مہنگائی کے مارے عوام کدھر جائیں

0
23

تحریر:میاں افتخار الحسن

مہنگائی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ۔مہنگائی کی چکی میں پسے شہری تو چیخ و پکار کر رہے تھے تاہم اب اپوزیشن جماعتیں بھی میدان میں آ گئی ہیں ۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خاص طور پر ن لیگ نے باقاعدہ نہ صرف احتجاج کا اعلان کیا بلکہ اس حوالے سے شیڈول بھی جاری کر دیا ہے ،چند روز قبل حمزہ شہباز نے سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا جبکہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے بھی ایسے بیانات دیئے جن میں حکومت کی چھٹی ہی کو پاکستان کے مسائل کا واحد حل قرار دیا ہے ۔اُنہوں  نے اپنے بیان میں کہا پی ٹی آئی حکومت کا مزید اقتدار میں رہنا ملکی معیشت کی مزید تباہی کے مترادف ہے ۔جبکہ رانا ثنا اللہ نے  ملک گیر احتجاج کا شیڈول جاری کیا ۔

شیڈول کے مطابق ن لیگ راولپنڈی اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں میدان سجا چکی ہے ۔جبکہ اہم لیگی رہنماؤں کی جانب سے عام شہریوں اور کارکنوں کو احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی جا رہی ہے ۔پی پی پی بھی مہنگائی کے خلاف احتجاج میں شریک ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان بھی پیش پیش ہیں ۔اعلانات ، اپیلیں یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں 

پہلا یہ کہ تین سال تک سوئی رہنے والی اپوزیشن میں اچانک اتنی تیزی اور جان کہاں سے آ گئی ؟

عوام گزشتہ تین برسوں سے مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں ،احتجاج کا فیصلہ آخر اب کیوں کیا گیا؟

احتجاج میں اپوزیشن کے اہم رہنماؤں، شہباز شریف، حمزہ شہباز ، مریم نواز اور دیگر کی عدم شمولیت 

بھی ایک بڑا سوال ہے؟

ابتدائی احتجاجی مظاہروں میں اپوزیشن وہ رنگ نہیں جما سکی جس کی اُمید کی جا رہی تھی کیوں؟

ایک اور حیران کن پہلو اور سوال یہ ہے کہ میڈیا نے اچانک اپوزیشن کو اتنی کوریج دینا کیوں شروع کردی؟

دوسری طرف اگر حکومت کی بات کی جائے تو اُس کی حکمت عملی بھی واضح نہیں ۔ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید اس اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کو کمزور، نااہل  جیسے القابات سے نوازتے تھکتے نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اُنہیں اتنی نااہل اپوزیشن ملی۔اسی طرح جب عوام اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بڑھتی مہنگائی کا ایشو اٹھایا گیا تو فواد چودھری ، فرخ حبیب ، شوکت ترین ، شہباز گل سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ایسے مضحکہ خیز بیانات سامنے آئے کہ ہر باشعور شہری دنگ رہ گیا ۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو عوامی سطح پر شور مچا کہ مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جس سے زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی تو ان حکومتی ترجمانوں نے دو ٹوک الفاظ میں اپنے ویڈیو بیانات میں کہا کہ دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو ا ہے اور اسی طرح پٹرول کی قیمتیں دنیا کے ممالک  کی نسبت اب بھی پاکستان میں بہت کم ہیں ۔مگر یہاں سوال یہ ہے 

کہ اعدادوشمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کئی ممالک میں پٹرول کی قیمتیں اب بھی پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہیں مگر ان ممالک میں مہنگائی کی شرح بہت کم ہے تو ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی مہنگائی کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے؟

اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھے کچھ ممالک کا تقابلی جائزہ لے لیتے ہیں 

ہندوستان میں مہنگائی  کی  شرح 4.6 فیصد، بنگلہ دیش میں 5.9 فیصد، سری لنکا میں 4.6 فیصد اور نیپال میں 4 فیصد ہے 

انڈیا میں پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 105 روپے فی لیٹر ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی پٹرول کی قیمت مقامی کرنسی میں 89 ٹکا فی لیٹر ہے جو ڈالر کی مقامی شرحِ تبادلہ کے حساب سے 1.05 ڈالر فی لیٹر اور پاکستانی روپوں میں 178 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔موجودہ وقت میں بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کے لحاظ سے فی کس آمدن 2227 ڈالر ہے اور انڈیا میں 1961 ڈالر ہے جب کہ دوسری جانب پاکستان میں فی کس آمدن 1279 ڈالر ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔پاکستان میں انفرادی آمدن کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے جبکہ کئی ممالک میں پٹرول کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہیں مگر وہاں مہنگائی کی شرح پاکستان کی نسبت بہت کم ہے ۔ 

اب وفاقی ادارہ شماریات نے پاکستان میں تین سالوں کے دوران مہنگائی کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ستر برسوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہے 

رپورٹ کے مطابقپاکستان میں گزشتہ تین سال میں مہنگائی نے 70 سال کے ریکارڈ توڑ دیے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوگیا، جب کہ گھی، تیل، چینی، آٹا اورمرغی کے گوشت کی قیمت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔

وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق قیمتوں کے حساس اعشاریے (ایس پی آئی) کے مطابق اکتوبر 2018 سے اکتوبر 2021 تک بجلی کے نرخ 57 فیصد اضافے سے 4 روپے 06 پیسے فی یونٹ سے بڑھ کر کم از کم 6 روپے 38 پیسے فی یونٹ کی سطح پر آگئے۔

اکتوبر کی پہلی سہ ماہی تک ایل پی جی کے 11.67 کلو گرام سلنڈر کی قیمت 51 فیصد اضافے کے بعد 1536 روپے سے بڑھ کر 2322 روپے کی سطح پر پہنچ گئی اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں تین سال کے دوران 49 فیصد تک اضافہ ہوا اور فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 93 روپے 80 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 138 روپے 73 پیسے  ہوگئی ہے

کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ خوردنی گھی وتیل کی قیمتوں میں ہوا، گھی کی فی کلو قیمت 108 فیصد اضافے سے 356 روپے تک پہنچ گئی، خوردنی تیل کا 5 لیٹر کا کین 87 اعشاریہ 60 فیصد اضافے کے بعد 1783 روپے کا ہوگیا۔

چینی کی قیمت میں 3 سال کے دوران 83 فیصد اضافہ ہوا اور 54 روپے کلو فروخت ہونے والی چینی کی قیمت 100 روپے سے تجاوز کرگئی۔ دال کی قیمت میں 60 سے 76 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ماش کی دال کی قیمت 243 روپے، مونگ کی دال کی قیمت 162 روپے، مسور کی دال 180 روپے فی کلو جب کہ چنے کی دال 23 فیصد اضافے سے 145 روپے فی کلو پر آگئی۔

آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 3 سال میں 52 فیصد اضافے سے 1196 روپے پر آگئی، آٹے کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کلو تک کا اضافہ ہوا۔سرکاری حساب کے مطابق تین سال میں مرغی کی قیمت میں 60 فیصد اضافہ ہوا اور مرغی کی قیمت اکتوبر 2018 سے اکتوبر 2021 تک 252 روپے کلو کی سطح پر رہی، تاہم بازاروں میں مرغی کا گوشت 400 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق تین سال میں گائے کے گوشت کی قیمت 48 فیصد اضافے سے 560 روپے کلو کی سطح پر آگئی تاہم بازاروں میں گائے کا گوشت 650 روپے کلو فروخت ہورہا ہے، بکرے کے گوشت کی فی کلو قیمت 3 سال میں 43 فیصد اضافہ سے 1133 روپے کلو کی سطح پر آگئی۔

تین سال میں کھلا  دودھ 32 فیصد اضافے کے بعد 112 روپے لیٹر کی سطح پر آگیا جب کہ کراچی میں  کھلا دودھ 130 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے اور اس میں مزید 30 روپے اضافے کی تیاری کی جارہی ہے۔

گزشتہ 3 سال کے دوران چاول کی قیمت میں اوسطا 30 فیصد تک اضافہ ہوا، سادہ ڈبل روٹی 44 فیصد تک مہنگی ہوئی اور چائے کی پتی کا 190 گرام کا پیکٹ 27 فیصد اضافے کے بعد 248 روپے تک پہنچ گیا۔ جب کہ اس عرصے میں مرغی کے انڈے بھی 47 فیصد اضافے سے 170 روپے فی درجن ہوگئے۔

مہنگائی کے باعث پاکستان میں تمام طبقات مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حکومت صرف ایک ہی راگ الاپ رہی ہے کہ خطے میں بھی قیمتیں بڑھ چکی ہیں  تاہم وزیراعظم مہنگائی کم سے کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here