5.8 C
Pakistan
Saturday, December 10, 2022

ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد مریضوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اور ان کے علاج میں معاون چیزوں کی دستیابی شامل ہے

لاہور ( مدثر قدیر )مریضوں کی صحت مندی اور تحفظ کے عالمی دن کے موقع پرصوبائی دارلحکومت کے ہسپتالوں میں داخل مریض صحت کی بنیادی سہولیات ہی سے محروم میو ہسپتال،سر گنگا رام ہسپتال ،جناح ہسپتال ، جنرل ہسپتال، لیڈی ولنگٹن ،کوٹ خواجہ سعید ہسپتال ،گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ ،پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ،مزنگ ٹیچنگ ہسپتال،شوشل سیکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ اور گورنمنٹ سمن آباد ہسپتال میں ادویات کی کمی اور علاج کے ضمن میں سہولت فراہم کرنے والی مشینیں عرصے سے بند ،مریضوں کی بڑھتی تعداد سے سرکاری ہسپتالوں کے ایک بیڈ پرتین مریض داخل جو اس دن کے بنیادی تھیم ہی کی خلاف ورزی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ہر سال 17 ستمبر کو ورلڈ پیشنٹ سیفٹی ڈے منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد مریضوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اور ان کے علاج میں معاون چیزوں کی دستیابی شامل ہے مگر ایک ڈاکٹر جس کا شمار معاشرے کے ذہین ترین افراد میں سے ہوتا ہے جب وہ میڈیکل پروفیشن میں داخل ہوتا ہے تو اس کو حلف لینا پڑتا ہے کہ میں مریضوں کی صحت اور ان کے علاج معالجے کے معاملے میں کوتاہی کا مرتکب نہیں ہوں گا مگر جیسے جیسے وہ اپنے پروفیشن میں ماہر ہوتا جاتا ہے تو وہ اپنے حلف کی پروا نہیں کرتا جس کی وجہ سے مریض کا علاج کوتاہی کا شکار ہوجاتا ہے ۔ پیشنٹ سیفٹی ڈے کو منانے کا مقصد مریض کو اس کے علاج سے مکمل آگاہی دینا اور ادویات کے برے اثرات کے بارے میں بھی آگاہی دینا ہے۔مریض کے تحفظ کے زمرے میں ڈاکٹرز کی جانب سے نسخہ جات تحریر کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا بھی شامل ہے تاکہ اینٹی بائیوٹک سمیت دیگر ادویات کے غیر ضروری اور مقدار سے زیادہ استعمال کو بھی روکا جا سکے جس کے مریض کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میڈیکل پروفیشن سے وابستہ ہر شخص کو اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے کہ ہسپتالوں و نجی کلینکس میں مریضوں کے تحفظ کیلئے حفظان صحت کے اصولوں پر مبنی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔لو گ اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں لہذا میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کے مریض کا مطمئن ہونا بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے ،مگر جب متعلقہ ڈاکٹر ز سے مریض اپنے علاج کے حوالے سے پوچھتا ہے تو وہ مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور اس بات کا برا مناتےہیں۔ آج دن بھر شہر کے بڑے ہسپتالوںمیں پیشنٹ سیفٹی کے حوالے سے آگاہی پر مبنی پروگرام منعقد کیے گئے جن کا اختتا م چائے اور دیگر لوازمات سے ہوا مگر جن لوگوں کے حقوق کے لیے آگاہی کا دن منایا گیا وہ اب تک ورطہ حیرت میں ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا کیونکہ وہ اب تک مسیحا کے منتظر ہیںجو انھیںبہترین علاج معالجہ فراہم کرسکے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,300SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles