نیوزی لینڈ پاکستان کا دورہ چھوڑ کر کیوں بھاگا؟

0
24

تجزیہ:سی نیوز ڈیسک

دنیائے کرکٹ کی دو بڑی ٹیمیں ٹکرانے کے لئے تیار تھیں ، سٹیج سج چکا تھا ۔راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میزبانی کے لئے مکمل تیار تھا ، شائقین کرکٹ ،کمنٹیٹرز ، ماہرین کرکٹ ،سابق اور موجودہ کرکٹ اسٹارز دونوں ٹیموں کا موازنہ کر رہے تھے ، ون ڈے سیریز کے پہلے میچ کے لئے ٹاس کی تیاریاں تھیں ،کرکٹ لورز کو میچ کا بے صبری سے انتظار تھا کہ اچانک ایسی خبر آئی سارا منظر نامہ دھندلا گیا ، دل ٹوٹ گئے ،شائقین مایوس ہو گئے ،پہلے خبر آئی کہ نیوزی لینڈ کے دو کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر پہلا ون ڈے منسوخ کردیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو اپنے ہوٹل کے کمروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ،مگر مایوس شائقین کو یہ خبر مطمئن نہ کر سکی پھر یکا یک منظر نامہ تبدیل ہوا، ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے بڑی خبر دنیا کو دی ۔کہ سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے نیوزی لینڈ حکومت  کے کہنے پر نیوزی لینڈ بورڈ نے اچانک پاکستان  کا دورہ ختم کردیا ہے اور ٹیم کو واپس بلا لیا گیا ہے ۔یوں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کو بڑا دھچکا لگا اور کرکٹ پھر 2009 میں واپس چلی گئی ۔ جب پاکستان کے دورے پر آئی سری لنکن ٹیم کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ۔ یقینا کرکٹ کی تاریخ کا یہ ہولناک واقعہ تھا اس کے بعد پاکستان نے ملک میں

بین الاقوامی کرکٹ  کی بحالی  کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ، پی ایس ایل شروع کی گئی جس کے ابتدائی ایڈیشن یو اے ای میں کھیلے گئے تاہم بورڈ کی کوششوں سے پہلے پی ایس ایل کو ملک میں منتقل کیا گیا پھر دنیا کو پیش کش کی گئی

نتیجہ بھی مثبت نکلا، کبھی ورلڈ الیوں تو کبھی غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل کھیلنے پاکستان پہنچنے ، جبکہ سری لنکا، ویسٹ انڈیز ،

زمبابوے اور ساؤتھ افریقہ کی ٹیمیں پاکستان پہنچیں اور کرکٹ کھیلی ۔ سکیورٹی کا کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہ تھا ۔مگر نیوزی لینڈ حکومت کو اچانک ملنے والی تھریٹ نے تمام منظر نامہ تبدیل کردیا ، نیوز ی لینڈ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ کی جانب سے  دورہ منسوخ کرنے کی جو وضاحتیں دی گئیں ہیں ان پر کوئی بھی مطمئن نہیں ہوسکا ۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارے لئے دورہ جاری رکھنا ممکن نہیں ٹیم واپس جا رہی ہے ۔ دورہ منسوخی کی خبر سامنے آئی تو وزیراعظم عمران خان نے کیوی وزیراعظم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ پاکستان میں اُن کی ٹیم کو کوئی خطرہ نہیں پاکستان کے پاس بہترین سکیورٹی ایجنسی ہے لیکن اس کے باوجود کیوی وزیراعظم نہ مانیں ۔چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ بورڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سنے گا۔

چیئر مین پی سی بی نے کہا کہ دورہ ختم کرنا کرکٹ فینز اور کھلاڑیوں کے لیے شدید مایوس کن ہے۔رمیز راجہ نے کہا کہ سیریز کھلاڑیوں کی جانب سے نہیں نیوزی لینڈ حکومت نے ختم کی، ہم نے پوچھا آپ کیوں جارہے ہیں انھوں نے بتایا ہی نہیں، اتنی ٹاپ سیکیورٹی دنیا میں کہیں نہیں دی جاتی، کسی میچ میں نہیں دی جاتی۔پاکستانی وزیرخارجہ

شاہ محمود قریشی کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں اُن کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ہر طرح کی پیش کش کی گئی یہاں تک کہا گیا کہ ہوٹل سے ہیلی کاپٹر پر گراؤنڈ پہنچا دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود نیوزی لینڈ نہیں مانا ، نیوزی لینڈ ٹیم کو بہترین سکیورٹی فراہم کی گئی تھی ۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا کو چیئرمین پی سی بی نے خط لکھ کر تھریٹ کے بارے میں تفصیلات پوچھی ہیں مگر نیوزی لینڈ کی جانب سے ابھی تک خط کا جواب نہیں دیا گیا ۔رمیز راجہ نے خاصا جارحانہ

رویہ اپنا رکھا ہے اور واضح کہہ رہے ہیں کہ اب پی سی بی کسی بورڈ کے پیچھے نہیں جائے گا ۔

نیوزی لینڈ بورڈ کے دورہ منسوخی کی خبر پر بین الاقوامی سابق اور موجودہ کھلاڑیوں کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ۔کھلاڑیوں نے پاکستان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا دورہ کر چکے وہاں انہیں بہترین سکیورٹی فراہم کی گئی ۔کرس گیل نے پاکستان آنے کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ، جبکہ جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر نے نیوزی لینڈ کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لئے محفوظ ترین ملک ہے اسی طرح ڈینی موری سن نے نہ صرف حیرانی کا اظہار کیا بلکہ اس پر معافی بھی مانگ لی ، بعض سری لنکن کھلاڑیوں نے بھی پاکستان سے اظہار یکجہتی کیا  جبکہ نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ باؤلر سائمن ڈول نے بھی اپنی حکومت اور بورڈ کو کھری کھری سنائیں ،نیوزی لینڈ کے موجودہ کپتان کیم ولیم سن  بھی خاموش نہ رہے ۔ اور کہا اس دورہ منسوخ کرنا شرمناک بات ہے ۔ میچ شروع ہونے سے کچھ دیر قبل دورہ منسوخ ہونے پر شدید مایوسی ہوئی ، پاکستان آئی نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم نے کہا کہ دورہ منسوخی کا سن کر حیران رہ گئے ،کھلاڑی میچ کے لئے تیار تھے ۔

ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی تھی کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا ، انگلینڈ کو اگلے ماہ صرف دو ٹی ٹونٹی میچ کھیلنے کے  لئے پاکستان آنا تھا ۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ، شائقین کرکٹ کے ساتھ پھر بین الاقوامی سابق اور موجودہ کھلاڑیوں نے مایوسی کا اظہار کیا اور انگلینڈ بورڈ کو کھری کھری سنائیں ۔انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے  کھیلوں کی معروف ویب سائٹ پر اپنے لکھے مضمون میں انگلینڈ بورڈ  کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا لکھا کہ مشکل وقت میں پی سی بی نے اُن کا ساتھ دیا مگر انگلش بورڈ نے بے وفائی کی اور اچھے دوست کے ساتھ دھوکا کیا ۔ انگلینڈ پاکستان کا واجب الادا قرض نہیں اتارسکا،انگلش کرکٹ گورننگ باڈی، کھلاڑیوں کے پاس موقع تھا اس ہفتے کچھ اچھا کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس موقع تھا کہ اس کرکٹنگ نیشن کا قرض ادا کرتے جس نے پہلے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک بیان جاری کرکے غلط کیا گیا، انگلینڈ نے چار روز کے اس چھوٹے سے دورے سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔

سابق کپتان انگلش کرکٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ چند روز قبل نیوزی لینڈ نے بھی سیکیورٹی تھریٹس کی بنیاد پر دورہ ختم کیا، یہ پاکستان کا ہائی پروفائل سیزن تھا۔

انگلینڈ کے دورۂ پاکستان ملتوی کرنے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو صحافیوں اور سابقہ کھلاڑیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جارج ڈوبیل کی جانب سے دورہ پاکستان منسوخ کیے جانے کے بعد ایک اور سرکردہ برطانوی صحافی انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) پر برس پڑے اور کہا کہ بورڈ نے بزدلانہ اقدام سے ایسے دوست کو نقصان پہنچایا جس کا ہمیں مشکور ہونا چاہیے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانوی صحافی پیٹر اوبورن کا کہنا تھا کہ دورہ پاکستان منسوخ کرنا ای سی بی کا بزدلانہ فیصلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ای سی بی نے بزدلانہ اقدام سے ایسے دوست کو نقصان پہنچایا جس کا ہمیں مشکور ہونا چاہیے۔پیٹر او بورن نے کہا کہ سیکیورٹی جائزے میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، برطانوی ہائی کمشنر کو بھی مسئلہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سفر کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کہاں غائب ہیں؟ ای سی بی چیئرمین کیوں اپنے فیصلے کا دفاع نہیں کر رہے؟

برطانوی صحافی نے یہ بھی کہا کہ ای سی بی چیئرمین جانتے ہیں کہ یہ غلط فیصلہ ہے اس لیے دفاع نہیں کرسکتے۔

اسی طرح پاکستان میں تعینات انگلینڈ کے ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے کہا ہے کہ انگلش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنا برطانوی ہائی کمیشن کا نہیں انگلش کرکٹ بورڈ کا فیصلہ تھا، ٹیم کو دورہ پاکستان سے نہیں روکا۔

ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر کرسچین ٹرنر نے کہا کہ ہائی کمیشن نے نہیں کہا تھا کہ انگلش کرکٹ ٹیم کو پاکستان کا دورہ کرنے میں کوئی سیکیورٹی خطرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ انگلش بورڈ نے دورہ منسوخ کرنے کی وجہ کھلاڑیوں کی بہبود بتائی، پاکستان کے لیے برطانوی ٹریول ایڈوائزری میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو دورے سے نہیں روکا، اور نہ ہی یہ کہا کہ دورہ پاکستان میں خطرات ہیں۔اور تو اور انگلینڈ کی سابق خواتین کھلاڑی بھی پاکستان کے حق میں بول پڑی ہیں ۔انگلینڈ ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان شیرلٹ ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ویمن ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی مایوس کن ہے، مینز ٹیم کے لیے دورے میں آئیڈیل تیاری نہ ہو مگر ویمن ٹیم کے لیے دورہ بہت اہم تھا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ مایوس کن ہے کہ ورک لوڈ کا بہانہ بنایا گیا ہے، مجھے پی سی بی سے ہمدردی ہے۔

شیرلٹ ایڈورڈز نے کہا کہ پی سی بی نے ہمارے لیے پچھلے سال بہت کچھ کیا، لگتا ہے ہم بھول گئے۔ایک اور سابق ویمن کھلاڑی ایبونی جوئیل رین فورڈ کا کہنا تھا کہ ای سی بی کے بیان سے واضح ہے سیکیورٹی کا ایشو نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ نے ہماری مدد کی، اب اس کا جواب دینے کا موقع تھا۔

رین فورڈ نے کہا کہ سیکیورٹی کا مسئلہ سڑکیں بند، ہوٹل سیل کرکے، گارڈز مہیا کرکے حل ہوسکتا ہے۔

سابق ویمن کرکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کورونا کے دوران اپنے بہتر حالات سے نکل کر ہماری مدد کی، ورک لوڈ مسئلہ تھا تو کیا انگلینڈ کو دو منٹ پہلے پتہ چلا کہ ٹور ہو رہا ہے؟ انگلینڈ کے دورہ منسوخ کرنے پر پی سی بی چیئرمین رمیز راجہ نے جہاں مایوسی کا اظہار کیا وہیں اس فیصلے کو بے تکا فیصلہ قرار دیا  اور کہا کہ آسٹریلیا بھی کچھ ایسے ہی پر تول رہا ہے ۔

نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا معنی خیز ہے اور کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔پاکستان کو ہر آپشن کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ درست فیصلہ کیا جا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here