پی ڈی ایم کا مہنگائی مارچ

0
25

بلی تھیلے سے باہر آگئی ۔۔پی ڈی ایم نے بالآخر حکومت وقت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے ۔مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دیا گیا ہے اور چھبیس مارچ کو اس مہنگائی مارچ کا آغاز ہو گا ۔۔طویل اجلاس کے بعد کئے گئے اعلان کے مطابق چھبیس مارچ کو پورے ملک سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے ۔۔

اجلاس کے بعد مہنگائی مارچ کا باقاعدہ اعلان مولانا فضل الرحمان نے کیا جبکہ مریم نوازاور بلاول سمیت دیگر ر ہنما بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔۔

مولانا نے مزید کہا کہ اُنہوں نے کبھی روالپنڈی میں فیلڈ کا اعلان نہیں کیا بلکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کا نام لیا تھا‘۔ دوسری طرف استعفوں کے سوال پر مریم نواز نے صحافیوں کو حوصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔

واضح رہے پی ڈی ایم نے تیرہ دسمبر دو ہزار بیس کو جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز پر لانگ مارچ کا عندیہ دیا تھا ۔۔اور مختلف مواقع پر استعفے دینے کی باتیں بھی کیں ۔۔


لیکن دسمبر ، جنوری گزر گیا فروری کا بھی آغاز ہو گیا مگر پی ڈی ایم کی جانب سے نہ استعفے آئے اور نہ ہی لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو حکومتی ترجمانوں اور رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کی انتہا کر دی ۔۔مراد سعید نے تو قومی اسمبلی میں حیا ، شرم اور غلاموں جیسے القابات سے اپوزیشن کو نوازا۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ پر مگر لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ میں تبدیل کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے مہنگائی کے ستائے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے ۔کیونکہ عوام ملک میں جاری مہنگائی کی وجہ سے بلبلا اٹھے ہیں ۔ہر طرف شور وغل ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بری طرح سے ناکام ہے

 

جبکہ اس کے جواب میں حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کی بجائے کرپشن کرپشن اور این ار او کا نعرہ بلند کئے ہوئے ہے ۔۔ملک کو لوٹ گئے ، پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے دوسرے ممالک منتقل کر دیا گیا اپوزیشن کو جواب دینا ہوگا۔اور حکومت کی طرف سے یہ بھی موقف اپنایا جاتا ہے کہ اس سارے شوروغل ، چیخ و پکار ، مارچ اور استعفوں کا مقصد ماضی میں کی گئی کرپشن سے بچنا اور کسی نہ کسی طرح این ار او حاصل کرنا ہے ۔۔وزیراعظم عمران خان دوٹوک الفاظ میں اعلان کرتے ہیں این آر او نہیں ملے گا ۔۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں کی باتوں میں وزن ہے ۔۔حقائق بتا رہے ہیں کہ ماضی میں قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا اور پیسہ دنیا کے مختلف ممالک کے بینک اکاونٹس میں منتقل کیا گیا ۔ جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کا یہ کہنا کہ ملک میں مہنگائی کا دور دورہ ہے مافیا حکومت کے کنٹرول میں نہیں اور گڈ گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ان میں بھی کوئی مبالغہ آرائی نہیں ۔۔کیونکہ یہ سب کچھ عوام بھی دیکھ رہے ہیں

اب ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کئی سوالات اٹھتے ہیں ۔۔کیا پی ڈی ایم کا مہنگائی مارچ کامیاب ہو گا یا نہیں ؟ اپوزیشن جماعتیں عوام کو موبلائز کر سکیں گی یا نہیں ؟ کیا عوام اپوزیشن کی کال پر لبیک کہیں گے؟ اسی برح یہ بھی دیکھنا ہے کہ مہنگائی مارچ کو ناکام بنانے کے لئے حکومت کیا لائحہ عمل اپنائے گی ؟
مارچ کامیاب ہو یا نہ ہو سرکس تو لگی گی ۔۔اپوزیشن عوام کو حکومت کے خلاف اٹھانے کی کوشش کرے گی ۔کیونکہ اسی میں ان کی بچت ہے ۔ اس وقت اپوزیشن خاص طور پر ن لیگ اور پی پی پر مشکل وقت ہے حساب دینا پڑ رہا ہے ۔فیصلہ عوام کو ہی کرنا ہے کہ کیا صرف مہنگائی کے نعرے پر اپوزیشن کے جال میں پھنسنا ہے یا نہیں ۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here