پی ایس ایل ۔۔ایک سپر لیگ 

0
20

سی نیوز سپورٹس ڈیسک

 

پی ایس ایل سکس  بھی پاکستان سپر لیگ کے پہلے پانچ ایڈیشنز کی طرح کئی منفرد اور دلچسپ یادیں دامن میں سمیٹے اختتام پذیر ہو گیا ۔ ملتان سلطان  پی ایس ایل سکس کے سلطان ٹھہرے۔جب ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو شائد کسی کو بھی

یقین نہیں تھا کہ ملتان سلطان چیمپئن ہونگے۔ جب فرنچائز نے اچانک کپتانی کی ذمےداریاں وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو سونپنے کا اعلان کیا تو سبھی اس پر حیران تھے مگر فرنچائز اپنے فیصلے پر ڈٹ گئی ۔ اور محمد رضوان نے بھی وہ کردکھایا جس کی بہت کم اُمید تھی ۔ محمد رضوان دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دوران اپنی صلاحتیوں کا بھر پور مظاہرہ  کر چکے اور ان کی کارکردگی  ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ اُن کا بیٹ تیزی کے ساتھ رنز اگل رہا ہے ۔ اور اب تو اُن کی کپتانی میں ملتان سلطان پی ایس ایل سکس کا فاتح بن چکا ۔ جس سے ثابت ہوتا ہےکہ اُن کی کپتانی میں بھی جان ہے۔اور بعض عناصر کی طرف سے جو ڈھنڈورا پیٹا جاتا کہ کپتان کسے بنایا جائے پاکستان کے پاس بہت کم آپشن ہیں اُن کو بھی محمد رضوان کی کارکردگی سے جواب ملا۔

محمدرضوان نے ایونٹ کے 12 میچز میں 45.45کی اوسط اور 127.87کے اسٹرائیک ریٹ سے 500رنز بنائے، ان میں 4نصف سنچریاں شامل تھیں،وکٹوں کے پیچھے 20شکار کرنے پر ان کو ٹورنامنٹ کا بہترین وکٹ کیپر بھی قرار دیا گیا،محمدرضوان پی ایس ایل تیسرے کپتان نامزد ہوئے ہیں، اس سے قبل2019 میں سرفراز احمد اور 2020 میں شاداب خان نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا، پی ایس ایل 6 میں منتخب کردہ 11 کھلاڑیوں کو ایونٹ میں ان کی عمدہ کارکردگی کی بدولت شامل کیا گیا۔

پی ایس ایل سکس کا ذکر ہو اور شاہ نواز دھانی کا ذکر نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا ۔ شاہ نوازدھانی بھی پاکستان کو ملنا والا وہ ٹیلنٹ ہے جو ازخود پیدا ہوا گلی محلے کی سطح پر کھیلتا یہ نوجوان فاسٹ بالر زندگی کی مختلف مشکلات  کا سامنا کرتا بالآخر قومی ٹیم تک پہنچ گیا ، یہ کوئی پہلا کھلاڑی نہیں جو ازخود کھلاڑی بنا کسی نے تربیت نہیں کی مگر وہ ایک بڑاکھلاڑی ہے ماضی میں بھی کئی ایسے نام پاکستان ٹیم کا حصہ بنیں ۔ ملتان سلطان کے لئے شاہ نواز دھانی کا کردار کسی بڑے کھلاڑی سے کم نہیں ۔ بہترین باؤلنگ کی اور میدان میں ہنستے  مسکراتےدکھائی دیئے اُمید ہے کہ وہ قومی ٹیم بھی اسی طرح سے پرفارم کریں گے اور آگے بڑھیں گے ۔

پی ایس ایل ،یقینا پاکستان کے لئے ایک بہت اہم لیگ ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو بڑے کھلاڑی ملنے کی اُمید ہے اس لئے پی ایس ایل کو مزید منظم، بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ صہیب مقصود کی ایک طویل عرصے بعد قومی ٹیم میں واپسی بھی پی ایس ایل کے باعث ہوئی ، صہیب نے دو ہزار سولہ میں اپنا آخری انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا جس کے بعد سے آف کلر تھے تاہم اب ایک بار پھر وہ بڑی اننگز کھیلنے کے قابل ہوئے اُن سے بھی اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھر پور طریقے  پرفارم کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here