9.8 C
Pakistan
Monday, January 30, 2023

طلباء کے لیے ہائر ایجوکیشن کا حصول ڈاکٹر عاشق حسین کا عزم

میری بات۔۔۔مدثر قدیر

ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن پنجاب ڈاکٹر عاشق حسین قلندرانہ شخصیت کے مالک ہیں ان کے دفتر میں کوئی سائل کسی وقت بھی دفتری اوقات میں اپنا مسئلہ لے کر حاضر ہوسکتا ہے اس کو وہاں پر کسی بھی قسم کی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور ڈاکٹر عاشق حسین اس کا مسئلہ خود سنتے ہیں اور اس کو حل بھی کرتے ہیں اور ساتھ سائل کی خواہش کے مطابق اسے مطلوبہ لنگر بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ڈی پی آئی کے دفتر کو میں بڑا پرانا جانتا ہوں مگر اس عہدے پر تعینات شخصیت ڈاکٹر عاشق حسین سے میری ملاقات کچھ عرصہ قبل ہی ہوئی ہے اور میں نے ان کو مشفق اور مہربان پایا،کچھ عرصہ قبل پنجاب کے سرکاری کالجوں میں مستقل پرنسپلز کی تعیناتی کے حوالے سے میں نے ایک خبر فائل کی جو بعد میں ایک اور دوست نے بھی فائل کردی اس خبر میں،میں نے جو تعداد بتائی وہ کم تھی جبکہ دوسری خبر میں مستقل پرنسپلزکی تعیناتی کی تعداد ذیادہ تھی میں نے اس بارے میں تحقیق کرنے کی ٹھانی اور یہ چیز مجھے ڈی پی آئی کالجز کے دفتر تک لے آئی جہاں پر ان کے اسٹاف آفیسر نے میری ان سے ملاقات کرائی اور میں نے ڈاکٹر عاشق حسین صاحب کو اپنا تعارف کرایا اور ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا تو انھوں نے کہا جناب اب یہ تعداد اور ذیادہ ہوجائے گی کیونکہ چند دنوں میں مزید پرنسپلز اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوجائیں گے جبکہ محکمہ ہائر ایجوکیشن اس حوالے سے آگاہ ہے اور مستقل پرنسپل کی تعیناتی کے لیے بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے جو جلد ہی اس ضمن میں انٹرویو مکمل کرکے اہل امیدواروں کو تعینات کردے گا اس ملاقات کے بعد میری ان سے متواتر ملاقاتیں شروع ہوئیں میں ان کو سوال کرتا سر کوئی خبر دیں وہ خبر تو نہیں دیتے مگر کچھ ایسی باتیں بتا دیتے ہیں جو میرے لیے خبر کی حثیت رکھتی ہیں جن کو میں عوام کی آگاہی کے لیے ضروری سمجھتا ہوں ان ہی کی باتوں سے مجھے پتہ چلا کہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں ایسے طالب علموں کے لیے کالجز میں تیسری شفٹ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جہاں پرمعاشی سکت نہ رکھنے والے اور ایسے طالب علم جو سیٹیں نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری کالجزمیں تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ان کو داخلہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں جبکہ محکمہ ہائر ایجوکیشن،پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ساتھ ملکر صوبے بھر کے ایسے طلباء اور طالبات کے لیے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ سے معاہدہ کرنے جارہا ہے جو پرائیویٹ کالجز میں فیس بھرنے کی سکت نہیں  رکھتے ان طالب علموں کو پنجاب بھر کے منتخب کالجوں  میں داخلہ دے کر 2000روپیہ وظیفہ بھی دیا جائے گا تاکہ وہ دوران تعلیم وتربیت اپنے روزمرہ کے اخراجات اٹھا سکیں اس حوالے سے جن شارٹ کورسز کا انتخاب کیا جائے گا ان میں کمپیوٹر کورسز،فارمیسی بی کیٹگری کورسز، فوڈ کورسزاور ای کامرس کے کورسز قابل ذکر ہیں  ان کورسز کو کرانے کا مقصد بڑھتی ہوئی بے روز گاری کا خاتمہ اور سکل ورک کا فروغ ہے جس کا پنجاب حکومت اور وزیر اعلی کے ویژن کی روشنی میں آغاز کیا جارہا ہے تاکہ کوئی طالب علم ایسا نہ رہے جو فیس نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی جاری نہ رکھ سکے۔گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی نے خواتین کو مضبوط کرنے کیلئے پہلی تنظیم برائے خواتین ان سائنسز پاکستان قائم کر دی ہے جوتکنیکی ادارے کے طور پر کام کرتے ہوئے نہ صرف ایسی تمام خواتین کو اکٹھا کرے گی بلکہ تکنیکی میٹنگز اور تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گی۔اس سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیاز احمد اختر کی طرف سے ڈین فیکلٹی لائف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی نے سنٹر آف ایکسی لینس ان سالڈ سٹیٹ فزکس میں تنظیمی دفتر کا افتتاح کیا۔تقریب میں تنظیم کی صدر پنجاب یونیورسٹی شعبہ ایم ایم جی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر انجم نسیم صابری، نائب صدرجی سی یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر، پنجاب یونیورسٹی سے سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر سائرہ ریاض، یو ای ٹی سے جوائنٹ سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر شمائلہ شہزادی اورلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے خزانچی پروفیسر ڈاکٹر زہرہ کیانی نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر جاویداقبال قاضی نے کہا کہ پاکستانی خواتین سائنس کے مختلف شعبوں میں ترقی اور علم کی منتقلی میں بہت اہم اور موثر کردار ادا کر رہی ہیں اس لیے سائنس کی تمام پاکستانی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان میں سرکاری یو نیورسٹیوں کی تعداد 141اور پرائیویٹ یو نیورسٹیوں کی تعداد 96ہے۔ حالیہ بجٹ میں ملک بھر کی جامعات کیلئے104ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے جس میں 4ارب 41 کروڑروپے ترقیاتی اور60ارب روپے دوسری مد میں رکھے گئے ہیں۔ پاکستان اس وقت اعلیٰ اور معیاری تعلیمی اداروں کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے اس فاصلے کو کم کرنے کیلئے سرکار ی تعلیمی اداروں کو مزید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,500SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles