20.9 C
Pakistan
Monday, May 10, 2021

مسرور انور کو مداحوں سے بچھڑے پچیس برس بیت گئے

لازوال گیت بنے جس کی پہچان ،مسرور انور جس کا نام اُسے اپنے چاہنے والوں سے بچھڑے اج پچیس برس بیت گئے ۔۔مسرور انور پاکستان فلم انڈسٹری کا گوہر نایاب اور پاکستان کی ثقافتی پہچان تھے ۔

مسرور انور چھ جنوری اُنیس سو چوالیس کو بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے ۔ اُنہوں نے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جس کے بعد پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ ہو گئے۔

اُنیس سو باسٹھ میں اُنہوں نے اپنی پہلی فلم بنجارن کے گیت لکھے تاہم فلم ہیرا اور پتھر کے گیتوں سے اُنہیں لازوال شہرت ملی ۔

جس کے بعد اُنہوں نے ایک سے ایک بڑی فلم کے گیت گائے ۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا میں اُنہیں شہرت ملی ۔

مسرور انور نے نہ صرف فلموں کے لئے گیت لکھے بلکہ لازوال قومی نغمے بھی تخلیق کئے جن میں سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم ٓباد تجھے جیسے نغمے شامل ہیں ۔

مسرور انور نے سپر ہٹ فلموں کے لئے سپر ہٹ گانے لکھے ۔ فلم ارمان کا ہر گیت سپر ہٹ ہوا ۔ اس فلم کے گانے جس نے بھی سنے وہ اج بھی اُنہیں گنگناتا سنائی دیتا ہے

مسرور انور کا اصل نام انور علی تھا ۔انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز 1962 سے کیا اور1990 تک ان کا شمار پاکستانی فلمی صنعت کے ممتاز ترین نغمہ نگاروں میں ہوتا تھا

مسرور انور نے پاکستان فلم انڈسٹری کی اہم ترین شخصیات وحید مراد، سہیل رانا، ،پرویز ملک کے ساتھ لازوال خدمات پیش کی ہیں۔

مقبول ترین گیتوں کے خالق مسرور انور  یکم اپریل 1996 کوحرکت قلب بندہوجانے کیباعث  دنیا سے رخصت ہوگئے تھے پچیس برس بعد بھی اُن  کی خدمات کو سنہرے الفاظ سے یاد کیاجاتاہے۔مسرور انور کو کئی نگار ایوارڈز ملے ان کی وفات کے حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں  صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے  نوازا گیاتھا۔ان کے گیت آج بھی سننیوالون میں مقبولیت رکھتے ہیں۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

21,915FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles