پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر۔۔شدت اختیار کر گئی

0
16

سی نیوز ڈیسک

پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر کا خدشہ پیدا  ہو گیا ہے ۔ ملک بھر میں اچانک کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ،ہر ایک کے لئے پریشانی کا باعث بن چکا ہے ۔ چوتھی لہر کتنی خطرناک ہو سکتی ہے اس حوالے سے این سی او سی اور دیگر ادارے قوم کو ٓاگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس لہر کے خطرناک ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھارتی قسم ڈیلٹا ویرینیٹ کا پاکستان میں حملہ اور ہونا ہے ۔ مختلف علاقوں سے ڈیلٹا ویرینیٹ کے کیسز سامنے ٓ رہے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کی اس قسم کے سسب سے زیادہ کیسز سندھ  میں رپورٹ ہوئے ہیں ۔ جس کے بعد سندھ حکومت نے ہنگامی اقدامات کا اغاز کر دیا ہے ۔ تعلیمی ادارے ، ہوٹل بند کر دیئے گئئے ہیں جبکہ مزید پابندیوں کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ کراچی میں حالات زیادہ خراب ہیں جبکہ بھارتی قسم کے کورونا کے مریض ملک بھر سے رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، ڈاکٹر فیصل سلطان اور این اسی او سی کے سربراہ اسد عمر قوم کو بار بار کورونا ایس او پیز پر عمل درامد کے لئے زور دے رہے ہیں ۔ دوسری طرف ڈاکٹر فیصل سلطان عوام کو جلد ازجلد ویکسین لگوانے کی تنبیہ بھی کر رہے ہیں ۔

کورونا کی یہ بھارتی قسم کتنی خطرناک ہے پوری قوم اس کے اثرات بھارت ، برازیل اور دیگر ممالک میں دیکھ چکی ، بھارت میں ہونے والی انگنت اموات نے سب کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ بھارت جس کا ہیلتھ سسٹم انتہائی مضبوط مانا جاتا ہے اس کے لئے اتنی بڑی تعداد میں کورونا سے متاثر ہونے والے لوگوں کو اکسیجن کی فراہمی ممکن نہیں رہی تھی ۔ بھارت میں سڑکوں ، چوراہوں اور دریاوں میں لاشیں بہتی لوگوں نے دیکھیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے

کورونا کی یہ بھارتی قسم کس حد تک خطرناک ہے اور کتنی تیزی کے ساتھ اییک شخص سے دوسرے تک پھیلتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہو چکا ہے پاکستان میں ھالات بگڑنے کا انتطار نہ کیا جائے اور کورونا ایس او پیز پر ہر صورت عمل درامد یقینی بنایا جائے ۔ اعدادوشمار کے مطابق کورونا سے اموات اور کیسز میں  تیزی سے اضافہ ہو رہا ہئے ملک بھر میں رپورٹ ہونے والی اموات اور کسیز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اب تک پاکستان میں بائیس ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔ جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد نو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو مشکلات میں بے تحاشہ اضافہ ہو جائے گا ۔ اگر بھارت جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو پاکستان میں صورتحال  قابو سے باہر ہو جائے گی ۔

پاکستان میں بہت سے لوگ کورونا کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ شہری کورونا ایس او پیز پر عملدرامد نہیں کر رہے ۔ بازاروں اور دیگر مقامات پر عوام کا ہجوم ہے جو خطرناک صوررتحال اختیار کر سکتا ہے ۔ لوگوں کا رویہ بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صورتحال کا ادراک کریں اور کورونا ایس او پیز پر عمل درامد کریں کیونکہ اس میں ان کی اپنی حفاظت اور دوسروں کی حفاظت پائی جاتی ہے ،

پاکستان میں جہاں کورونا کی پہلی، دوسری اور تیسری لہر کے دوران زیادہ نقصان نہیں ہوا اگر اب بھی عوام احتیاط نہ چھوڑیں تو صورتحال کا سامنا کیا جا سکتا ہے تاہم لوگ ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے جس کے باعث خطرات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے دنیا میں کورونا سے ہونے والی تباہی کو سامنے رکھا جائے امریکہ جیسے ملک میں لاکھوں لوگ کورونا سے زندگی کی بازی ہار گئے اسی طرح برزایل اور بھارت میں بھی مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ یہ ہیں وہ تمام حالات جو پاکستانیوں کو احتیاط کرنے پر مجبور کر رہے ہیں

دوسری طرف کورونا ویکسین نہایت ضروری ہو چکی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تمام تشہیر اور تنبیہ کے باجود لوگوں کو اب تک ویکیسن لگوانے پر امادہ  نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ ویکسین کے بارے میں بھی بے بنیاد کہانیاں معاشرے میں گردش کر رہی ہیں ۔ ان کہانیوں میں کسی طرح کی کوئی سچائی نہیں ۔ عوام کو چاہیے کہ فوری طور پر ویکیسن لگوائیں تاکہ کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ کم سے کم ہو سکے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ ھالات قابو سے باہر ہو جائیں تمام لوگوں کو ویکیسن لگوانی چاہیے ۔ تاکہ کورونا کی چوتھی لہر جو کہ انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے اس سے محفوظ رہا جا سکے ۔ اُمید ہے لوگ بے بنیاد پروپیگنڈے پر کان دھرنے کی بجائے حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here