پاکستان ریلوے کی تاریخ کے بڑے حادثے

0
17

 

تحریروترتیب:احمد رضا

پاکستان ریلوے کی تاریخ حادثات سے بھری ہے ۔ ایک کے بعد دوسرا بڑا حادثہ ہوا انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ ریلوے کو کروڑوں کا نقصان ہوا ۔ ریلوے کی تاریخ  کا بھیانک ترین حادثہ ٹرین حادثہ 4 جنوری 1990 کو ہوا، جب پنو عاقل کے قریب سانگی میں ٹرین حادثے میں 307 افراد جان سے گئے۔1953 جھمپیر کے قریب ٹرین حادثے میں 200 افراد جاں بحق ہوئے، اسی طرح 1954 میں جنگ شاہی کے قریب ٹرین حادثے میں 60 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ ریلوے کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔

بائیس اکتوبر 1969 کو لیاقت پور کے قریب ٹرین حادثے کا شکار ہوئی، 80 افراد جان سے گئے۔ 13 جولائی 2005 کو گھوٹکی کے قریب تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 120 افراد جاں بحق ہوئے۔

جولائی 2013 میں خان پور کے قریب ٹرین رکشے سے ٹکرا گئی، 14 افراد جان سے گئے۔ 2 جولائی 2015 کو گوجرانوالہ میں خوفناک ٹرین حادثہ پیش آیا، 19 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ 17 نومبر 2015 بلوچستان میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں 20 افراد لقمہ اجل بنے۔

تین نومبر 2016 کو کراچی کے علاقے لانڈھی میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرائیں، نتیجہ بھی خوفناک نکلا، 21 افراد جاں بحق ہوئے۔ 31 اکتوبر 2019 کو ضلع رحیم یار خان میں مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 74 افراد جان سے گئے۔

گیارہ جولائی 2019 کو رحیم یار خان کے قریب اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس میں 20 مسافر جاں بحق اور 60 زخمی ہوئے۔ سال 2019 پاکستان ریلوے کی تاریخ کا بدترین سال ثابت ہوا، 100 سے زائد حادثات ہوئے۔

ریلوے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ جون میں 20 حادثات ہوئے، انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

گھوٹکی میں ڈہرکی کے نزدیک ٹرین حادثے میں بھی بڑا جانی نقصان ہوا باسٹھ افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ سو سے زائد زخمی ہیں ۔ چوبیس گھنٹے  تک جاری رہنے والا

ریسکیو اپریشن مکمل ہو گیا اور ایک مرتبہ پھر اپ اینڈ ڈاون ٹریکس پر گاڑیوں کی امد ورفت بحال ہو گئی ۔

ٹرین حادثوں میں قیمتی انسانی جانوں  کے ضیاع پر وزیراعظم ، صدر اور اپوزیشن رہنماوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے حادثے کے ذمہ داروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا

جبکہ وزیراطلاعات فواد چودھری نے سارا ملبہ سعد رفییق پر ڈال دیا اور کہا اعظم سواتی کیسے سعد رفیق کے گناہوں پر استعفیٰ دیں اسدی طرح ریلوے حادثے  میں انسانی زندگیوں کے ضیاع پر قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن اور حکومت  سامنے ائی ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کی گئی ۔ مگر سوال یہ ہے کہ ریلوے کے حادثات کا ذمہ دار کون ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اج جس ٹریک

ریلوے کا پہیہ چل رہا ہے یہ انگریز دور حکومت میں بچھایا گیا جو اب فرسودہ ہو چکا ۔ یہ پٹری اب اس قابل ہی نہیں کہ اس پر ریل چلائی جا سکے۔ یہی وجہ ہے پاکستان ریلوے میں حادثات میں تیزی کے اضافہ ہوا جبکہ اس ملک کے اہل اقتدار اور حزب اختلاف میں موجود رہنماوں

نے ایک دوسرے پر صرف الزامات عائد کیئے کبھی بھی ریل کی حالت کو بہتر کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی ۔ کسی بھی دور حکومت میں ریل پر سنجیدگی سے توجہ دی  ہی نہیں گی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اج ریلوے کو اربوں کے خسارے کا سامنا

ہے جس میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے مگر صورتحال کو سنوارنے کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا ۔ کبھی ریلوے کی نجکاری کے بارے میں باتیں کی جاتی ہیں تو کبھی ریلوے کو ٹھیک کرنے کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے ہیں ۔ مگر ریلوے کی حالت درست ہونے کی بجائے پہلے سے بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔ خواجہ سعد رفیق نے شیخ رشید کو دنیا کا جھوٹا ترین شخص قرار دیا اسی طرح پی ٹی ائی رہنماوں نے بھی اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

موجودہ دور میں پاکستان ریلوے کو مجموعی طور پر 1 کھرب 19 ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے ۔وزارت ریلوے نے مالی خسارے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں ، جس میں بتایا گیا کہ موجودہ دور میں ریلوے کومجموعی طور پر1کھرب 19 ارب سے زائد نقصان ہوا، 19-2018میں ریلوے کو32 ارب 76کروڑروپے خسارے اور 20-2019میں ادارےکو50 ارب 15 کروڑ سے زائد کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے 10 ماہ میں ریلوے کو 36ارب 28کروڑ کا خسارہ ہوا اور 2 سال میں ٹرینوں کی تعداد 120 سے کم ہو کر 84 رہ گئی۔

وزارت ریلوے کا کہنا تھا کہ آپریشن خسارے میں اضافے سےاپ اینڈ ڈاؤن 36ٹرینیں بند کی گئیں، کورونا وائرس کے باعث آپریشن لاسز میں اضافہ ہوا جبکہ ٹرینوں کے خسارے میں چلنے سے سبب ٹرینوں کی تعداد میں کمی لائی گئی اور بہترتجارتی فوائد کیلئے 15مسافر ٹرینیں ٹھیکوں پردینے کی پیشکش کی گئی۔

دوسری جانب پاکستان ریلوے کے نادہندہ اداروں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ، جس میں کہا گیا وفاقی، صوبائی محکمے اور نجی ادارے ریلوے کے 9 ارب 89 کروڑ کے نادہندہ ہیں۔

وفاقی ادارے پاکستان ریلوے کے 1ارب 17 کروڑ 21لاکھ کے نادہندہ اور صوبائی محکموں کے ذمہ 2 ارب 44 کروڑ 42 لاکھ واجب الادا ہونے کا انکشاف ہوا، این ایچ اے 5 کروڑ 54 لاکھ اور پاکستان پوسٹ کے ذمہ 3 کروڑ 75 لاکھ واجب الادا ہیں۔

جاری تفصیلات کے مطابق پوسٹ ماسٹر جنرل 6 کروڑ48 لاکھ ، اسٹیٹ بینک 3 کروڑ 82 لاکھ ، صوبائی خوراک کے محکمے ریلوے کے 75 کروڑ91 لاکھ اور صوبائی ہائی ویزکے ذمہ ریلوے کے 1ارب 49 کروڑ روپے واجب الادا ہے۔

اسلام آباد:پی ایس اوکےذمہ ریلوے کے2 ارب اور نجی شرکت سےچلنے والے ٹرینوں کے ذمہ 2 ارب 45 کروڑ روپے واجب الادا ہے جبکہ واپڈا پاکستان ریلوے کا 53 کروڑ اور نجی آئل کمپنی ریلوے کی 82 کروڑکی نادہندہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ریلوے کو اس خسارے سے کیسے نکالا جائے اور خسارے کا شکار ریل کو خوفناک حادثات سے کس طرح سے بچایا جائے؟ ان سوالات کا نہ تو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے پاس کوئی جواب ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے پاس ۔ یہی وجہ ہے کہ ریلوے مستقبل میں بھی سفید ہاتھی ہی ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اور اسی طرح ائے روز حادثات ہوتے رہیں انسان مرتے رہیں گے افسوس کا اظہار کیا جائے گا اسی پر ہی معاملہ ختم ہو جایا کرے گا ۔ جبکہ دنیا کا ہر ملک ریل کے نظام کو بہتر ست بہتر بنا رہا ہے ۔ اب ہر پاکستانی یہ سوال کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ اخر پاکستان میں ریل  کی حالت کط سدھرے گی ؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here