27.2 C
Pakistan
Thursday, July 29, 2021

توشہ خانہ کیا ہے؟

پاکستان میں بہت کم لوگ ہیں جو توشہ خانہ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ حالانکہ اج کل ٹیلی ویژن سکرینز پر توشہ خانہ کے بارے میں بہت سی خبریں گرم ہوتی ہیں اس کے باوجود بہت کم لوگ اس توشہ خانہ کے بارے میں جانتے ہیں ۔ اس ویڈیو میں توشہ خانہ کے بارتوشہ خانہ کیا ہے؟


پاکستان میں بہت کم لوگ ہیں جو توشہ خانہ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ حالانکہ اج کل ٹیلی ویژن سکرینز پر توشہ خانہ کے بارے میں بہت سی خبریں گرم ہوتی ہیں اس کے باوجود بہت کم لوگ اس توشہ خانہ کے بارے میں جانتے ہیں ۔ اس ویڈیو میں توشہ خانہ کے بارے میں ہم اپنے دیکھنے اور سننے والوں کو معلومات فراہم کریں گے ۔ توشہ خانہ کا قیام ۱۹۷۴میں عمل میں لایا گیا اور کابینہ ڈویژن اس محکمے کو چلاتی ہے ۔ بنیادی طور پر توشہ خانہ میں دوسرے ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پاکستانی رہنماوں وزیراعظم ، صدر، سپیکر اور ڈپٹی سپیکیر سمیت دیھر اعلیٰ حکام جن میں پاک فوج اور بیوروکریٹ بھی شامل ہیں کو دیئے گئے قیمتی تحائف جمع کئے جاتے ہیں ۔ قواعد کے مطابق اگر کوئی دوسرے ممالک سے ملنے والے تحائف رکھنا چاہیے تو وہ اُس کی قیمت کا صرف پندرہ فیصد ادا کر کے ایسا کر سکتا ہے ۔ تاہم پاکستانی حکام کو زیادہ تر تحفے خلیجی ممالک سے ملتے ہیں جن کی قیمت کے تعین میں مشمکل پیش اتی ہے ۔ توشہ خانہ مین جمع ہونے والئے تحائف کی نیلامی کا کام ایک یا دو سال کے بعد ہوتا ہے ۔ نیلامی میں عام لوگوں کو شامل نہیں کیا جاتا ۔ نومبر دو ہزار بیس میں حکومت نے توشہ خانہ میں جمع تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا ۔ تو ایک شہری نے خفیہ نیلامی کے عمل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،

ععدالت نے فوری کارروائی کی اور تمام ریکارڈ طلب کر لیا تاہم اس کے بعد بعض نامعلوم وجوہات کے باعث کافی دیر تک کیس کی سماعت نہ ہو سکی ۔ کیس عدلات میں موجود رہا ۔ چند روز قبل لاہور ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے سماعت کے دوران انتیہائی سخت ریمارکس دیئے اور توشہ خانہ میں خفیہ نیلامی کے عمل کو روکنے کا حکم دیتے ہوئے نئے قوانین بنانے کی ہدایت کی ۔ اور یوں سالہاسال سے بندرباٹ کا یہ سلسلہ رک گیا یقینا انے والے وقتوں میں اس فیصلے کے مثبت اثرات سامنے ائیں گے ۔ توشہ خانہ میں جمع ہونے والے تحائف کی یہ بندربانٹ کئی سالوں سے جاری تھی جس وجہ سے پاکستان کے ماضی کے اہم رہنماوں کو اج کل احتساب عدالتوں میں مشکللات کا سامنا ہے ۔ ان میں میاں نواز شریف، سید یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر اصف علی زرداری شامل ہیں ۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن)

کے قائد و اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی کا حکم دے دیا۔
احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے نواز شریف کی جائیداد نیلامی کی قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ نواز شریف کی جہاں جہاں جائیداد ہے، متعلقہ صوبائی حکومت اسے نیلام کر سکے گی جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور اور شیخوپورہ 60 دن کے اندر رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نے کہا کہ جائیدادیں نیلام کر کے رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے، نواز شریف کی گاڑیاں بھی پولیس کی مدد سے قبضے میں لے کر 30 دن کے اندر نیلام کی جائیں۔
احتساب عدالت نے نواز شریف کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جس جائیداد پر اعتراض نہیں آیا وہ نیلام کی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ نیب نے چند روز قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضبط کی گئی جائیداد کی کھلی نیلامی کے لیے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
یوسف رضا گیلانی کی بیوی نے ترک صدر کی بیوی کا دیا ہوا ہار چرا لیا تھا کا قصہ بھی سن لیں
ترک صدر اردگان کی بیوی سونا بالکل نہیں پہنتی۔
ترک حکومت نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے کچھ پراجیکٹ دیے تھے۔

ترک صدر کی بیوی نے ہار زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے قیمت کا آرٹیفیشل جیولری کا پہن رکھا تھا۔
جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے تحریک خلافت کا ذکر کیا جب انڈین خواتین نے اپنی جیولری ترکی کی عوام کے لئے بھجوائی تھی اور جذباتی ہوکر وہ ہار اتار کر حکومت پاکستان کو سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دینے کا اعلان کر دیا۔
وہ ہار موقع پر ہی یوسف رضا گیلانی کی بیوی نے 10لاکھ روپے کے عوض خریدا۔
یہ 10لاکھ روپے ترک صدر کی کی عزت افزائی کے لئے انہیں پیش کئے گئے اور ان کے نام پر سیلاب زدگان کی امداد میں میں درج کیے گئے۔
جب بھی کوئی غیر ملکی مہمان کوئی تحفہ دیتا ہے تو اس کے اکشن کا بھی ایک طریقہ کار ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایک جگہ ہے ۔توشہ خانہ کسی بھی ملنے والی چیز کو وہاں درج کیا جاتا ہے اور اس کی کی ایک قیمت مقرر کی جاتی ہے جس پر کوئی بھی شخص اس چیز کو خرید سکتا ہے۔
یہ ہار گیلانی فیملی اپنی ذات کے لیے اپنے گھر پر ترک صدر کے تحفہ کے طور پر رکھنا چاہتی تھی۔
یار لوگوں نے جب پی پی پی کے خلاف تماشا لگانے شروع کئے تو اس میں سے ایک تماشا یہ بھی لگایا گیا۔
جب یہ اصلی ہار سپریم کورٹ میں پہنچا تو پتہ چلا کہ یہ تو نمائشی اور آرٹیفیشل جیولری ہے جس پر سب کی بولتی بند ہوگئی اور ہار توشہ خانہ میں واپس ڈالنے کا حکم دیا گیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کرنے کے الزام میں سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو 29 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان کے سب سے اہم عہدوں ہر فائز رہنے والی یہ سیاسی شخصیات مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں تھوڑی سی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پراسیکیوٹر کی طرف سے احتساب عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو بطور صدر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ کی طرف سے گاڑیاں تحفے میں ملیں۔
اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر نے یہ گاڑیں توشہ خانے میں جمع کروانے کی بجائے ذاتی طور پر استعمال کیں۔
نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادائیگی کے بعد یہ گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق ان گاڑیوں کے لیے رقم کی ادائیگی بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی تھی۔
اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹس کے ریفرنس کے ملزم عبدالغنی مجید نے جعلی اکاؤنٹس سے کی۔
پاکستان کی ماضی کی اہم شخصیات کی مشکلات کا اندازہ اس معلومات سے خوب لگایا جا سکتا ہے تاہم لاہور ہائی کورٹ کا حکم

