فردوس عاشق اعوان بمقابلہ قادر مندوخیل ۔تھپڑ اور لڑائی

0
62

فردوس عاشق اعوان ، وزیراعلیٰ پنجاب کی دبنگ ترجمان، محترمہ سیاسی مخالفین پر لفظی گولہ باری میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ جب بھی موقع ملے ہاتھ کا استعمال بھی خوب جانتی ہیں ۔ جونہی اپوزیشن کا کوئی رہنما عمران خان یا پی ٹی ائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو فردوس عاشق اعوان پر اس کا فوری جواب دینا لازم ہو جاتا ہے جواب نہ دینے کی صورت میں محترمہ کا پی ٹی ائی اور عمران خان پر ایمان شائد مکمل نہیں ہوتا ۔ اسی لئے فوری طور پر سٹیج سجاتی ہیں ،میڈیا کے نمائندوں کو بلایا جاتا ہے اور پھر ظل سبحانی اول، ظل سبحانی دوئم ،  جعلی راجکماری جیسے الفاظ کی گونج ملک کے طول و عرض میں سنی جاتی ہے ۔

 

محترمہ کبھی اینٹیں توڑتی دکھائی دیتی ہیں تو کبھی بیڈ اور بال کے ساتھ جوہر دکھاتی ہیں ۔ اور کچھ نہ ہو تو کسی نہ کسی بیوروکریٹ سے منہ ماری کرنے میں دیر نہیں کرتیں ۔ اے سی سیالکوٹ کے ساتھ رمضان بازار میں کھڑے کھڑے محترمہ کا پارہ ہائی ہو گیا اور پورے ملک نے دیکھا کہ فردوس عاشق اعوان کیسے نہ صرف گرجیں بلکہ برسیں بھی۔ جو کچھ بھی ہو محترمہ میں ملک و قوم کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ اور وہ ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہیں ۔ محترمہ سید یوسف رضا گیلانی کی کابینہ کا بھی حصہ رہیں اور کابینہ کے اجلاس میں ان کے رونے دھونے کے چرچے سنے گئے ۔ فردوس عاشق اعوان نے یوسف رضا گیلانی کے سامنے شکایات کا ڈھیر لگا دیا تھا۔ محترمہ ترجمانی کا حق ادا کر دیتی ہیں  اور خاصی متحرک خاتون ہیں ۔ اج کل ایک بار پھر سوشل میڈیا پر صرف فردوس عاشق اعوان کا ہی چرچا ہے ، ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں پی پی رہنما قادر مندوخیل کے ساتھ امنے سامنے جنگ کی ویڈیو اس وقت دنیا دیکھ رہی ہے ۔ اب اس لڑائی کا پس منظر کیا ہے اس کے بارے میں تو وہ خود ہی زیادہ بہتر بتا سکتی ہیں لیکن جس دلیری کے ساتھ وہ مندوخیل کو تھپڑ لگاتی ہیں اور باقاعدہ گریبان پکڑنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں وہ قابل تعریف ہے ۔ یہ واقعہ پاکستانی سیاسی منظر نامے پر سیاسی عدم برداشت کی نشاندہی بھی کر رہا ہے سیاسی مخالفین ایک دوسرے سے دست وگریبان ہوتے ہیں ، الزامات بھی لگائے جاتے ہیں مار کٹائی پر بھی اتر اتے ہیں دنیا میں ایسے واقعات کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں مگر پاکستان میں اگر فردوس عاشق اعوان نے مندوخیل پر ہاتھ اٹھا لیا تو پتہ نہیں کیوں اسمان سر پر اٹھا لیا گیا ہے کسی نے واقعہ کے پیچھے اصل حقائق کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی مگر سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے جس کا جو دل چاہتا ہے لکھ بھی رہا ہے اور بول بھی رہا ہے ۔

پروگرام کے دوران بات بجلی کی کمی سے شروع ہوئی جو ٹرین حادثے تک پہنچ گئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر خوب الزام تراشی کی ، کرپشن کے الزامات بھی لگائے ۔ تاہم بات اس وقت بڑھ گئی جب قادر مندوخیل نے حکومت کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ذاتی طور پر ‘کرپٹ’ کہہ دیا اور طعنہ دیا کہ ‘کرپشن ہی کی وجہ سے ان سے وزرات لے لی گئی’۔

اس کے بعد دونوں رہنماؤں میں مزید تلخ کلامی ہوئی اور فردوس عاشق اعوان نے مڑ کر شو کے میزبان کو کہا، جو خاموشی سے یہ منظر تک رہے تھے، ‘چوہدری صاحب، آپ نے یہ تماشا لگوایا ہے۔’

وائرل ہونے والے کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قادر مندو خیل کچھ کہتے ہیں جس پر فردوس عاشق اعوان سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ پھر دونوں اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس کے بعد پھر سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور پھر ایک ’بیپ‘ کی آواز آتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقعے پر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔

سوشل میڈیا پر چرچے ہونے کے بعد محترمہ نے قادر مندوخیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دینے کی ویڈیو وائرل کی اور کہا کہ قادرمندوخیل نے اُن کے مرحوم والد کو بھی گالیاں دیں اور بے ہودہ الزامات عائد کئے ۔ دوسری جانب قادر مندو خیل کا ردعمل بھی سامنے ایا ہے جس میں اُن کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ فردوس عاشق اعوان اپنے سامنے کسی کو بولنے نہیں دیتیں تاہم وہ پہلی مرتبہ ان کے ساتھ کسی ٹاک شو میں شریک ہوئے تھے۔

ان کے بقول انھوں نے کوئی ایسی نازیبا بات نہیں کی تھی جس پر فردوس صاحبہ تیش میں آ جاتیں۔

’وہ آدھا گھنٹا بولتی رہیں، میں خاموش رہا لیکن جب میں بولنے لگا تو وہ بیچ میں ٹوکنے لگیں کہ آپ کیا بولیں گے آپ تو سر سے پیر تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس پر میں نے ان سے کہا کرپٹ تو آپ ہیں۔ آپ کو آپ کی حکومت نے کرپشن پر عہدے سے الگ کیا۔ اس پر وہ گالم گلوچ پر آگئیں۔‘

قادر مندوخیل کا کہنا تھا ’میں گالم گلوچ برداشت کرتا رہا تو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئیں، میرا گریبان پکڑا اور مجھے تھپڑ مارنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مجھے کپ مارنے کی کوشش کی۔ میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ میرے پیچھے بھاگیں تو میں نے دروازہ بند کر کے جان بچائی۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میری تربیت ایسی نہیں کہ میں خاتون پر ہاتھ اٹھاؤں۔ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسی حرکت کر سکتی ہیں۔‘

اپنے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا ’موسٹ ویلکم! میں خود سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، میڈیا لاز میں پی ایچ ڈی ہوں، پاکستان کا پہلا انسانی حقوق ایوارڈ یافتہ ہوں۔ میرا بے داغ ماضی ہے۔ وہ قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو انھیں نہ صرف شکست ہوگی بلکہ الٹا ان کے لیے اور عذاب بنے گا جب میں کارروائی کروں گا۔‘

اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے کوئی فردوس عاشق اعوان کے عمل کو درست قرار دے رہا ہے تو کوئی پروگرام اینکر کو ذمے دار ٹھہرا رہا ہے کیونکہ پروگرام اینکر صرف اس صورتحال سے لطف اندوز ہوتے رہے اُنہوں نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی ائی رہنما دوسروں پر تو کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہیں تاہم ان کو جب ائینیہ دکھایا جائے تو ہاتھا پائی پر اتر اتے ہیں

معاملہ جو کچھ بھی ہو  صورتحال اس نہج تک  نہیں پہنچنا چاہیے تھی ۔ جہاں سیاسی عدم برداشت میں کمی ہوئی ہے وہیں پروگرام اینکر کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا ۔ اب بھی پروگرام کی کلپس نکلوا کر اصل حقائق جانے جا سکتے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ دوسروں پر جھوٹے سچے الزامات کی بارش کرنے والے پی ٹی ائی رہنماوں کا ااب اپنا امتحان قریب ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here