چھاتی کے کینسر سے بچائو

0
19

تحریر:مدثر قدیر

قیصرہ آنٹی کا المیہ تھا کہ ان کی شادی نہ ہوسکی اور اب چھاتی میں نکلی گلٹی نے انھیں ہلا کر رکھ دیا تھا یہ گلٹی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور اپنی جڑیں ان کے جسم میں مضبوط کررہی تھی جس کی وجہ سے ہونے والی تکلیف بھی ان سے برداشت نہ ہوپارہی تھی نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹروں نے ان کی بائیں چھاتی کا آپریشن کرکے اسے نکال دیا مگر گلٹی کی جڑیں کینسر کی صورت اختیار کرگئیں اور آخر کار وہ ایک سال کے اندر وفات پاگئیں یہ صرف قیصرہ آنٹی کا المیہ نہیں تھا بلکہ یہ تمام خواتین کی صحت کی بات ہے جو چھاتی کے کینسر سے نبرد آزما ہوتی ہیں ۔
چھاتی کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس کی علامات،پیچدگیوں اور علاج کے حوالے سے نہ صرف خواتین بلکہ مرد حضرات کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے جب میں اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری میو ہسپتال ڈاکٹر رانا سہیل سے بات کی تو ان کا کہنا تھاکینسر چھاتی کا ہو یاپھر کئی بھی دوسری قسم کا اسے موت کے نام سے تشبیہ دی جاتی ہے،ماضی کی طرح کینسر اب لاعلاج نہیں رہا اب تو سائنس کی ترقی کی بدولت اس کا علاج کرنا آسان ہوتا جارہا ہے مگر اب بھی اس کا علاج کرانا غریب آدمی کے بس کی بات نہیں ۔جدید ریسرچ کے مطابق چھاتی کا کینسر ایسا کینسر ہیجس کی تشخیص اگر ابتدائی اسٹیج پر ہوجائے تو اس کا مکمل علاج ممکن ہے اس کو خواتین کا کینسر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ 90 فی صد سے ذائد خواتین اس کا شکار ہوتی ہیں جبکہ مردوں میں اس کی شرح نہ ہونے کے مترادف ہے۔عام طور پر یہ کینسر بوڑھی عورتوں میں پایا جاتا ہے لیکن موجودہ دور میں نوجوان لڑکیوں جن کی عمر 21 سال سے 27 سال تک ہے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ دونوں میں پایا جاتا ہے۔خصوصاََ بے اولاد عورتوں میں اولاد والی عورتوں کی نسبت ذیادہ پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر رانا سہیل کا بریسٹ کینسر کی علامات پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا بریسٹ کینسر کی عام طور پر جو علامات ظاہر ہوتی ہیںان میں چھاتی میں گلٹی کا بننا،چھاتی کے ایک طرف یا دونوں طرف بوجھ کا محسوس ہونا یا بھاری پن۔نپل کا سکڑنا اندر کی طرف دھنس جانااورنپل سے کسی قسم کی رطوبت کا اخراج اس کے علاوہ بریسٹ کینسر کی صورت میں اگر پھپڑے یا جگر متاثر ہوتیہیں تو سانس کا پھولنا، پیٹ میں پانی کا پڑھ جانا، کمر درد اور شدید تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں ۔بریسٹ کینسر کی چار قسمیں ہوتی ہیں۔پہلی اور دوسری تو عام طور پر ابتدائی علاج کے ساتھ اور احتیاط کے ساتھ ہی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔تیسری اور چوتھی قسم بھی بروقت علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہیںلیکن اس میں پیچیدگیاں بہت ہوتی ہیں یہاں تک کہ سرجری بھی ہو سکتی ہیجس کی وجہ سے خواتین کو چھاتی سے محروم ہونا پڑتا ہے اس بات پر میں حیران ہوا مگر ڈاکٹر صاحب نے میرے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہاں سے پلاسٹک اور کاسمیٹکس سرجن کا کام شروع ہوجاتا ہے یہ بھی سرجری کی ایک جدید مہارت ہے جس میں اعضا ئ کی دوبارہ تعمیر کی جاتی ہے ان کی اس بات سے مجھے ڈاکٹر افضال باجواہ یاد آگئے جو اسسٹنٹ پروفیسر آف پلاسٹک اینڈ کاسمیٹکس سرجری ہیں اور ان کا شمار ان چند گنے چنے سرجن میں ہوتا ہے جو اس فیلڈ سے وابستہ ہیں اپنے موضوع کی مناسبت سے ان سے اظہار خیال کیا تو انھوںنے برملا کہا کہ پلاسٹک سرجن کا کام اس وقت شروع ہوجاتا ہے جب بریسٹ کینسر کی مریضہ کو آپریشن کروانے کا کہ دیا جاتا ہے اور حوالے سے ہماری پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ مریضہ کی بریسٹ کو کیسے بچایا جائے اور اگر بریسٹ کو کاٹنا ہی مقصود ہے تو اس کی recosctruction کیسے کرنی ہے اور ان کے لیے سلیکون کے علاوہ کس میٹریل کا استعمال کرنا ہیدراصل یہی وہ چیزیں ہیں جنرل سرجن اور پلاسٹک سرجن کو الگ الگ اہمیت دیتی ہیںان کا کہنا تھا کہ کینسر کی مریضہ کی سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی ہے کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتی ہے اس لیے جب ایسے کیسز ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم پہلے ان کو سائیکالوجیکل طریقے سے ہینڈل کرتے ہیں ان کو ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کا کہتے ہیں تاکہ یہ ذہنی طور پر کسی بھی متوقع صورتحال کے لیے تیار رہیں ۔پلاسٹک سرجری مہنگا علاج ہے مگر حکومت کی دلچسپی سے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں اس حوالیسے ہرطرح کی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں اور حکومت پاکستان بریسٹ کینسر کی آگاہی کے حوالے سے اکتوبر کاپورا مہینہ مناتی ہے جس میں سرکاری سطح پر اس بیماری سے بچائو اور علاج کی اہمیت پر ذور دیا جاتا ہے۔
صدر پاکستان تو خود بھی بریسٹ کینسر کی آگاہی پر تقریبات میں مفصل گفتگو کرتے رہتے ہیں اور قصرصدر کو بھی گلابی روشنیوں میں چمکایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر افضال باجواہ کا مزید کہنا تھا عام طور پر کلچر،لباس،خوراک، فیشن کواتنا سنجیدہ نہیں لیا جاتا لیکن اس وقت ان چیزوں کو سنجیدہ لینا پڑتا ہے جب مشرق کی بیماریاں مغرب کی جانب اور مغرب کی بیماریاں مشرق کی جانب رخ کرنا شروع کر دیتی ہیںاور مناسب علاج اور مکمل آگاہی نہ ہونے کی صورت میں غریب ممالک کے لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔
بریسٹ کینسر کا احتمال مورثی طور پر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے جرثومے بھی نسل درنسل چلتے ہیں اور جہاں انسانی مدافعتی نظام کمزور ہوا نہیں یہ اپنا کردار ادا کردیتے ہیں۔پاکستان میں سال 2020ئ میں 25928عورتیں چھاتی کے کینسر کی شکایت کے ساتھ ہسپتالوں میں رجسٹر ہوئیں جبکہ دوسرے ڈیٹا کے مطابق دیگر کینسر کی شرح کے مقابلے میں پاکستانی خواتین میں چھاتی کے کینسر کی شرح 14.5 فی صد ہے اور ہر9 میں سے 1خاتون کو چھاتی کا کینسر ہوسکتا ہے جو انتہائی الارمنگ ہے اس سلسلے میں ہمیں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے اپنے آپ کو اس مرض کی گرفت سے بچاسکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here