی آرا کے بارے میں جاننا ضروری ہے کیونکہ سب کچھ حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔

اگر ڈینگی کی علامات کے بارے میں غور کیا جائے تو اس  کی کئی علامات ہیں جن میں اچانک تیز بخار، شدید سردرد، آنکھوں کے پیچھے درد، جوڑوں اور مسلز میں شدید تکلیف، تھکاوٹ، قے، متلی، جلد پر خارش (جو بخار ہونے کے بعد 2 سے 5 دن میں ہوتی ہے) خون کا معمولی اخراج (ناک، مسوڑوں سے یا آسانی سے خراشیں پڑنا) قابل ذکر ہیں۔اکثر اوقات علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے اور انہیں فلو یا کسی اور وائرل انفیکشن کا نتیجہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے۔

چھوٹے بچوں اور ایسے افراد جو پہلے ڈینگی سے متاثر نہ ہوئے ہوں، ان میں بیماری کی شدت زیادہ عمر کے بچوں اور بالغ افراد کے مقابلے میں معمولی ہوتی ہے۔

مگر سنگین مسائل کا خطرہ ہر مریض میں ہوسکتا ہے جیسے ڈینگی ہیمرج بخار جو بہت تیز بخار کی ایک پیچیدگی ہے، لمفی اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنا، ناک اور مسوڑوں سے خون بہنا، جگر بڑھ جانا اور گردشی نظام فیل ہونا۔

سنگین علامات کے نتیجے میں خون کا اخراج بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے اور موت کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

کمزور مدافعتی نظام کے مالک افراد یا دوسری یا کئی بار ڈینگی کا سامنا کرنے والے لوگوں میں ڈینگی ہیمرج بخار کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ تما م ڈینگی کی علامات ہیں اور ان کے ظاہر ہونے پر کسی صورت غیر ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے فورا اچھے معالج کے پاس جانا چاہے تاکہ ڈینگی شدید صورتحال اختیار نہ کر جائے 

اب اگر ڈینگی کی تشخص کی بات کی جائے تو اس میں سب سے پہلے علامات ظاہر ہونے پر بلڈ ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ ڈینگی کنفرم ہو جائے ۔

سب سے اہم اور بڑی بات یہ ہے کہ ابھی ڈینگی انفیکشن کے علاج کے لئے کوئی مخصوص دوا نہیں ہے ۔تاہم پیراسیٹا مول استعمال کی جا سکتی ہے ۔ ڈینگی کے مریضوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسپرین کا استعمال ہر گز نہ کریں کیونکہ اسپرین خون کا اخراج بدتر کر سکتی ہے ۔

ڈینگی کے مریضوں کو آرام اور زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سے رجوع انتہائی ضروری ہے ۔اگر بخار کم ہونے کے بعد ابتدائی 24گھنٹے میں حالت زیادہ خراب ہو تو فوری اسپتال جانا چاہیے ۔

ڈینگی کی تشخیص کے بعد مریض کو احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا چاہیں ۔ وہ کون کونسی احتیاطی تدابیر ہیں جو ڈینگی کے حملے میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں ۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں تو اپنے تحفظ کے لیے موسکیٹو ریپیلنٹس کا استعمال کریں چاہے گھر یا دفتر سے باہر ہو یا چار دیواری کے اندر، گھر سے آستینوں والی قمیض اور پیروں میں جرابیں پہنے، گھر میں اے سی ہو تو اسے چلائیں، کھڑکیاں اور دروازوں میں مچھروں کی آمد روکنا یقینی بنائیں، اے سی نہیں تو مچھروں سے بچاؤ کے نیٹ استعمال کریں۔

اسی طرح مچھروں کی آبادی کم کرنے کے لیے ان کی افزائش کی روک تھام کی تدابیر پر عمل کریں جیسے پرانے ٹائروں، گلدان اور دیگر میں پانی اکٹھا نہ ہونے دیں۔

اگر گھر میں کسی کو ڈینگی ہوگیا ہے تو اپنے اور دیگر گھر والوں کے تحفظ کے لیے بہت زیادہ احتیاط کریں۔

جس متاثرہ فرد کو جن مچھروں کے کاٹنے سے ڈینگی ہوا وہ گھر میں دیگر افراد میں بھی اس بیماری کو پھیلا سکتے ہیں۔

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے 

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ ڈینگی ہے کیا اور یہ کیسے پھیلتا ہے ۔ پاکستان اور پوری دنیا میں ڈینگی پھیلانے والا مچھر ایڈیِز ایجپٹی ہے۔ دھبے دار جلد والا یہ مچھر پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے بعد ستمبر سے لے کر دسمبر تک موجود رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ مچھر 10 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت میں پرورش پاتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ درجۂ حرارت میں مر جاتا ہے۔

ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ نر سے ملاپ کے مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔

ایڈیِز ایجپٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش صاف اور ساکت پانی میں ہوتی ہے جس کے لیے موافق ماحول عام گھروں کے اندر موجود ہوتا ہے۔

ڈینگی کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ملیریا اور ڈینگی میں فرق اس مرض کا مہلک ہونا ہی ہے جبکہ اس کے لئے ماسوائے احتیاطی تدابیر کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ۔طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی کے مرض سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر لوگوں کی توجہ صرف گندے پانی کی جانب جاتی ہے لیکن صاف پانی بھی اس مرض کو پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 

مچھر دانیوں اور سپرے کا استعمال لازمی کرنا چاہیے کیونکہ ایک مرتبہ یہ مرض ہوجائے تو اس وائرس کو جسم سے ختم ہونے میں دو سے تین ہفتوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔صفائی کو قائم رکھ کر اگر مچھروں کی افزائش کا ماحول ہی ختم کر دیا جائے تو اس مرض کا خاتمہ ممکن ہے اور ترقی یافتہ ممالک نے اسی طرح اس مرض پر قابو پایا ہے۔

ڈینگی ایک متعدی مرض ہے؟

یہ بات صرف مفروضہ ہے کیونکہ ڈینگی مچھروں کے ذریعے ہی پھیلتا ہے یہ کسی فرد سے براہِ راست نہیں لگ سکتا۔

تاہم اگر کوئی عام مچھر کسی ڈینگی کے مریض کو کاٹے تو اس میں بھی ڈینگی وائرس منتقل ہو جاتا ہے اور یہ مچھر ایک ڈینگی مچھر جتنا ہی موذی ثابت ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈینگی کے مریضوں کو خاص طور پر مچھر دانیوں میں رکھا جاتا ہے

اُمید ہے اس ویڈیو سے لوگوں کو ڈینگی کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونگی جو ان کو ڈینگی سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here