سامنے انے سے یہ اُمید لگائی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں تحائف کی اس بندر بانٹ کو روکا جا سکتا ہے
ے میں ہم اپنے دیکھنے اور سننے والوں کو معلومات فراہم کریں گے ۔ توشہ خانہ کا قیام ۱۹۷۴میں عمل میں لایا گیا اور کابینہ ڈویژن اس محکمے کو چلاتی ہے ۔ بنیادی طور پر توشہ خانہ میں دوسرے ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پاکستانی رہنماوں وزیراعظم ، صدر، سپیکر اور ڈپٹی سپیکیر سمیت دیھر اعلیٰ حکام جن میں پاک فوج اور بیوروکریٹ بھی شامل ہیں کو دیئے گئے قیمتی تحائف جمع کئے جاتے ہیں ۔ قواعد کے مطابق اگر کوئی دوسرے ممالک سے ملنے والے تحائف رکھنا چاہیے تو وہ اُس کی قیمت کا صرف پندرہ فیصد ادا کر کے ایسا کر سکتا ہے ۔ تاہم پاکستانی حکام کو زیادہ تر تحفے خلیجی ممالک سے ملتے ہیں جن کی قیمت کے تعین میں مشمکل پیش اتی ہے ۔ توشہ خانہ مین جمع ہونے والئے تحائف کی نیلامی کا کام ایک یا دو سال کے بعد ہوتا ہے ۔ نیلامی میں عام لوگوں کو شامل نہیں کیا جاتا ۔ نومبر دو ہزار بیس میں حکومت نے توشہ خانہ میں جمع تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا ۔ تو ایک شہری نے خفیہ نیلامی کے عمل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ، ععدالت نے فوری کارروائی کی اور تمام ریکارڈ طلب کر لیا تاہم اس کے بعد بعض نامعلوم وجوہات کے باعث کافی دیر تک کیس کی سماعت نہ ہو سکی ۔ کیس عدلات میں موجود رہا ۔ چند روز قبل لاہور ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان نے سماعت کے دوران انتیہائی سخت ریمارکس دیئے اور توشہ خانہ میں خفیہ نیلامی کے عمل کو روکنے کا حکم دیتے ہوئے نئے قوانین بنانے کی ہدایت کی ۔ اور یوں سالہاسال سے بندرباٹ کا یہ سلسلہ رک گیا یقینا انے والے وقتوں میں اس فیصلے کے مثبت اثرات سامنے ائیں گے ۔ توشہ خانہ میں جمع ہونے والے تحائف کی یہ بندربانٹ کئی سالوں سے جاری تھی جس وجہ سے پاکستان کے ماضی کے اہم رہنماوں کو اج کل احتساب عدالتوں میں مشکللات کا سامنا ہے ۔ ان میں میاں نواز شریف، سید یوسف رضا گیلانی اور سابق صدر اصف علی زرداری شامل ہیں ۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد و اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے نواز شریف کی جائیداد نیلامی کی قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست منظور کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ نواز شریف کی جہاں جہاں جائیداد ہے، متعلقہ صوبائی حکومت اسے نیلام کر سکے گی جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور اور شیخوپورہ 60 دن کے اندر رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نے کہا کہ جائیدادیں نیلام کر کے رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے، نواز شریف کی گاڑیاں بھی پولیس کی مدد سے قبضے میں لے کر 30 دن کے اندر نیلام کی جائیں۔
احتساب عدالت نے نواز شریف کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جس جائیداد پر اعتراض نہیں آیا وہ نیلام کی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ نیب نے چند روز قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضبط کی گئی جائیداد کی کھلی نیلامی کے لیے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
یوسف رضا گیلانی کی بیوی نے ترک صدر کی بیوی کا دیا ہوا ہار چرا لیا تھا کا قصہ بھی سن لیں
ترک صدر اردگان کی بیوی سونا بالکل نہیں پہنتی۔
ترک حکومت نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے کچھ پراجیکٹ دیے تھے۔
ترک صدر کی بیوی نے ہار زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے قیمت کا آرٹیفیشل جیولری کا پہن رکھا تھا۔
جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے تحریک خلافت کا ذکر کیا جب انڈین خواتین نے اپنی جیولری ترکی کی عوام کے لئے بھجوائی تھی اور جذباتی ہوکر وہ ہار اتار کر حکومت پاکستان کو سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دینے کا اعلان کر دیا۔
وہ ہار موقع پر ہی یوسف رضا گیلانی کی بیوی نے 10لاکھ روپے کے عوض خریدا۔
یہ 10لاکھ روپے ترک صدر کی کی عزت افزائی کے لئے انہیں پیش کئے گئے اور ان کے نام پر سیلاب زدگان کی امداد میں میں درج کیے گئے۔
جب بھی کوئی غیر ملکی مہمان کوئی تحفہ دیتا ہے تو اس کے اکشن کا بھی ایک طریقہ کار ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایک جگہ ہے ۔توشہ خانہ کسی بھی ملنے والی چیز کو وہاں درج کیا جاتا ہے اور اس کی کی ایک قیمت مقرر کی جاتی ہے جس پر کوئی بھی شخص اس چیز کو خرید سکتا ہے۔
یہ ہار گیلانی فیملی اپنی ذات کے لیے اپنے گھر پر ترک صدر کے تحفہ کے طور پر رکھنا چاہتی تھی۔
یار لوگوں نے جب پی پی پی کے خلاف تماشا لگانے شروع کئے تو اس میں سے ایک تماشا یہ بھی لگایا گیا۔
جب یہ اصلی ہار سپریم کورٹ میں پہنچا تو پتہ چلا کہ یہ تو نمائشی اور آرٹیفیشل جیولری ہے جس پر سب کی بولتی بند ہوگئی اور ہار توشہ خانہ میں واپس ڈالنے کا حکم دیا گیا۔ اگر یہ ہار قیمتی پایا جاتا اور ادائیگی کم پائی جاتی تو یقینی طور پر یوسف رضا گیلانی کی بیوی کے خلاف افتخارمحمدچوہدری
ایف آئی آر درج کروا کر خوش ہوتے۔
کیونکہ اخبارات میں چٹ پٹی کہانیاں پی پی پی قیادت کے بارے میں ہمیشہ سے مروجہ اور معروف ہیں تو ہم یہ یقین کرتے ہیں کہ جاھل اور کم تعلیم یافتہ لوگ ان پر یقین کرتے ہوں گے مگر آپ جیسی وضع قطع کے لوگوں کا اس طرح کی باتیں کرنا بہت ہی استہزا کا عمل لگا ہے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کرنے کے الزام میں سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی سمیت سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو 29 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان کے سب سے اہم عہدوں ہر فائز رہنے والی یہ سیاسی شخصیات مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں تھوڑی سی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پراسیکیوٹر کی طرف سے احتساب عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو بطور صدر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ کی طرف سے گاڑیاں تحفے میں ملیں۔
اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر نے یہ گاڑیں توشہ خانے میں جمع کروانے کی بجائے ذاتی طور پر استعمال کیں۔
نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادائیگی کے بعد یہ گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق ان گاڑیوں کے لیے رقم کی ادائیگی بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی تھی۔
اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹس کے ریفرنس کے ملزم عبدالغنی مجید نے جعلی اکاؤنٹس سے کی۔
پاکستان کی ماضی کی اہم شخصیات کی مشکلات کا اندازہ اس معلومات سے خوب لگایا جا سکتا ہے تاہم لاہور ہائی کورٹ کا حکم سامنے انے سے یہ اُمید لگائی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں تحائف کی اس بندر بانٹ کو روکا جا سکتا ہے

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles