11.6 C
Pakistan
Wednesday, December 7, 2022

جوہری پلانٹ پر گولہ باری خودکشی کے مترادف

ایم اے خوشی

جوہری پلانٹ پر گولہ باری خودکشی کے مترادف

روس یوکرائن جنگ میں واشنگٹن کی مداخلت پر بیجنگ کے تحفظات!

پیوٹن فوجی مقاصد کے حصول کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا سہارا لے سکتے ہیں

ماسکو کو طویل جنگ اور پابندیوں کے ذریعے کچلنے کی تیاریاں،امریکہ یوکرائن کو اربوں ڈالرز

 کی فوجی امداد فراہم کرکے خطے میں نئی سرد جنگ والی ذہنیت لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہے

ایم اے خوشی

 یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کے دفتر اور فائر سٹیشن پرحملے سے حالات مزید کشیدگی کی طرف مائل ہوئے ہیں ،قبل ازیں بھی اس سنگین ایشو پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پلانٹ پر گولہ باری کی مذمت کی گئی تھی حتیٰ کے شی جو شاذو نادر ہی روس پر تنقید کرتے ہیں نے کہا تھا کہ اسے بھی جوہری تحفظ سے متعلق خدشات ہیں حالانکہ چین اور روس کے تعلقات تاریخ کے بہترین دور میں داخل ہو چکے ہیں جن کی وجہ باہمی اعتماد کی بلند ترین سطح، اعلیٰ ترین روابط اور سب سے زیادہ سٹریٹجک اہمیت ہے یہی وجہ ہے کہ اب ماسکوکوسخت پابندیوں اور ایک طویل جنگ کے ذریعے کچلنے کی منصوبہ بندی پر بڑی تیزی کے ساتھ عملدرآمد کیا جا رہا ہیحقیقت میں واشنگٹن خطے میں سرد جنگ والی ذہنیت لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یا درہے کہ روس نے مارچ کے اوائل میں بڑے پیمانے پر حملے کر کے اس جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کیا تھاجس سے پورے یورپ میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے۔ماسکو دنیا کے بدترین جوہری حادثے کو بھڑکائے گا یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ 2014 ء میں ماسکونے جزیرہ نما کریمیا علاقے کو اپنے اندر شامل کر لیا تھا ۔ماسکو کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ یوکرائن اور جارجیا کو کسی بھی حالت میں نیٹو کا حصہ نہ بنایا جائے۔روس پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی صورت میں امریکہ اور مغرب کو پیوٹن کی تنبیہہ نے تعلقات کو بری طرح متاثر کیاہے جس پرسبھی تشویش کا شکار ہیں۔ یوکرائن کا نیا فوجی جغرافیہ کیا ہو گایا دوسرے لفظوں میں پیوٹن کہاں رکنے کا فیصلہ کریں گے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ ماسکو حکومت جہاں اپنے اہم اتحادی ملک شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ مل کر علاقائی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھارہی ہے وہیں جوبائیڈن انتظامیہ محسوس کر رہی ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ بین الاقوامی سطح پر کچھ پیچھے ہٹ گیا ہے اس سلسلے میں امریکہ نیٹو کو مضبوط کرکے خطے میں نئے سرے سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ۔ 

شام میں روس کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے اس خطے میں سمندری راستے سے جتنی بھی امداد جاتی ہے وہ یہیں سے ہو کر دیگر ممالک تک پہنچائی جاتی ہے اور اگر یہ امداد روک دی گئی تو مہاجرین کا ایک طوفان یورپ کی طرف نکل کھڑا ہو گا۔اسرائیل بھی اس جاری تناؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔صہیونی فورسز شام میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ پیوٹن نے اس بارے میں اپنی آنکھیں بھینچ رکھی تھیں لیکن اب خدشہ ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا سہارا لے سکتے ہیں لہٰذاانہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے علاقے میں ایک غیر عسکری زون قائم کرنے کامطالبہ کر دیا ہے ۔برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ نئے سکیورٹی معاہدے’’آکوس ‘‘ سے جنوب مشرقی ایشیاء میں عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس کے تحت آسٹریلیا کو ایٹمی ایندھن سے لیس کم از کم 12 آب دوزیں بنانے اور انہیں سمندر میں تعینات کرنے کی ٹیکنالوجی فراہم کی جارہی ہیں، درحقیقت یہ معاہدہ انہی اقدامات کا حصہ تھا جس کے تحت واشنگٹن انڈو چائنا کو اپنا محور بنا چکا ہے۔’’کواڈ ‘‘فورم میں موجود انڈو پیسیفک میں امریکہ کا سب سے طاقتور اور قریبی اتحادی جاپان ہے جس کے پاس ہر قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور اسے ترقی دینے کی غیر معمولی صلاحیت بھی موجود ہے لیکن اسے صرف اس لئے اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیاکہ ایٹم بم کے بھیانک سائے جاپانی رائے عامّہ کو اس معاہدے پر آمادہ نہیں کرسکیں گے حالانکہ آئین کے آرٹیکل 9 میں ترمیم کے بعد تو ایسا ممکن بھی تھا۔روس یوکرائن تنازع مغرب کیلئے ایک سٹریٹجک دھچکا ہے کیونکہ اس سے جہاں نیٹو کی قابلیت واضح ہوئی ہے وہیں معاشی بحران میں مبتلا جوہری ہتھیاروں سے لیس امریکہ ،برطانیہ اور فرانس اب اس جنگ سے راہ فرار اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اقتصادی ترقی کو اس قدر متاثر کیا کہ آج اقوام متحدہ نے’’ عالمی بھوک کے بحران‘‘ کی وارننگ دی ہے۔

امریکی کساد بازاری اور یوکرائن پر روسی حملے کے بعدمغربی ممالک کو ان دنوں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہی وجہ ہے کہ جی 7 ممالک کے رہنما ء خوراک کے بحران سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے، غریب ترین ممالک کے قرضوں کو منسوخ کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے ضرورت سے زیادہ کارپوریٹ منافع پر ٹیکس لگانے پر غور کر رہے ہیں ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے اتحادیوں کو یوکرائن جنگ اور اس کے عالمی خوراک اور ایندھن پر اثرات جیسے مسائل کے تناظر میں ’’ساتھ چلنے‘ ‘کی تلقین کرتے ہوئے روسی سونے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے مگر تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان معاملات پر تمام شراکت داروں میں ہم آہنگی ہو سکے گی یا نہیں۔قبل ازیں بھی یہ تحریر کیا جا چکا ہے کہ مغربی فوجی سربراہان اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگر روس کو مزید جارحیت سے روکنا ہے تو دفاعی اخراجات میں فوری اضافہ کرنا ہو گالیکن حالیہ دہائیوں میں لگاتار دفاعی کٹوتیوں نے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا نیٹو کے پاس مستقبل میں روسی مداخلت کو روکنے کے لئے کافی صلاحیت موجود ہے اگرچہ حال ہی میں برطانیہ کے دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے لیکن خریداری میں بھی بڑے پیمانے پر ضیاع ہوا ۔ماسکو اور بیجنگ کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جودھمکی تھی کہ اگررکن ممالک نے اپنا بوجھ نہ اٹھایا تو وہ امریکہ کو اس اتحاد سے نکال لیں گے اس کا کچھ تو اثر ہوا لیکن یوکرائن پر روسی حملے کے بعد اس کے اثرات کافی دکھائی دئیے لہٰذا نیٹو ارکان فی الحال اپنی سالانہ مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کے پابند ہیں لیکن سب ایسا نہیں کرتے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ نے دفاع پر 3.5 فیصد، برطانیہ نے 2.2 فیصد اور جرمنی نے صرف 1.3 فیصد خرچ کیا جبکہ اٹلی، کینیڈا، سپین اور نیدرلینڈز 2 فیصد سے کم خرچ کر رہے ہیں جبکہ روس اپنی جی ڈی پی کا 4.1 فیصد دفاع پر خرچ کررہا ہے۔یوکرائن میں روسی افواج کی مداخلت کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے پہلے بھی بینکوں کو نشانہ بناتے ہوئے سخت تجارتی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

روس یوکرائن تنازع نے دنیا کو ایک نئے دوراہے پر لاکھڑا کر دیا ہے۔امریکی معیشت کے مسلسل دوسری سہ ماہی میں سکڑنے سے اقوام عالم پر بے یقینی کے بادل چھا رہے ہیں ۔واشنگٹن میں کساد بازاری کا امکان 40،مغربی ممالک میں 55جبکہ ایشیاء میں 20 سے 25 فیصد کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق توقع سے زیادہ افراط زر خاص طور پر امریکہ اور بڑی یورپی معیشتوں میں عالمی مالیاتی حالات میں سختی پیدا کر رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق جی ڈی پی گزشتہ برس 6.1 فیصد کے مقابلے میں رواں سال 3.2 فیصد رہی۔تیل برآمد کرنے والے بیشتر خلیجی ممالک حالیہ ہونے والے نقصان گھاٹے کے پیش نظرعالمی تجارت میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری کے خاتمے کے خواہشمند ہیں۔روس پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کے خطرات سے بچاؤ کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے اجناس کی خریداری کیلئے انڈین روپے میں ادائیگیوں کی منظوری کے بعد تجارتی کمپنیوں نے ڈالر زکے بجائے ایشیائی کرنسیوں کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔ امریکہ، یورپ ،برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرح نیوزی لینڈ، تائیوان، آسٹریلیا اور فلپائن کے مرکزی بینک بھی بڑھتی ہوئی افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لئے مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافہ کو ترجیح دی لیکن دوسری طرف آمدن میں کمی کے باعث لوگوں نے اخراجات بھی کم کئے ہیں جس سے سرمایہ کاری، ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے میں سست روی دیکھنے کو مل رہی ہے۔واضح رہے کہ 2008 ء میں بھی کئی مالیاتی ادارے اور کمپنیاں دیوالیہ ہو ئی تھیں۔امریکہ اپنے اتحادیوں کو ایک طرف چین اور روس کیخلاف نیا محاذکھول کراٹیمی ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کیلئے نت نئے معاہدے کر رہا ہے تو دوسری طرف تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق انتباء اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے حالات مزید کشیدگی کی طرف مائل ہوئے ہیں جس کا اندازہ اس امر سے بھی بخوبی لگایا جا سکتاہے کہ اس پروگرام مکمل طور پر تباہ کرنے کیلئے صہیونی حکومت نے دفاعی بجٹ میں اربوں ڈالرز مختص کر رکھے ہیں۔یورپی یونین نے بھی ماسکو پر دباؤ بڑھانے اورمزید نقصان کو کم رکھنے کیلئے بعض سخت ترین اقدامات کی تجویز دی ہے جن میں روسی خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی درآمد کو 6 ماہ کے عرصے میں مرحلہ وار ختم کرنے کے علاوہ جنگی جرائم میں ملوث فوجی افسران پر پابندیاں لگا کر2022 ء کے آخر تک گیس کی درآمد کو2تہائی حصہ تک کم کرنے کا وعدہ بھی کیاگیاہے۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی 2021 ء کے اعداد و شمار کے مطابق تیل برآمدات کا صرف 20 فیصد حصہ چین کو جاتا ہے جس میں اب 9فیصد اضافہ ہوا جبکہ یورپ کی 40 فیصد گیس اور 26 فیصد تیل کی ضرورت اب بھی ماسکو ہی پوری کررہا ہے لیکن اب اس بحران نے یورپ کی اس سوچ کو مزید تقویت دی ہے کہ اسے اپنی ضروریات کے لئے دیگر ذرائع پر بھی غور کرنا ہو گا۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,300SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles