دل کی گرفتاری موت کی تیز رفتاری

0
26

میری بات۔۔۔۔مدثر قدیر

گروارجن نگر میں ہمارے گھر کے عقب میں اعجاز حسین رہتے تھے جو سوئی گیس میں ملازمت کرتے تھے میری ان سے ملاقاتیں عموما چھت پر پتنگ بازی کرتے ہوئے ہی ہوتی تھیں،شہر داری کے ماحول کے مطابق لوگ چھتوں پر سونے کے عادی تھے گرمیوں میں دن ڈھلنے کے بعد اور سردیوں میں دوپہر ہی کو لوگ چھتوں پر آجاتے تھے میں بھی اسکول سے اور پچھلی پڑھائی سے فارغ ہوکر چھت پتنگ باذی کے لیے موجود ہوتا تھا میری اعجاز حسین سے اتنی واقفیت نہیں تھی مگر وہ مجھے میرے والدکی نسبت سے جانتے تھے ایک دن صبح سویرے میں ناشتہ کرنے کے بعد اسکول جانے کی تیاری کررہا تھا تو اچانک ان کے گھر سے رونے،چیخنے کی آوزیں آنے لگیں میں اپنے گھر کی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اعجاز حسین کے گھر پہنچا تو دیکھا وہ زمین ہپر گرے پڑے ہیں اور ان کی بہن مدد کے لیے پکار رہی ہیں میرے وہاں پہنچنے کے ساتھ ہی اور محلہ دا بھی وہاں آگئے ان کی بہن کہنے لگیں کہ انھیں دل کا دورہ پڑا ہے ایمبولینس کا اہتما م کریں اس وقت نہ تو کسی کے پاس موبائل کی سہولت تھی اور نہ ہی گھروں میں ذیادہ گھروں میں ٹیلی فون میسر تھا محلہ دار ایمبولینس کے لیے دوڑے اور میں اعجاز حسین کے بے سدھ جسم کو دیکھ دیکھتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوا اور اسکول چلا آیا،اسکول سے واپسی پر پتہ چلا کہ اعجاز حسین کی دل کے دورے سے موت واقع ہوگئی تھی اور دل کا دورہ اتنا شدید تھا کہ ہسپتال جانے سے پہلے ہی وہ گھر ہی میں وفات پاچکے تھے اس واقع کا اثر کافی دنوں تک میرے دماغ پر ہا اس کے بعد اسی طرح کا واقع میرے ساتھ 12مئی 2004ء کو پیش آیا جب میر والد صبح سویرے سروسز ہسپتال کے پلمانالوجی وارڈ میں دل کے دورے کی وجہ سے وفات پاگئے میں نے ڈیوٹی ڈاکٹر سے پوچھا کہ انھیں کیا ہوا تھا تو انھوں نے کہا کہ سڈن ہارٹ اریسٹ،میرے لیے یہ ٹرم نئی تھی میں اس کو سمجھ نہیں سکا کہ یہ کیا چیز ہے میرے وہم وگما ن میں بھی نہیں تھا کہ میرے والد اچانک وفات پاجائیں گے کیونکہ 15دنوں کے مسلسل علاج کے باعث وہ اس قابل ہورہے تھے کہ ان کی صحت بحالی کی راہ پر گامزن ہوئی وہ اپنے پیروں پر چل کر ہسپتال آئے اور ا س کے بعد ان کا علاج شروع ہواوہ چین اسموکنگ اور شوگر کی وجہ سے متعدد امراض کا شکار تھے اور گزشتہ کئی دنوں سے ان کی طبیعت مسلسل خراب چلی آرہی تھی انھوں نے زندگی بھر کبھی بھی ڈاکٹری علاج کو نہیں اپنایا ہمیشہ طب یونانی حکمت سے رجوع کیا مگر اس وقت ایمرجنسی کی صورت حال ہوچکی تھی میں اور چھوٹی بہن نے بڑی بہن کو سرگودھا فون کیا کہ وہ آئیں اور ابو کو ہسپتال لے کر جائیں مگر اسی دوران ابو کی طبیعت ذیادہ بگڑنے پر میں رمضان بٹ کو مدد کے لیے آوازیں دینا شروع کیں جو ہماے ساتھ والے گھر میں رہتے تھے وہ فوراآئے اور انھوں نے سہارا دے کر میرے والد کو چارپائی سے اٹھا کر صوفے پر بٹھایا اور ان کو ہسپتال جانے کے لیے قائل کرنے لگے انھوں نے اپنے ہاتھ سے اسگریٹ سلگا کر انھیں دی کیونکہ انھیں پتہ تھا کہ اسگریٹ کے بغیر ان کو سمجھانا مشکل کام ہے برحال 30منٹ تک رمضان بٹ نے انھیں اس قابل کرلیا تھا کہ وہ ہسپتال جانے پر رضامند ہوگئے مگر نیا مسئلہ یہ تھا کہ وہ میوہسپتال نہیں جانا چاہتے تھے،میو ہسپتال میرے گھر سے 5 منٹ کی مسافت پر تھا مگر آج اس کا فاصلہ کوسوں دور تھا آخرکا طے پایہ کہ ہم سروسز ہسپتال جائیں گے توفیصل انکل کی وساطت سے ایمبولینس آئی اور والد کسی بھی سہارے کے بغیر اپنے پیروں پر چل کر ا س میں سوار ہونے سے پہلے ٹھر گئے اور مکان کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھنے لگے شاید ان کے ذہن میں آگیا تھا کہ میں اب ذندہ نہ رہ سکوں،سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقلی تک وہ اپنے پاؤ ں پر چلتے رہے مگر بعد میں انھوں نے اپنا آپ چھوڑ دیا،ڈاکٹروں نے ان کے تمام ٹیسٹ کرواکر نتیجہ نکالا کہ ان کے پھپھڑے 10 فی صد سے زائد کام نہیں کررہے ان کو پلمانالوجی وارڈ میں شفٹ کردیں اور آکسیجن ماسک لگادیا جائے چنانچہ انھیں پلمانالوجی وارڈ میں شفٹ کیا گیا مگر 12مئی کو سڈن کارڈک اریسٹ کی وجہ سے انتقال کرگئے ایسی ہی صورت حال کا سامنا مجھے جون 2011ء میں کرنا پڑا جب میرے دوسرے بزرگ نغمہ نگار اور شاعر خواجہ پرویز کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا ان کو میں لے کر میوہسپتال کی ایمرجنسی سے گورا وارڈ شفٹ ہوا اور 11جون کو ان سے مل کر باتیں کرکے جب گھر پہنچا ہی تھا تو خواجہ مبشر کا فون آگیا کہ والد صاحب کہ وفات پاگئے ہیں میرے دماغ نے ماننے سے انکار کردیا کہ ابھی میں ان سے مل کر آیا ہوں ہشاش بشاش تھے اور اب یک دم 15منٹ کے دوران کیا ہوگیا میں فورا ہسپتال واپس پہنچا تو دیکھا کہ ان کا جسد خاکی گھر لانے کے لیے ایمبولینس میں منتقل کیا جارہامیں نے آن ڈیوٹی ڈاکٹر پوچھا کیا ہوا تو اس نے بتایا کہ سڈن کارڈک اریسٹ۔یہ بیماری بھی عجیب ہے کہ اس کی لپیٹ میں جو بھی آتا ہے اس میں اکثریت کی موت واقع ہوجاتی ہے اس حوالے سے جب میں نے اعداد وشمار دیکھے تو پتہ چلا کہ ہرسال کئی افراد دل کے مرض کی وجہ سے وفات پاجاتے ہیں اور انہی لوگوں میں ایک تہائی تعداد ایسی ہوتی ہے جن کی موت سڈن کارڈک اریسٹ کی وجہ سے ہوئی اگر اردو میں اسکا ترجمہ کریں تو دل کی گرفتاری مطلب بنتا ہے،دل کا مرض عشق میں گرفتار ہونا تو سنا تھا مگر اس کا موت کے عشق میں مبتلا ہونے کا اب پتہ چلا اس حوالے سے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ریلیف پروفیسر ڈاکٹر افضل میاں جو اس حوالے عوامی آگاہی کا بڑا کام سنبھالے ہوئے ہیں ان سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ سڈن کارڈک اریسٹ کی وجہ سے جو اموات ہوتی ہیں ان کا دائرہ کار تمام عمر میں یکساں ہے۔سڈن کارڈ اریسٹ کی وجہ سے انسان یک دم گرتا ہے اور دماغ کو آکسیجن نہ ملنے کے باعث دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ایسے انسان کی بحالی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چانسز کم ہوجاتے ہیں یعنی گرنے کے 2منٹ بعد 80فیصد اور 4منٹ بعد ذندگی کی بحالی کے 60 فی صد چانس رہ جاتا ہے ایسے مریض کو کیسے ہنگامی طور پر ابتدائی طبی امداد دینا ہے اسی بات پر مریض کی ذندگی بچائی جاسکتی ہے اگر مریض گرنے کے بعد آپ کی بات سن کر آپ کو جواب دے توایسا مریض کارڈ اریسٹ کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دماغ کام کررہا ہوتا ہے اگر مریض کی طرف سے کوئی اشارہ نہ آئے تو سمجھیں یہ سڈن کارڈک اریسٹ کا شکار ہے اسے فورا فلیٹ لٹا دیں اس کی ٹانگیں کسی چیز کا سہارا لے کر اونچی کریں دیگر لوگوں کو مدد کے لیے پکاریں اور اپنے ہاتھوں کی ٹو سے اس کی چھاتی کو دبا 30 کر کمپریشن یعنی جھٹکا دیں اور اس کے ناک کو پکڑ کر منہ کے ذریعے پھونک ماریں اس وجہ سے اس کے پھپھڑوں میں آکسیجن بھر جائے گی جو مریض کی بحالی میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور ہم نے اپنی ایسوسی ایشن کے تحت اب تک مساجد میں اس حوالے سے سینکڑوں لوگوں کی تربیت کی ہے کہ اگر انھیں کہیں بھی ایسی صورتحال سے واسطہ پڑے تو انھوں نے کیسے مریض کی ذندگی کو بچانے کی کوشش کرنا ہے کیونکہ جس نے ایک ذندگی بچائی اس نے انسانیت کی خدمت کی اور ہمار عزم ہے کہ ہم اپنے کیمپوں کے ذریعے ملک بھر کے لوگوں کو تربیت فراہم کریں انھوں نے مزید کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہجوم والی جگہوں جیسے ریلوے اسٹیشن،ہوائی اڈے،جنرل بس اسٹینڈ،اسکولززاور بازاروں میں آٹومیٹڈ ایکسٹرنل ڈی فیبلیریٹرز مشینیں نصب ہوتی ہیں جو اچانک دل بند ہوجانے کی صورت میں مریض کی بحالی میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں اس کو چلانے کا طریقہ کار تھوڑی سی تربیت سے عام آدمی اور بچے بھی سیکھ سکتے ہیں۔پروفیسر افضل میاں کی آگاہی گفتگو کے بعد میں نے سوچا کہ انسان دل کے مرض کا شکا رکیوں ہوتا ہے اور ایسی باتیں قارئین کو بتانی چاہیے جس سے دل طاقتور بنے تو اس ضمن میں ماہر امراض دل ڈاکٹر فرقان یعقوب کا خیال آیا اوران سے بات کرنے پر پتہ چلاکہ پاکستان میں 2019 میں دل کی بیماری سے 2 لاکھ اموات ہوئیں اور اب دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے،امراض قلب سے بچنے کیلئے غذا کا مناسب استعمال کرنا ضروری ہے،قدرتی غذا کھائیں، پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں زیادہ کولیسٹرول جسم میں مختلف بیماریوں کو جنم دیتا ہے اور خون کے گھاڑا ہونے سے دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں دل کے کمزور ہونے اور اس کے امراض سے بچنے کیلئے زیتون کا تیل، کنولا آئل، اخروٹ اور ناریل،چاول،انڈے،مکئی کی روٹی،چپاتی کا استعمال کیا جانا چاہیے اور اب میں چلتے چلتے بات کرو ں گا ریڈیو پاکستان کی سی بی اے الیکشن کی جس میں یو ایس او تو ملک بھر میں کامیاب ہوئی مگرلاہور مرکز پر طارق شاہ کی بریانی کی دیگیں بھی اس کو ہار سے نہ بچا سکیں ان کی تیسری پوزیشن رہی اور یہی حال ورکرز یونین کے ساتھ ہوا جن کے چئیرمین کو اب مستعفی ہونے کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہاں داد دینی پڑے گی ایمپالائیز یونین کی نوجوان قیادت کی کہ انھوں نے بڑے حوصلے اور جدوجہد سے الیکشن لڑ کر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ان کو اب واقعی ہر پلیٹ فارم پر ریڈیو ملازمین کے جائز مطالبات پر بات کرنا ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here