11.6 C
Pakistan
Wednesday, December 7, 2022

سیلاب متاثرین کی امداد،چوہدری پرویز الہی کا اعلان اور ریڈیو پاکستان کی قومی نشریات

۔میری بات۔۔۔مدثر قدیر

ملک بھر میں طوفانی بارشوں کے بعد آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور صوبہ خیبر پی کے اور بلوچستان میں سیلابی ریلوں نے شدت اختیار کرلی ہے جن میں انسانوں‘ چرندپرند‘ بڑی بڑی عمارتوں‘ فصلوں اور دوسری املاک سمیت ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہہ رہی ہے اور صفحہ ہستی سے مٹ رہی ہے۔ گزشتہ روز سیلاب سے ہونیوالی پچاس مزید انسانی ہلاکتوں سے ہلاک شدگان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ سیلاب سے ڈیڑھ سو پلوں کو نقصان پہنچا۔ سیلاب کے باعث کئی علاقوں میں ریل‘ موبائل‘ انٹرنیٹ سروس‘ بجلی اور سڑک کے راستے آمدورفت کا سلسلہ معطل ہے۔ سیلاب سے ہونیوالی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے والے ادارے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ گھروں کی تعداد سات لاکھ کے قریب ہو گئی ہے اور املاک کا مجموعی نقصان 9 سو ارب روپے سے زائد کا ہے۔ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں اور کئی مقامات پر انسانی لاشیں تیرتی نظر آتی ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں عملاً قحط کی کیفیت ہے جہاں انسانی بے بسی ناچتی نظر آتی ہے۔ متاثرین سیلاب کا عملاً کوئی پرسان حال نہیں جنہیں سر چھپانے کیلئے کیمپ دستیاب ہیں نہ خوراک مل رہی ہے۔ چنانچہ سیلابی ریلوں کی وحشت سے بچ نکلنے والے لوگ اب بھوک اور بیماریوں سے مر رہے ہیں کیونکہ انہیں علاج معالجہ کی سہولت بھی میسر نہیں۔ اس صورتحال کے تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 5ارب روپے کا ریلیف فنڈ کا اعلان کیا ہے جوخو ش اآئند ہے انھوں نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کرنا ہی اصل سیاست ہے۔ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،متاثرین کی پکار پر سب کو یکجان ہو کر ان کا سہارا بننا ہوگا۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور سندھ میں تباہی پر ہر آنکھ اشکبار اور دل دکھی ہے۔انسانی المیہ کو روکنے کیلئے سب کو ملکر مشترکہ اور مربوط انداز میں بحالی کا کام کرنا ہے۔سیلاب کی تباہ کاریوں سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔ سب کام چھوڑ کر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھنا چاہیئے۔ سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں کی دوبارہ بحالی کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی مدد کے لئے آگے آنا عبادت سے کم نہیں۔مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یقین ہے کہ قوم متاثرین کی بحالی اور آبادی کاری کے کار خیر میں بھرپور حصہ ڈالے گی۔یہ حقیقت ہے کہ سیلاب کے آغاز سے اگلے دو ہفتے تک متاثرہ علاقوں میں حکومتی انتظامی مشینری کہیں متحرک نظر ہی نہیں آئی۔ اس وقت بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی نگرانی اور سہولت بہم پہنچانے کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود سرگرم عمل ہیں جنہوں نے سندھ اور بلوچستان میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔ اسکے برعکس وزیراعظم شہبازشریف‘ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ہمراہ گزشتہ روز پہلی بار سندھ کے کچھ متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور متاثرین کی ڈھارس بندھائی جبکہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان بھی گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پی کے کے ہمراہ ہیلی کاپٹر میں ڈیرہ اسماعیل خان گئے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ اس ملک گیر سیلاب نے ایک ایسی قومی آزمائش سے دوچار کردیا ہے جس سے نمٹنے کیلئے مکمل یکجہتی اور بھرپور عزم و حوصلہ لازمی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کی جانب سے قومی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان یقینا ایک مثبت فیصلہ ہے۔آئندہ ہفتے وزیر اعظم کی صدارت میں قومی کانفرنس منعقد ہوگی جس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آ زاد کشمیر، چیئر مین این ڈی ایم اے کے علاوہ تمام متعلقہ شراکت داروں کو مدعو کیا جائے گا۔ کانفرنس کا مقصد وفاق اور صو بوں کے در میان اشتراک عمل کو موثر، مربوط اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کی کوششوں کو مربوط کرنے میں یہ کانفرنس یقینا موثر ثابت ہوگی لیکن چیلنج اتنا دشوار ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے اتنے بڑے پیمانے پر مالی وسائل، افرادی قوت اور قومی عزم درکار ہے کہ محض ملکی انتظامیہ کی کوششوں کا مربوط کردیا جانا کافی نہیں۔ریڈیو پاکستان نے بھی اس دکھ کی گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کو ساتھ نہیں چھوڑا اور ڈائریکٹر جنرل سہیل علی خان کی ہدایت پر26اگست سے گھر تو آخر اپنا ہے نام سے خصوصی نشریات کا آغاز کیا گیا جس میں سیلاب ذدگان کی مدد کے لیے عوام کو آگاہی دی گئی اور ان سے ریلیف فنڈ میں عطیات دینے کی درخواست کی گئی اس قومی نشریات میں ملک کے طول وعرض سے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سیلاب ذدگان کی مدد کے لیے عطیات دیے جبکہ آج سے صوبائی سطح پر بھی ریڈیو لاہور سے خصوصی نشریات کا آغاز کیا جائے گا جو دن 12 بجے سے 2 بجے تک روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی وفاقی حکومت کے بعد پاکستان آرمی نے بھی سیلاب زدگان کی مدد کیلئے فلڈ ریلیف ڈونیشن اکاؤنٹ قائم کر دیاہے، سیلاب زدگان کی مدد کیلئے عطیات عسکری بینک کے، اکاؤنٹ جس کا ٹائٹل ”سیلاب متاثرین کیلئے آرمی ریلیف” رکھا گیا ہے میں جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ جب مشکل وقت پڑے اور فاقہ کشی کے سبب پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت آجائے تو عام آدمی کے ایک کے مقابلے میں حکمراں کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوں۔ ہمارے مقتدر طبقے قوم سے اپیلوں سے پہلے خود عملی مثال بنیں تو یقینا عام لوگوں میں بھی قومی تعمیر نو کا مثالی ولولہ نظر آئے گا اور اس مشکل وقت کا مقابلہ آسان ہوجائے گا۔ امدادی سامان اور رقوم کی تقسیم میں شفافیت کو آخری حد تک یقینی بنا یا جانا بھی لازمی ہے۔ موجودہ صورت حال سے نمٹنے کی تیاری میں یہ امر بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب فوری اقدامات کے ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں حالات کو قابو میں رکھا جاسکے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,300SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles