سستا اور مہنگا خون ؟

0
21

سی نیوز ڈیسک

کسی زمانے میں میرے پاس ایک جانور تھا جس کی وجہ سے میرا گھر ،گھر کم تو چڑیا گھر زیادہ دکھائی دیتا تھا ۔ ایک دن میرے اُس چہیتے  جانور کی سڑک پر چہل قدمی کے دوران برق رفتار گاڑی سے ٹکر ہو گئی ۔ اور  وہ شدید زخمی ہو گیا ۔اُس کے خون سے سڑک بھی سرخ ہو گئی ،میری تو جیسے دنیا ہی ہل کر رہ گئی ۔ بھاگم بھاگ جانور کو اٹھائے اسپتال پہنچا ،ڈاکٹر نے اُسے چیک کیا اور مجھے کہا کہ خون بہت بہہ گیا ہے خون کا بندبست کریں ۔میں بغیر سوچے سمجھے دوڑتا ہوا ایک بلڈ بنک پہنچا اُسے کہا کہ کیا جانوروں والا کو ئی سستا خون مل جائے گا ۔ اُس نے کہا جانوروں کا خون تو مہنگے داموں ملے گا مگر انسانوں کا خون سستے داموں میں دستیاب ہے ۔یہ جواب سن کر میرا دماغ عالم ارواح میں جا پہنچا  مگر جیسے ہی اپنے زخمی جانور کا خیال آیا تو پھر خون کا پوچھا  کہ جو سستا ہے دے دو ۔جانور کو خون مل گیا  اور وہ بچ بھی گیا ۔مگر میرا دماغ اب بھی وہیں پر ہے کہ انسانی خون سستا کیسے  ہو گیا ؟ لیکن اب اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے ۔ ہمارے پیارے دیس میں انسانوں کا خون بہانا اب ایک کھیل تماشہ بن گیا ہے ،بہت چھوٹی سی بات پر دوسرے کا خون بہا دیا جاتا ہے ،لوگوں میں غصہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ جان لینا اب جان جوکھوں کا نہیں بلکہ بہت آسان کام ہو چکا ہے ۔ کبھی وقت تھا انسان کے قتل پر دل رنجیدہ ہوتا تھا دکھ کا اظہار کیا جاتا تھا حتی کہ ایک وقت میں تو آسمان کا رنگ بھی تبدیل ہو جاتا تھا مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہے ، کہ ایک بلڈ بنک والا بھی یہ کہنے میں خوف زدہ نہیں کہ جانوروں کا خون مہنگا اور انسانوں کا خون سستا ہے ۔ بلکہ اب ایک نئی لکیر کھینچ دی گئی ہے ۔ ہمارے ملک میں امیر اور طاقتور کے خون کی قیمت اور غریب کے خون کی قیمت میں فرق پیدا کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ خون کا رنگ تو ایک جیسا ہوتا ہے مگر قیمت اب مختلف ہو گئی ہے ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے اسلام آباد میں قتل کے دو مختلف واقعات سامنے آئے ۔ ایک واقعہ میں پاکستان کے سابق سفیر کی بیٹی کو ایک جنونی نے بےدردی سے قتل کیا  تو دوسرے واقعہ میں ایک گداگر خاتون اور اُس کے اٹھارہ ماہ کے بیٹے کو چھری سے ذبح کیا گیا ۔ واقعے دونوں ہی دل دکھانے والے ہیں تاہم فرق یہ ہے کہ پہلے واقعہ میں مہنگا خون ہوا یہی وجہ ہے کہ اس قتل کی دادستان ملک کے درودیوار پر لکھی جا رہی ہے ، میڈیا جس طرح سے نور مقدم قتل کیس کو کور کر رہا ہے اور اس کی پل پل رپورٹنگ ہو رہی ہے یہ صرف  مہنگے خون کی ہی ہو سکتی ہے ۔ اور تو اور وفاقی وزرا بھی  اس کیس کی ایک ایک منٹ کی خبر دینا اپنے لئے ضروری سمجھتے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کے خرم دستگیر اور پی ٹی آئی کی شیریں مزاری نے بھی نور مقدم کیس پر بات کی ۔ اسی طرح سول سوسائیٹی نور کے لئے انصاف کی دہائیاں دے رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مہنگے خون کی داستان ہر گزرتے پل کے ساتھ اپ ڈیٹ ہو رہی ہے ۔ ہونی بھی چاہیے ،قتل کی اصل کہانی اور وجوہات سامنے لائی جانیں چاہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ مہنگا خون نہ ہوتا تو کیا پھر بھی اس کی اسی طرح سےکوریج کی جاتی ۔میڈیا کیا، سوشل پلیٹ فارمز کیا اور تفتیشی پولیس افسیر کیا سبھی اس کیس کی صفائیاں اور ملزم کو کیفرکردار تک پہنچانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف ایک سستا خون تھا ۔ پہلے ماں سے زیادتی کی گئی پھر اُس کے گلے پر چھری چلائی گئی اور اس سے بڑھ کر اس کے اٹھارہ ماہ کے بیٹے کو اس کی آنکھوں کے سامنے چھری سے ذبح کیا گیا ۔ ماں دو روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہی پھر دم توڑ گئی ۔ اگرچہ پولیس اس گداگر ماں بیٹے کے قاتل کو گرفتار کر چکی مگر خون چونکہ سستا تھا اس لئے نہ میڈیا پر شور وغل مچا ، نہ سوشل میڈیا پر نور مقدم کا کیس  لڑنے والوں نے اس ماں بیٹے کی بات کی ۔ حالانکہ واقعہ انتہائی خوفناک ہے ۔ گداگر عورت اٹھارہ ماہ کے بیٹے کے ساتھ قتل ، ملزم پکڑا گیا ،بس کہانی مکمل ہو گئی ۔ اس کیس کے ملزم کو کب کب عدالت میں پیش کیا گیا ۔ کتنے دن کا ریمانڈ ہوا، ملزم نے اعتراف کیا یا نہیں ۔ کسی طرح کی کوئی خبر نہیں ۔ کیونکہ سستا خون تھا ۔ نور مقدم قتل کیس کی کہانی آج کل جس کلاس کی کہانیوں کے ڈرامے دکھائے جار ہے ہیں اُنہیں میں سے ایک ہے ۔جس میں کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے ۔ اور وہی کلاس اس کیس کو اٹھا رہی ہے جبکہ گداگرخاتون اور اُس کے بیٹے کا قتل ایک مکمل مختلف مگر خوفناک کہانی ہے ۔ دونوں  واقعات خوفناک ہیں ،دونوں میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں ۔مگر ایک کا ڈھنڈورا پاکستان بھر میں ہے جبکہ دوسرے کا تذکرہ بھی نہیں ۔ آخر کب اس سستے اور مہنگے خون کا فرق ختم ہوگا ۔کب انصاف کا بول بالا ہوگا؟یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر خاص و عام اٹھا رہا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here