خوشی کے رنگ ذہنی صحت کے سنگ۔

0
19

تحریر:مدثر قدیر

کامران بٹ نے اپنی والدہ کی اچانک وفات کو اپنے دل و دماغ پر لے لیا اور ساتھ ہی مسلسل چرس پینے کی وجہ سے دماغ میں کمیکلز کے اتار چڑھاؤ نے اس کے نیورو ٹرانسمیٹرز کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا جس کے باعث اب وہ شدید نوعیت کی ذہنی بیماریوں کا شکار ہوگیا اس نے اپنی اس بیماری کا اثر اردگرد کے لوگوں پر ڈالنا شروع کردیا جس سے پورے محلہ میں اضطراب اور بے چینی بھڑھ گئی میں خود بھی کئی بار اس کی عجیب وغریب حرکات کا شکار ہوا مگر آخر کار اس کے ذہنی فتور کا علاج ہوا ڈاکٹرز نے ادویات دے کر اس کی ذہنی بیماری اور بے اطمینانی کو کم کرکے نیورو ٹرانسمیٹرز کو ٹھیک کیا اور آج وہ اس حال میں ہے کہ اپنا کاروبار کررہا ہے مگر اب اس کی ذہنی پریشانی اس کی شادی کا نہ ہونا ہے،ذہنی بیماری کے حوالے سے دوسرا واقعہ میری کزن کا ہے جو Obsessive-compulsive disorderیعنی آسان الطاظ میں وسوسے اور وہم اضطرابی کیفیت کی شدت کے مرض کا شکار تھی مجھے خود بیماری کی اس کیفیت سے آگاہی نہیں تھے مگر اپنے بڑے کزن چوہدری صفدر رضا کے ساتھ ان کے کسی مریض کے علاج کے ضمن میں ایک بار جب مینٹل ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچا تو وہاں دیوار پر اس بیماری کے حوالے سے آگاہی کو پڑھ کر مجھے اس بیماری کی نوعیت بارے پتہ چلا میں نے ان کو آواز دے کر توجہ اس جانب کرائی اور انھوں نے اسے پڑھ کر تاریخی جملہ کہا کہ یہ بیماری تو اس خاتون کو لاحق ہے مگر وہ مانتی نہیں کیونکہ وہ ماننے والوں میں سے نہیں اسی طرح ہمارے اردگرد کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے حالات کے باعث ڈپریشن اور شدید ڈپریشن کی نوعیت کا شکار ہوجاتے ہیں جن کا علاج کروانا ان کے گھر والوں کی ذمہ داری ہے ورنہ یہ لوگ اپنے ردگرد کے رہنے والوں کے لیے وبال جان بن جاتے ہیں۔ذہنی بیماریاں بھی عام جسمانی بیماریوں کی طرح ہیں مگر ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی عوامل ضرور کار فرما ہوتا ہے اس حوالے سے جب میں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات او رذہنی امراض کے سابق سربراہ اور پاکستان سائیکاٹرسٹ ایسوسی ایشن کے صدر پروفسر ڈاکٹر ریاض بھٹی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا ہر سال 10اکتوبر کو ذہنی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ ذہنی بیماریوں کو عام بیماریوں کی طرح سمجھتے ہوئے ان کا علاج کیا جانا ضروری ہے اللہ تعالی نے انسانی جسم میں قوت مدافعت کا جو سسٹم پیدا کیا ہے اس کا اثر ذہنی بیماریوں پر بھی پڑتا ہے،قوت مدافعت جتنی تیز ہوگی اتنا ہی یہ ان بیماریوں کے خلاف ردعمل دے گی اگر ذہنی بیماری مائلڈ سے موڈریٹ کی جانب بڑھ رہی ہے تو ادویات کی بجائے قوت مدافعت ہی اس کا راستہ روکنے میں اپنا کردار دا کردے گی مگر یہی بیماری اگر موڈریٹ سے سوئیر ہوجائے تو ایسے مریض کوادویات اور مکمل علاج کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ڈپریشن یاسیت یا افسردگی کو کہتے ہیں اور انزائٹی کا مطلب ہے تشویش یا فکرمندی جو بہت ہی تکلیف دہ اور قابلِ رحم بیماریاں ہیں۔ ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتاہے آپ اداس ہیں، آپ کا دل روزانہ کے کاموں میں نہیں لگتا، آپ مایوسی کا شکار ہیں، خود کو بے چینی، گھبراہٹ یا بے بسی کا شکار محسوس کرتے ہیں تو یہ سب ڈپریشن کا شکار ہونے کی علامات ہیں۔ دیگر معاملات میں بھوک نہ لگنا، ٹھیک سے نیند نہ آنا، وزن میں کمی ہونا، فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کرنا یا توجہ اور یادداشت میں کمی ہونا شامل ہیں۔ ڈپریشن اگر زیادہ مدت تک رہے تو خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ڈپریشن ذہنی بیماریوں کی جڑ ہے اس کی وجہ سے ایک تہائی مریض خودکشی کرلیتے ہیں، ذہنی بیماریوں ہی کی وجہ سے انسان دیگر جسمانی بیماریوں کا شکار ہوجاتا جیسے سٹریس بھڑ ھنے سے دل ا ور بلڈ پریشر کی بیماری اپنی گرفت کرلیتی ہے اور دماغ سکڑنے سے بھولنے کی بیماری کا آغاز ہو جاتا ہے جو بڑھتی عمر کے ساتھ اپنی شدت میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں اور آپ بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہیں تو ایسی صورت میں خوراک کا خیال رکھ کر، نیند پوری کرکے اور باقاعدگی سے ورزش کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ڈپریشن اتنا شدید ہو جس سے آپ کے روزمرہ معمولات متاثر ہوجائیں تو اس کی درست تشخیص کے لیے آپ کو جنرل فزیشن، ماہر نفسیاتی امراض (سائیکالوجسٹ، سائیکاٹرسٹ) یا تھراپسٹ کی مدد لینی چاہیے۔ منفی سوچ کو وقت کا زیاں جان کر اپنے حال پر توجہ دیں، ساتھ ہی اپنی سوچ کو منتشر ہونے سے بچا کر پریشان کن خیالات کو ذہن سے جھٹک دیں۔ ایسی چیزوں سے دور رہیں جن کی وجہ سے آپ کا ذہنی سکون خراب ہوتا ہے۔ کئی لوگ فکر سے بچنے کے لیے ٹی وی، گیمز اور منشیات کا سہارا لیتے ہیں مگر ان کے سہارے دماغ کو طویل عرصے تک پرسکون نہیں رکھا جا سکتا۔انزائٹی ایک نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کا نام ہے، جس سے بڑی عمر کے افراد کے علاوہ نوجوان بھی متاثر ہیں اس کیفیت میں مبتلا رہنے میں انسان کے اردگرد کا ماحول اور اس کی اپنی ذہنی صلاحیت کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ یہ کیفیت عمر کے کسی حصے میں بھی آشکار ہوسکتی ہے۔ انزائٹی اس وقت ہوتی ہے، جب اس پر قابو پانے کی صلاحیت کے بارے میں ہم بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کو باور کرنا ہوگاکہ سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ڈپریشن،انزائٹی کے بعد وسوسے اور وہم کی بیماری بھی بڑی اہمیت طلب ہے اس میں مبتلا مریض کو یہی وہم وسوسہ رہتا ہے کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں ان ہر جراثیم تو نہیں لگے میں ایسا کروں گا تو کیا ہوگا اس موقع پر ڈاکٹر صاحب کا مزید کہنا تھا کہ ذہنی بیماریاں بھی وراثتی طور پر منتقل ہوجاتی ہیں اور نسل در نسل چلتی ہیں۔ ذہنی صحت کی خرابیوں کاعلاج زیادہ تر دیگر بیماریوں کی طرح ہی ہوتاہے۔ کچھ تھراپی کے طریقے بھی موجود ہیں اور متاثرہ افراد درج ذیل مشوروں پر عمل کرکے بھی اپنی دماغی صحت کو بہتر رکھ سکتے ہیں۔ جیسے اپنی پریشانی شیئر کریں،مثبت رویہ اپنائیں،جسمانی مشقت یعنی ورزش کو معمول بنائیں اور خود کو اہمیت دیں یعنی مصروف زندگی اور مایوسی میں اپنا خیال رکھنا نہ چھوڑیں اپنے روزانہ کے معمولات کا خیال رکھیں، غذاٗوں میں صحت بخش چیزیں استعمال کریں اور انھیں وقت پر کھائیں، مکمل اور پرسکون نیند لیں تاکہ آپ کے دماغ کی بیٹری چارج ہوسکے۔ڈاکٹر ریاض بھٹی سے سیر حاصل گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ذذہنی بیماریاں بھی عام بیماریوں کی طرح ہیں اور علاج سے ان کو شکست دی جاسکتی ہے۔زندگی کے ہر معاملات میں میانہ روی اختیا کرنے ہی سے معاملات ذندگی درست سمت چلتے ہیں اور انسانی ذندگی کی خوشی کے رنگ ذہنی صحت کے سنگ ہی ممکن ہیں لہذا میانہ روی اور حسن سلوک کے بنیادی اصولوں کو اپنائیں یہاں میں چلتے چلتے سماجی تنظیم روشن سائے کی ون ویلینگ کے خلاف جاری آگاہی مہم کی بات کروں گا جو بڑی ذور و شور سے جاری ہے جس میں مختلف طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں،میں اپنے طور پر ون ویللنگ کو بھی ذہنی بیماری تصور کرتا ہوں اس کی وجہ سے بھی کئی نوجوانو اں کی موت واقع ہوچکی ہے،موٹر سائیکل پر کرتب دکھاتے ہوئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں حادثہ کا شکار ہوکر اپنے اور اپنے گھروالوں کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کرنا درست نہیں ہمیں اس رویے خلاف آگاہی کی ضرورت ہے،تنظیم کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ون ویلینگ معاشرے میں ایک ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اس حوالے سے نوجوانوں کو مثبت سوچ اپنانے کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ وہ ملک ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here