میانمار میں فوجی بغاوت

0
24

میانمار میں فوج کو حکومت سنبھالے چھ ماہ مکمل ہو گئے ہیں ۔۔یکم فروری کو میانمار میں فوج نے اچانک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ان سانگ سوچی سمیت کئی اہم رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ جنرل منگ انگ میانمار فوج کے کمانڈر ہیں جن کے حکم پر فوج نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے ملک میں ایک سال کے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ۔ اس فوجی مداخلت کی مختلف وجوہات سامنے ائی ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ میانمار ھکومت اور فوج کے درمیان کئی ہفتوں سے کشیدگی چل رہی ہے تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ ھالات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سامنے  ایا کہ نومبر میں میانمار میں ہونے والے عام انتخابات میں دھوکہ دہی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ ان  انتخابات میں ان سانگ سوچی کی جماعت  نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی ) نے بڑی اسانی سے کامیابی حاصل کی تھی ۔۔ ۔جمہوری ھکومت کا تختہ اُلٹنے والی فوج نے ھکومت پر شدید الزامات عائد کئے ۔۔دوسری طرف میانمار کے شہری اپنی ہی فوج کے خلاف سڑکوں پر نکل ائے۔۔ملک بھر میں ہنگاموں کا اغاز ہو گیا ۔ جو اب شدید سے شدید ترین ہوتے جا رہے ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اب تک فوج کے ساتھ ٹکراو کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔ جبکہ زخمی ہونےو الے  اور گرفتار کئے گئے افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔اس کے باوجود میانمار فوج پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ بلکہ اس کے کمانڈر کا دعوی ہے کہ جمہوریت کے لئے عوام ان کا ساتھ دیں ۔ ادھر بین الاقوامی سطح پر بھی اس فوجی جارحیت کے خلاف ردعمل سامنے  ایا ہے ۔اقوام متحدہ نے میانمار کے ساتھ جمہوری حکومت کی بحالی تک تجارتی ڈیل ختم کر دی ہے ۔ جبکہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ سمیت یورپی یونین نے بھی میانمار کے فوجی جرنیلوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔ فوج اس سے پہلے بھی پانچ دہائیوں تک میانمار پر حکومت کر چکی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here