9.8 C
Pakistan
Monday, January 30, 2023

پاکستان میں اساتذہ کی زبوں حالی

تحریر : رانا لیاقت علی

دنیا بھر میں استاد کی عزت و تکریم کے حوالے سے ” ٹیچرز ڈے” منایا جاتا ہے ۔ پاکستان میں یہ دن دنیا بھر کی طرح ہر سال 5اکتوبر کو “سلام ٹیچرز ڈے”کے نام سے منسوب ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس / معاشرے میں استاد کی عز ت و تکریم کو اجاگر کرناہے۔ استاد ایک مسلم حقیقت ہے ۔ کوئی بھی معاشرہ /ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتاجب تک وہ استاد کو اعلی مقام نہ دے کیونکہ قوم کی بیداری اور ترقی استاد کے بغیر ممکن نہیں۔ استاد تعلیمی نظام کی اساس ہے۔ پیشہ معلمی نبی اکرم ﷺسے نسبت رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے لئے لفظ “معلم” کا انتخاب کیا ۔حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی وسیع عریض سلطنت کے خلیفہ ہونے کے بعد بھی آپ کے دل میں کوئی حسرت ہے تو آپ ؓ نے فرمایا ! کاش میں ایک معلم ہوتا۔حضرت علی ؓ کا قول ہے ” جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں وہ چاہے تو مجھے بیچے ، چاہے تو آزاد کرے” سکندر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے والدین مجھے آسمانوں سے زمین پر لے آئے ہیں جبکہ استاد مجھے زمین سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ استاد کی عزت و تکریم ہم سب پر لازم و ملزوم ہے اور یہ مقدس پیشہ ہے۔اسلامی معاشرے میں استاد کواہم مقام دیا گیا اوردیا جاتا رہا ہے۔ اسلام میں استاد کا درجہ روحانی والدین کا ہے ۔ دنیا میں ماں باپ کے بعد استاد ہی بچے کی تربیت کے ذمہ دارٹہرا ہے۔مغربی معاشرہ بھی اپنی ترقی کو استاد کا ہی مرہون منت تسلیم کرتا ہے اور استاد کو دیگر طبقات سے بہتر مقام و سہولیات فراہم کرتا ہے۔ جرمن کے کچھ ڈاکٹرز ، انجینئرز و دیگر نے اپنی تنخواہوں میں اساتذہ سے زیادہ اضافہ کا مطالبہ کیا تو جرمن چانسلر /وزیر اعظم نے جواب دیا کہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ کو اس مقام تک پہنچانے والوں (استاد) سے زیادہ آپ کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا جائے۔مغرب کی عدالت میں جج استاد کے احترام میں کھڑا اور اسے بیٹھنے کے لئے کرسی دینے کا حکم دیتا ہے ۔ طلباء استاد کے سائے تک پر چلنا استاد کی بے توقیر ی سمجھتے ہیں۔ حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کو جب “سر” کا خطاب دیا جانا تھا تو علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا کہ اس خطاب کا حقدار میرا استاد مولوی میر حسن ہیں جن کی وجہ سے میں آج اس قابل ٹہرا ہوں ۔اس خطاب سے میرے استاد کو نوازا جائے پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب ، صوبہ پنجاب کے اساتذہ کرام کی نمائندہ تنظیم ہے جو قیام پاکستان سے نظام تعلیم میں بہتری اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ و ترجمانی کے لئے سرگرم عمل ہے ۔ تنظیم کا آئین و منشور اساتذہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو فرائض منصبی کی ادائیگی کا پابند بناتا ہے کہ اساتذہ ملکی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا کریں۔ ملک پاکستا ن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق سات لاکھ سے زائد سرکاری اساتذہ اور تیرہ لاکھ پرائیویٹ سیکٹرکے اساتذہ معاشی و معاشرتی استحصال کے باوجود ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لئے نئی نسل کی تعلیم و تربیت بھر پور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔پاکستان میں سلام ٹیچرز ڈے ہر سال 5اکتوبر کے دن منانے کا آغاز جنرل مشرف دور میں ہوا۔ شروع میں تو یہ دن بڑی دھوم دھام سے منایا گیا لیکن آہستہ آہستہ اس دن کو منانے کا جوش و خروش حکومتی سطح پر ماند پڑ گیا۔ محکمہ تعلیم سکولز پنجاب کے زیر اہتمام 2017 ایوان اقبال لاہور میں “سلام ٹیچرز ڈے”کی پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا اس میں اساتذہ کو امتحانی رزلٹس /بہترین کارکردگی کی بنیاد پر “سٹار” ایوارڈ و نقد انعامات سے نوازا گیااس کے بعد 2018اور2019میں بھی تقریبات تو منعقد کی گئیں مگر2017 جیسی تقریب نہ ہوسکی۔ اس کے بعد ایسی بھی تقریب میسر نہیں آئی شاید ہمارے سیاسی حالات نے حکمرانوں کو اس طرف توجہ دینے کا موقع ہی نہیں دیا۔ڈاکٹر اللہ بخش ملک سابقہ سیکرٹری سکولز پنجاب موجودہ ممبر پنجاب پبلک سروس کمیشن نے جون2018 میں ایک مراسلہ کے ذریعے تمام انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ لیٹرز میں استاد کے نام کے ساتھ محترم ( آنر ایبل) کا لفظ تحریر کیا جائے۔جو ان کے جانے کے بعد ـدفن ہوچکاہے۔ آج پورے ملک میں اساتذہ معاشی و معاشرتی زبوں حالی کا شکارہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اساتذہ کو معاشی مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔دیگر حکومتی محکمہ جات کے ملازمین کو انکی تنخواہ کے ساتھ تنخواہ کے برابر اضافی الائونسز ، سیکرٹریٹ الائونس ، یوٹیلیٹی الائونس ، دوڈیشنری الائونس ، رسک الائونس تو کسی محکمہ کو ہائوس سیلنگ کے نام پر تنخواہ کے مساوی ہائوس رینٹ دیا جا رہا ہے جبکہ گریڈ 14کا استاد 3321روپے، گریڈ 15کا استاد 3524روپے ، گریڈ 16کا استاد4091 روپے اور گریڈ 17کا استاد 6650 روپے جو ہائوس رینٹ لے رہا ہے اس سے 10*10 کا کمرہ بھی کرایہ پر نہیں ملتا جبکہ دیہی علاقوں میں اس بھی کم ہائوس رینٹ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح میڈیکل الائونس نہ ہونے کے برابر ہے جس سے ایک دن کی میڈیکل سہولت بھی دستیاب نہیں ۔ ستر فیصد اساتذہ کو گھروں سے دور تعلیمی اداروں میں پڑھا نے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ میں ذلیل و خوار ہونا پڑتا بالخصوص خواتین اساتذہ کو دوران سفر صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں اور جو کنوینس الائونس دیا جاتا ہے وہ انتہائی قلیل بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اساتذہ کے لئے چھٹیوں کا تصور ختم ہو چکا ہے۔جب چاہا اساتذہ کو غیر تدریسی ڈیوٹیز تفویض کر دی جاتی ہیں۔پاکستان میں اساتذ ہ کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ اساتذہ اگراپنے جائز حقوق اور مسائل پر آ ہ و بکا کریں تو ان کی آواز دبانے کے لئے انتقامی کاروائیاں اورانہیں ایف آئی آرز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پے پروٹیکشن 14 ہزار SSE’sکی مستقلی ، ٹیچرز پیکج کی منسوخی جیسے دیرینہ مسائل حل طلب ہیں۔مہنگائی نے جہاں دیگر طبقات کو متاثر کیا ہے وہاں اساتذہ بھی اس سے شدید متاثر ہیں۔ اضافی تدریسی و معاشی ڈپریشن سے اپنے فرائض کماحقہ ادا کرنے سے قاصر ہیں۔گزشتہ چار سالوں سے اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں۔سکولوں میں درجہ چہارم کی آسامی ناپید ہے اور جو ہیں وہ بھی خالی ہیں۔درجہ چہارم کی ذمہ داری بھی اساتذہ پر آن پڑی ہے۔ اساتذہ کی نئی بھرتیاں خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ سکولوں کوNSB گرانٹ بروقت اور مکمل نہ ملنے کی وجہ سے استاد معاشرے میں سہمی ہوئی تصویر بنا ہوا ہے۔ ملک پاکستان میں کسی بھی شعبہ پر نظر ڈالیں تو آپ کو تنزلی نظر آئے گی لیکن تعلیمی میدان میں 98% اساتذہ ناموافق حالات کے باوجود کام کرتے ملیں گے اورتعلیمی اداروں میں موجود ہ ہیں۔قیام پاکستان کے وقت شرح خواندگی 18%تھی آج 62.3%کے لگ بھگ ہے۔جبکہ صوبہ پنجاب میں 63%سے زائد ہے۔ جو اساتذہ ہی کی مرہون منت ہے۔اگر حالات بہتر ہوں تو اس میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ ملک پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں بھی اساتذہ کا ہی رول ہے لیکن استاد کسمپرسی کا شکار ہے۔ نہ صحت کی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی رہائشی۔آمد ورفت کیلئے خواری اس کا مقدر بنا دیا گیا ہے۔پچھلے دنوںاعلی پولیس آفیسرز کی طرف سے ماتحت پولیس آفیسرز/اہلکاران کو مراسلہ لکھا گیا کہ کہیں بھی آپ کا سامنا استاد سے ہو تو اس سے ساتھ عزت سے پیش آئو۔اس پر کتنا عمل ہوا یا نہیں ہوا لیکن اسطرح کے احکامات باعث اطمینان ہیں۔ جبکہ دوسری طرف کسی بھی محکمہ کے سیکرٹری کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ بھی اپنے ماتحت عملہ یا دفاتر کو تلقین کریں کہ استادکا احترام کیاجائے یا وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے ایسا کوئی لیٹر جاری ہوا ہو۔حالانکہ ان سب کو اس منصب تک پہنچانے میں کسی نہ کسی استاد کا کردار ہے۔اعلی عہدوں پر فائز سیاسی اور افسرشاہی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اساتذہ اگر ان سے ملنے کی خواہش کریں تو انہیں فوری ملاقات کا وقت دے دیں اور ان کی بات سن لیں۔ اساتذہ کی بات سننے کے لئے آج سیکرٹری سکولز پنجاب اور وزیر تعلیم پنجاب سے ملاقات کا وقت ملنا محال ہو چکا ہے۔ حکومتی و سرکاری تقریبات میں اساتذہ کو مدعو کیا جانا چاہیے تا کہ عوام الناس میں اساتذہ کے وقار میں اضافہ ہو۔اساتذہ کو وفود کی شکل میں غیر ملکی دوروں پر بھی بھیجا جائے ۔ جب غیر ملکی وفود پاکستان آئیں تو ان سے بھی اساتذہ کی ملاقات کا بندوبست کیا جانا چاہیے تا کہ دنیا میں پاکستان کا بہتر امیج جائے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کسی میچ یا جلسہ کی رونق بڑھانے کے لئے یا کسی تقریب میں افرادی قوت ثابت کرنے کے لئے اساتذہ کو طلب کر لیا جاتا ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ حاضری یقینی بنائیں وگرنہ کاروائی ہوگی۔پھر گھنٹوں بے توقیر ی کے بعد واپسی ممکن ہوتی ہے۔ ہم افسر شاہی اور سیاست دانوں سے کیا گلہ کریںہمارے اپنے سی ای اوز ایجوکیشن ، ڈی ای اوز ایجوکیشن، ڈپٹی ڈی ای اوز ایجوکیشن کے دفاتر میں پرائمری سے لیکر گریڈ 20تک کے پرنسپلز ان کے دروازوں پر لاچار کھڑے نظر آتے ہیں۔ صاحب سے ملنے کے انتظار میں رہتے ہیں ، کوئی باقاعدہ ویٹنگ روم نہیں بنایا گیا۔ اگر کسی دفتر میں ویٹنگ روم ہے بھی تو برائے نام۔اس میں بھی کوئی اہلکار بیٹھا دفتری امور سرانجام دے رہا ہوتاہے۔پرائمری سکولز میں ہیڈ ٹیچرزکا دفتر اورکوئی باقاعدہ سٹاف روم نہیں ، بوائز سکولز میں خواتین اساتذہ کے لئے الگ سٹاف رومز نہیں ہیں۔ خواتین اساتذہ کے لئے شیر خوار بچوں کو ہمراہ لانے پر پابندی ہے۔ جو حقوق نسواں اور حقوق اطفال کی نفی ہے۔ سہولیات کی عدم فراہمی روایت بن چکی ہے۔ اگر اساتذہ کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائیں جاتے ہیں تو اقدامات اٹھانے والے ہی اس کی پامالی شروع کر دیتے ہیں۔میرٹ پر آن لائن ٹرانسفرز کا آغاز رشوت اورسفارشی کلچر کا خاتمہ تھا لیکن ایکسٹریم ہارڈ شپ نے اس کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔اساتذہ کو کسی کے اختیارات پر اعتراض نہیںما سوائے ان چند سفارشی اور بااثر افراد جو ٹرانسفرز بغیر کسی وجہ سے صرف اساتذہ کمیونٹی میں اپنی دھاک بٹھانے یا اپنے سیاسی دبدبے کو ظاہر کرنے لئے کراتے ہیں۔ چند ماہ قبل کسی استاد کو اس کی نااہلیت پر ٹرانسفر کیا جاتا ہے تو وہ چند ماہ بعدہی اپنے اثر و رسوخ کی بناء پر ایکسٹریم ہارڈ شپ پر دوبارہ اسی سکول میں واپس آجاتاہے ۔یہ تو میرٹ کے منہ پر طمانچہ کے مترادف ہے جو اساتذہ عرصہ دس ، دس سال سے اپنے گھروں سے پندرہ سے پچاس کلومیٹر دور روزانہ جاتے ہیںان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں ۔ تو کیا محرومی کا شکار اور ذہنی پریشان حال استاد بچوں کو دلجمعی سے تعلیم دے سکے گا؟ ہرگز نہیں بچوں پر تشدد کا دفاع کسی صورت نہیں کیا جا سکتا لیکن بچے کی تربیت اور اصلاح کے لئے باز پرس بھی استاد کا جرم بن گیا ہے۔ بال نہ کٹوانا ناخن نہ تراشنا ، صاف ستھرے یونیفارم کا نہ ہونا، کلاس ورک ، ہوم ورک میں عدم دلچسپی، وقت کی پابندی نہ کرنا ، تعلیم میں بچے کی عدم دلچسپی و دیگر معاشرتی برائیوں پر بچے کو ڈانٹنا بعض اوقات استاد کا جرم بن جاتا ہے۔ بغیر تحقیقات /انکوائری استاد کو معطل کر دینا یاسیاسی ایماء پر گھر سے دور دراز ٹرانسفر/ایڈجسٹمنٹ کروانا کیا یہ استاد کے وقار کے منافی نہیں ہے؟۔ہم اپنی نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیںکہ وہ مادر پدر آزاد ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کل کلاں یہ ہی بچے اپنے ماں باپ کا گریبان پکڑ لیں اورپھر والدین منہ چھپاتے پھریں۔ استاد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے ۔ غلطی ہو سکتی ہے لیکن اسے جرم تصور نہ کیا جائے۔خدارا سمجھیں استاد بادشاہ نہیں بادشاہ گر ہوتا ہے۔حکومتی اکابرین، افسر شاہی اور والدین اپنے طرز عمل سے اپنے بچوں پر استاد کی عزت و تکریم واضح کریں ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہوجائے گا۔ہم پہلے ہی پچھتر سالوں میں ایک قوم نہیں بن سکے ۔ایٹمی قوت ہونے کے باوجودیکساں نصاب/ نظام تعلیم نہیں بنا سکے۔ شتر بے مہار کی طرح تعلیم کی فیکٹریاں لگا رہے ہیں۔ اگر استاد کوتاہی کا ذمہ دار ہے تو حکمران بھی اس میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔اگر استاد مہنگائی یا دیگر معاشرتی حالات کی جنبش میں اپنے فرائض میں کوتاہی برت رہا ہے تو اس کی ذمہ دار ریاست ہے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد ہٹلر نے مالی بحران کے پیش نظر ملازمین کی تنخواہیں کم کردیں لیکن حکم دیا کہ کسی استاد کی تنخواہ کم نہ کی جائے۔کہیں استاد مالی و معاشی بدحالی کا شکار ہو کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت سے غافل نہ ہو جائے۔ہمارے ہاں صرف چند محکموں کے ملازمین جو حکمرانوں کی آنکھوں کا تارا ہوتے ہیںان کی تنخواہوں میں بے تحاشہ اضافہ اور اضافی تنخواہوں کے شاہی فرمان جاری ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اساتذہ و دیگر ملازمین کو ڈسپیرٹی الائونس دینے کے لئے حکمرانوں کے ہاتھ پائوں پھو ل جاتے ہیں۔ انہیں خزانہ خالی نظر آنے لگتا ہے۔ اساتذہ کو اپنی مراعات اور حقوق کے تحفظ و حصول کے لئے سڑکوں اور عدالتوں میں جد وجہد کرنا پڑتی ہے۔ لیکن عدلیہ کے فیصلہ جات پر عمل درآمد کے لئے لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے۔غرضیکہ ملک پاکستان میں استاد بے یارو مددگار ہے حکومتی سطح پر اس کی عزت و وقار میں اضافہ صرف نعروں کی حد تک ہے۔ عملی اقدامات کوسوں دور۔ ہر وہ کام جو کوئی محکمہ نہ کر سکے وہ استاد کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔انکار جرم بن جاتا ہے۔سالہا سال اساتذہ ایک ہی پوسٹ پر کام کرتے رہتے ہیں۔پروموشن بڑھاپے میں میسر آتی ہے وہ بھی انتہائی مشکل مراحل کے بعد۔باتیں تلخ ضرور ہیں لیکن حقائق پر مبنی ہیںجن کا مداوا ضروری ہے۔ استاد کو معاشی تفکرات سے آزاد کرنا ہوگا۔اس کے وقارمیں اضافہ کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ملک اور قوم کی خاطروگرنہ ہماری داستاں تک نہ ہوگی زمانے کی داستانوں میں۔ استاد کو اعلی درجے کاشہری قرار دیا جائے بہتر پے سکیل دیئے جائیں۔ صحت اور رہائش کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ گھر سے سکول تک پر سکون آمد ورفت کا بندوبست کیا جائے۔ پرائمری سکولز میں کم از کم 7اساتذہ ، مڈل میں کم از کم 6اساتذہ اور ہائی سکول حصہ میں کم از کم 5اساتذہ تعینات کئے جائیں۔ حکومتی محکمہ جات میں ٹیچرز کے لئے ڈیسک بنائے جائیں۔ اساتذہ کو اعصاب شکن پروموشن کے طریقہ کار سے چھٹکارا دلو ا کر ٹائم سکیل پروموشن دی جائے۔ اساتذہ کی غیر تدریسی ڈیوٹیاں ختم کی جائیں۔ ضروریات زندگی کو پور کرنے کے لئے اسے بلاسود قرضے دئیے جائیں۔ ہر سال اچھی کارکردگی پر تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جائے۔ دفاتر میں اساتذہ کے لئے سازگار ماحول بنایا جائے۔ خواتین اساتذہ کو گھروں کے قریب تعینات کیا جائے۔ تین سال بعد ٹرانسفر کیلئے STR کی شرط ختم کی جائے۔ خواتین اساتذہ کو میٹرنٹی پر میٹرنٹی الائونس دیا جائے۔ شیر خوار بچے کے دیکھ بھال کے لئے سکول سطح پر آیا رکھی جائے ۔بناولنٹ فنڈ سے وظائف اور گرانٹ کی شرح دوگنی کی جائے۔ ریٹائرمنٹ پر بناولنٹ فنڈ میں جمع شدہ رقم واپس دی جائے۔ ججز ، صدر ، وزیر اعظم ، وزراء کی حلف برداری میںاساتذہ کو مدعو کیاجائے۔ ان سے اسمبلی سیشن کی صدارت کروائی جائے۔ اساتذہ کو ملاقات کے لئے صدر ، وزیر اعظم ، سپیکر و دیگر حکومتی ذمہ داران خصوصی وقت دیں۔ اساتذہ کی عزت و تکریم کے حوالے سے مناسب الفاظ نمایاں جگہوں پر آویزاں کئے جائیں۔اساتذہ کی شکایات کو دور کرنے کے لئے صدر ، وزیر اعظم ، وزیر اعلی ہائوس میں خصوصی سیل قائم کئے جائیں۔ تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے فنڈز بروقت ریلیز کئے جائیں۔ اساتذہ کے خلاف کاروائی سے قبل مکمل تحقیقات کی جائیں۔ دفاتر میں ویٹنگ رومز کا قیام عمل میں لایا جائے۔جو سہولیات سے مزین ہوں۔ آن لائن لیوز، ریٹائرمنٹ نوٹیفکیشن ، جی پی فنڈ، پنشن میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ اساتذہ کو بار بار دفاتر کے چکر وںسے چھٹکار دلوایا جائے۔پیک کے تحت اسیسمنٹ سسٹم کو سہل بنایا جائے۔ پی آئی اے اور ریلوے میں اساتذہ کو رعائتی سفر کی سہولیات دی جائیں ۔پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے۔اساتذہ کے سروس میٹرز میں ترامیم کو جلد از جلد ممکن بنا یا جائے، انصاف آفٹرنون سکولز کے اساتذہ اور ایس ٹی آئز کی تنخواہوں کی ادائیگی بروقت ممکن بنائی جائے۔سکولوں میں تعینات درجہ چہارم کے ملازمین کی دفاتر میںعارضی ڈیوٹیز کو ختم کرکے انہیںسکولوں میں تعینات کیا جائے۔ غرضیکہ دنیا میں ہر وہ انسان کامیاب ہے جس نے استاد کا ادب کیا۔دنیا میں جس قوم نے اپنے اساتذہ کی قدر کی وہ آج ترقی یافتہ کہلاتی ہیں جبکہ ہم نے اپنے اساتذہ کا ادب چھو ڑ دیا تو آج ذلت و رسوائی سے دوچار ہیں۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,500SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles