نذیر چوہان کی علیحدگی،ترین گروپ کا ردعمل اگیا

0
27

ترین گروپ کے راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ نذیر چوہان کو بہت سمجھایا مگر وہ پھر بھی باز نہ ائے ۔اور شہزاد اکبر کے  حوالے سے کچھ ایسا کہہ گئے کہ انہیں بھگتنا پڑا ۔ اُنہوں نے کہا کہ نذیر چوہان کا ردعمل حکومتی پریشر  اور ان کی ذاتی کمزوری کا نتیجہ ہے ۔

نذیر چوہان کی علیحدگی کے حوالے سے ترین گروپ کے پاس کئی روز سے یہ اطلاعات موجود تھیں کہ وہ اپنی چند مجبوریوں اور کمزوریوں کی وجہ سے حکومت کے دباؤ میں ہیں ۔

رکن قومی اسمبلی اور ترین ہم خیال گروپ کے سینئر رکن راجہ ریاض نے کہا کہ  نذیر چوہان جذباتی اور گرم مزاج انسان ہیں،انہیں دھیمے اور مستقل انداز میں سیاست کرنا چاہئے،نذیر چوہان اپنی خواہش اور رضامندی کے ساتھ ہمارے گروپ میں شامل ہوئے تھے ، اس وقت ان کا کہنا تھا کہ ترین ہم خیال گروپ ایک جہاد کر رہا ہے اور میں اس میں ضرور شامل ہوں گا۔ نذیر چوہان کو مذہبی معاملات پر بیان بازی سے روکا تھااور سمجھایا تھا کہ سیاست میں سیاسی بات کی جاتی ہے مذہبی الزامات عائد نہیں کئے جاتے۔نذیر چوہان نے شہزاد اکبر پر الزام عائد کر کے نامناسب حرکت کی ، جہانگیر ترین سمیت ہم سب ساتھیوں نے اسے مذہبی الزام تراشی سے منع کیا تھا، شہزاد اکبر کی وضاحتی ٹویٹ کے بعد دوبارہ نذیر چوہان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں تھے۔

راجہ ریاض نے کہا کہ جہانگیر ترین کی ہدایت پر دو روز قبل میں نے اپنے گھر پر ترین گروپ کا اجلاس بلا کر نذیر چوہان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے چوہان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کیا تھا اس لئے نذیر چوہان کا گروپ کی مدد نہ ملنے کا شکوہ جھوٹ ہے۔

ذرائع کے مطابق  چند حکومتی شخصیات یہ کوشش کر رہی ہیں کہ نذیر چوہان کے بعد چند مزید ترین گروپ ارکان کو علیحدہ کروایا جائے تاکہ جہانگیر ترین کے خلاف مزید کارروائی کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ترین گروپ میں شامل 20 اراکین پنجاب اسمبلی اور 8 اراکین قومی اسمبلی نے جہانگیر ترین کو فون کر کے اپنی غیر مشروط اور اٹل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے آئندہ چند روز میں ایک ایسی تقریب منعقد کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ترین گروپ کے تمام ارکان جمع ہو کر اپنی یکجہتی کا اعلان کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here