بیانیہ کس کا چلے گا ؟

0
41

 

پاکستان مسلم لیگ ن میں اج کل گھمسان کا رن ہے ۔ ایک طرف شہباز شریف اور اُن کا گروپ ایکٹو دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف مریم نواز اور اُن کا گروپ ہے ۔ دونوں گروپ اس وقت امنے سامنے ہیں ۔ اگرچہ دونوں گروپوں کی جانب سے گروپ بندی اوربیانیے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کی تردید کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ن لیگ میں کسی طرح کا کوئی گروپ نہیں ہے اور نہ ہی بیانیے پر کوئی تصادم پایا جاتا ہے جبکہ بہے سے ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان کشمکش پائی جاتی ہے مریم نواز اپنے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے بینایے و ہی کامیابی کا رستہ سمجھتی ہیں اور اسی پر ڈٹی ہوئی ہیں  جبکہ شہباز شریف کی سوچ اور اپروچ یکسر مختلف ہے وہ چاہتے ہیں نواز شریف کے اس بیانیے کو تبدیل کیا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جائے ۔ تاہم مریم کسی طرح کے سمجھوتے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا لندن جانے کا منصوبہ وہ نہیں تھا جو بظاہر دکھائی دے رہا ہے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ لندن میں موجود میاں نواز شریف کے ساتھ امنے سامنے بیٹھ کر وہ بات کریں کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اس بیانیے کو چھوڑا جائے ۔ شہباز شریف چاہتے تھے کہ وہ نواز شریف کو قائل کریں اور پارٹی کی فرنٹ فٹ پر ا کر کمان سمنبھالیں تاکہ حالات کو معمول پر لایا

جا سکے اور بیس سو تیئس کے الیکشن میں جیت کی راہ ہموار کی جائے ۔ لیکن اُنہیں ملک سے جانے میں کامیابی حاصل نہ وہ سکی ۔ اور اب صورتحال روز تبدیل ہوتی جا رہی ہے ۔ شہباز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کو عشائیہ دیا خاص طور پر اس عشائیے میں پی پی پی اور اے این پی کے رہنما مرکز نگاہ تھے ۔ اس عشایئیے کے حوالے سے سامنے انے والی معلومات میں یہ کہا گیا کہ شہاز شریف نے پی پی  اور اے این پی کے رہنماوں کو پی ڈی ایم میں واپس انے کا کہا ہے تاکہ ھکومت کو ٹف ٹائم دیا جا سکے ۔ اس ھوالے سے ابھی بات زیادہ اگے نہیں بڑھی تھی کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا میڈیا کو دیا ہوا بیان سامنے اگیا جس میں اُنہوں نے پی پی اور اے این پی کی پی ڈی ایم میں واپسی کی تردید کر دی تو فوری طور پر پی پی اور اے این پی کی جانب سے بھی ردعمل سامنے ایا کہا گیا کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف ہیں لہٰذا بیانیہ بھی اُن کا ہی چلے گا اس بیان کی ابھی دھول بھی نہ بیٹھی تھی کہ مریم نواز نے اسلام اباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کے بیان کو ہی ن لیگ کا بیانیہ قرار دیا اور کہا کہ ابھی پی پی پی اور اے این پی نے شو کاز نوٹس کا جواب دینا ہے ۔ شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر اپوزیشن پارٹیوں کو عشائیہ دیا اس سے ن لیگ کو کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔ مریم نواز کے اس بیان کے بعد تو جیسے شہباز شریف کے غبارے سے ہوا ہی نکل گئی ہو اور حکومتی سطح پر تو خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ تمام حکومتی ترجمانوں نے کمر کس لی فردوس عاشق اعوان، شہاز گل ، فواد چودھری اور شہزاد اکبر سبھی نے ن لیگ میں شین لیگ کے نکلنے کی ٓواز بلند کی اور کہا کہ وہ تو پہلے بھی یہی کہتے تھے کہ ن لیگ میں سے شین لیگ نکلنے والی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ شیخ رشید کی پیشگوئیوں کا بھی ایک سلسلہ شروع ہے جو مختلف مواقع پر شین لیگ کے نکلنے کی باتیں کرتے سنائی دیتے ہیں ۔ اب معاملہ کس جانب جائے گا ؟

 

کیا سمت اختیار کرے گا ؟ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر غور وفکر رہی ہیں ۔ جبکہ حکومتی جماعت اسے اپنی کامیابی قرار دیتی ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا شہباز شریف اس تمام تر صورتحال کو سنبھال پائیں گے یا نہیں ؟ کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے یا نہیں ؟ اس کے ساتھ ساتھ لندن میں مقیم میاں نواز شریف کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ فائنل فیصلہ اُنہوں نے ہی کرنا ہے تو غلط نہیں ہو گا ۔ نواز شریف نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا بیانیہ چلے گا ؟ کیا وہ ماضی کی طرح اپنے بیانیے پر قائم رہیں گے یا شہباز شریف کا کہنا مانتے ہوئے مریم نواز کو پیچھے ہٹ جانے کا کہیں گے ۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نواز شریف کا اپنے بینایے سے ہٹ جانا شریف فیملی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر ہوتے ہی شریف خاندان کی مشکلات نہ صرف کم ہوجائیں گی بلکہ ختم ہی جائیں گی ۔ تاہم بیانیے سے نہ ہٹنے کی صورت میں شریف خاندان کی مشلکات مزید بڑھ سکتی ہیں ۔ شہباز شریف چاہتے ہیں وہ پارٹی کو خود فرنٹ سے لیڈ کریں اور اس کا اُنہوں نے جیل سے ضمانت پر رہا ہوتے ہی اظہار بھی کیا کہ وہ ن لیگ کے صدر ہیں جس پر مریم نواز کی میڈیا اور دوسرے پلیٹ فارمز سے جاری ہونے والی بیان بازی میں واضح کمی ائی ۔ تو ساتھ ہی حکومتی ترجمانوں  اور میڈیا پرسنز نے مریم نواز کی خاموش پر ایک بار پھر سوالات اٹھانا شروع کر دیئے ۔ تو پھر اچانک سے مریم نواز متحرک ہو گئیں ۔

اس تمام تر صورتحال کے باجود شہباز شریف اس وقت پارٹی اورحالات کو سنبھالنے کے لئے پوری طرح سے سر گرم ہیں اور چاہتے ہیں کہ حالات کو اپنے حق میں کیا جائے ۔ اگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دو ہزار تیئس سے قبل ہی پاکستان میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونے کا قومی امکان ہے ۔ تاہم اسی شکل میں ممکن ہے جب نواز شریف اپنے بیانیئے سے ہٹ جائیں اور مریم نواز مکمل خاموشی اختیار کریں ۔ مریم نواز اور شہباز شریف دونوں ہی اپنے اپنے محاذ پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں ۔ شہباز شریف سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اب ن لیگ کیا لائحہ عمل اپناتی ہے اس کا صرف اپوزیشن جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ حکومتی پارٹی کو بھی انتظار ہے جبکہ اس فیصلے کے پاکستانی سیاسی منظر نامے پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو نگے کیونکہ  تبدیلی کا نعرہ لے کراقتدار میں انے والی پی ٹی ائی عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی خاص طور ملک میں گورننس بری طرح سے ناکام ہے مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ پھر کسی نئی تبدیلی کی بجائے پرانے پاکستان کے ہی تلاش میں ہیں ۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here