10.3 C
Pakistan
Wednesday, December 7, 2022

مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی  کی کہانی

پاکستان کے طول و عرض میں مون سون بارشیں کوئی نئی بات نہیں مگر دو ہزار بائیس میں مون سون بارشوں نے ملک میں تباہی و بربادی کی خوفناک داستانیں رقم کی ہیں ،  ملک میں سیاسی کشمکش میں اتنی شدت آ چکی  کہ میڈیا سمیت تمام ذرائع اس کی لپیٹ  میں آ چکے ہیں ۔بجائے اس کے کہ  میڈیا کی ہیڈ لائز سیلاب متاثرین ہوتے ،میڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز سیاسی پنڈت اور اُن کے دھواں دھار بیانات بن چکے ہیں مگر دوسری طرف سیلاب زدہ علاقوں میں انسانیت سسک رہی ہے ، دکھی ، بے سہارا انسان پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ رہے ہیں جبکہ انسانیت مٹی تلے دبی جا رہی ہے ، یہاں تک فصلیں اور جانور بھی اپنے بچاؤ میں ناکام ہیں ۔ پانی سب کچھ بہائے لے جا رہا ہے ،ستم یہ ہے کہ اگر حکمران وقت نکال کر ان علاقوں کی طرف جاتے بھی ہیں تو ہیلی کاپٹر سے نیچے اترنا اُن کےلئے ممکن نہیں ۔ گلگت بلتستان، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے ۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق  مون سون بارشوں سے سب سے زیادہ نقصان ہوا ۔

اس وقت بلوچستان میں کیا صورتحال ہے ؟

پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد دو سو سولہ ہو گئی ہے جبکہ اب تک  تیئس ہزار ایک سو سترہ مکانات تباہ ہوئے اور ایک لاکھ سات ہزار تین سو ستتر مویشی ہلاک ہو چکے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ دو لاکھ سے زائد اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ سیلابی ریلوں کے باعث رابطے اور آمد ورفت میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔بلوچستان میں مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ،شاہراہوں کو شدید نقصان پہنچا ،بلوچستان اور کراچی کے درمیان شاہراہ لسبیلہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے ایک بار بند ہو چکی۔بلوچستان اسمبلی میں سیلاب سے نقصانات کے حوالے سے جو قرار داد پیش کی گئی اُس میں نقصانات کے ازالے کےلئے وفاقی حکومت سے پچاس سے ساٹھ ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔بلوچستان  خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، ڈیری مراد جمالی میں سیلاب سے تباہی مچ گئی ، پی ڈی ایم اےکے مطابق موسلادھار بارشوں نے جعفرآباد، اوستہ محمد، گنداخہ، بارکھان، خضدار، نصیر آباد، چمن، سبی، ژوب، لسبیلہ، پشین، لورالائی، مسلم باغ، قلات، کوئٹہ، کوہلو،بارکھان ،زیارت، قلعہ عبداللّٰہ کو پھر سے بری طرح متاثرکیا۔بلوچستان میں بارشوں سے چونتیس میں سے ستائیس اضلاع میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے ۔

سندھ میں سیلاب سے تباہ کاریاں

سندھ بھی غیر معمولی مون سون بارشوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور اس میں ایسے ایسے علاقے ہیں جہاں ایک ماہ سے پانی کھڑا ہے اور متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں ۔اندرون سندھ  میں جو تباہی آئی وہ تو آئی ہے مگر جو کچھ ان مون سون بارشوں کے دوران کراچی میں ہوچکا وہ بھی شائد نہ قابل بیان ہے ۔ پورے شہر میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں لوگوں کی چیخ و پکار کا بھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، نوابشاہ ، لاڑکانہ، سانگھڑ ، مٹیاری ، خیر پور زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں ۔ حکومتی اعداددوشمار کے مطابق سندھ میں اب تک 66بچوں سمیت 141اموات ریکارڈ ہوئی ہیں ۔صوبے بھر میں بارہ ہزار سے زیادہ مکانات،33کلومیٹر طویل سڑکیں بھی متاثر ہوئیں ہیں  اور سات پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔بارش اور سیلاب کے باعث سندھ کا علاقہ کاچھو وہ علاقہ ہے جہاں ہر دوسرا گاؤں پانی میں ڈوبا ہے۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کاچھو کا علاقہ دو اضلاع دادو اور شہدادپور قمبر پر مشتمل ہے، جو انتظامی طور پر 9 یونین کونسل میں منقسم ہے۔ ان میں تقریباً 280 چھوٹے بڑے گاﺅں اور آبادی تقریباً دو لاکھ 40 ہزار افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے 75 فیصد سیلاب سے متاثر ہیں۔

پاکستان کے وفاقی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ 14 جون تا 18اگست تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران 649 اموات ہو چکی ہیں اور ملک کے 103 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب کی صورتحال

حالیہ مون سون بارشوں سے خیبر پختونخوا کے متعدد علاقے بھی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں ، کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے  ڈیرہ اسماعیل خان  کے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی ہے ، یہاں ہر گھر تباہ ہو چکا فصلیں سرے سے ہی ختم ہو چکی ہیں اور مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں ۔

خیبرپختونخوا کے33  اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ۔صوبائی حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کے علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 78 بچوں سمیت 149 موات ہو چکی ہیں جبکہ 186 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبے میں مجموعی طور پر پچاس ہزار افراد متاثر ہوئے لیکن انفراسٹرکچر کی مد میں نقصان بلوچستان کی طرح نہیں ہوا اور اب تک 13 ہزار سے زائد گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے۔خیبر پختونخوا کے بعض سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم یہ امدادی سرگرمیاں ناکافی ہیں ۔

پنجاب میں سیلاب کی صورتحال

دوسرے صوبوں کی طرح حالیہ مون سون بارشوں سے پنجاب کے بعض اضلاع میں بھی شدید نقصان ہوا ہے۔تونسہ، راجن پور  اور ڈیرہ غازیخان سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں ۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب میں 151افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے ۔صوبے میں تقریباً 21 ہزار سے زیادہ مکانات، 33 کلومیٹر طویل سڑکیں بھی متاثر ہوئیں جبکہ این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق سات پلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے برساتی ندی نالوں میں طغیانی ہے۔ نالہ وڈور میں تاریخ کا انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ جس سے اس کا مشرقی بند ٹوٹ گیا اور ڈیرہ غازی خان سے سخی سرور جانے والی روڈ پر قائم درجنوں بستیاں اور فیکٹریاں زیر آب آگئیں

آزاد کشمیر  اور گلگت بلتستان میں بھی سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔این ڈی ایم اے کے مطابق خطے میں اب تک 44اموات ہوئی ہیں جبکہ دس اضلاع میں دس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ قومی میڈیا کی تمام تر توجہ سیاست کے میدان میں جاری کشمکش کو کوریج دے رہا ہے جبکہ ایسی رپورٹس ہیں جن میں واضح کہا گیا ہے کہ سیلاب سے پاکستان میں دو ہزار پانچ میں آنے والے زلزلے سے بھی زیادہ تباہی ہو چکی ہے ۔ لوگ مجبور اور بے سہارا ہیں جبکہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,300SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles