بجٹ منظور ہو گیا ، اپوزیشن کچھ نہ کر سکی

0
15

سی نیوز ڈیسک

بہت دعوے کئے گئے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے ،بجٹ منظور کرانا آسان نہیں ہوگا ،بجٹ اجلاس کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی سامنے آئے اور میڈیا کے سامنے بڑے بڑے دعوے کئے ۔ شہبازشریف نےکہاحکومت نےغلط اعدادوشماردیےاورجھوٹےدعوے کئے۔ملک میں غریب کوایک وقت کی روٹی نہیں مل رہی۔یہ کہہ رہےہیں کہ معیشت ترقی کررہی ہے۔ملک کےاندرغربت اور بے روزگاری کادوردورہ ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہااپوزیشن نے طےکیاہےمل کرپارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی  بلاول بھٹو زرداری نےکہاجوبجٹ پیش ہواوہ لگتا ہےکہ کسی اورملک کاہے۔وزیرخزانہ کسی اورملک کی معیشت کی بات کررہےتھے۔بجٹ عوام کےزخموں پرنمک پاشی کے برابر ہے۔ہمیں مل کرعوام دشمن بجٹ پرآواز اٹھانی ہے۔ مل کرہی بجٹ اورنالائق حکومت کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہابجٹ روکنےکےلئےاپنےتمام ممبران اسمبلی اپوزیشن لیڈرکےحوالےکردیے ہیں۔شہبازشریف حکومت کےخلاف ہمارےممبران کےووٹ استعمال کریں۔

مگر ہوا کیا ، بجٹ منظور کرانے میں حکومت کو زرا پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جنہوں نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان کیا تھا وہ اسمبلی آئے ہی نہیں بلکہ ن لیگ کے ستر ارکان بجٹ سیشن جیسے اہم ترین اجلاس میں حاضر نہیں تھے ۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور اُن کی پارٹی کے ارکان اجلاس میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟ اس حوالے سے چہ مگوئیاں جاری ہیں ۔ پہلی یہ کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف ایک پیج پر نہیں ۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پی پی اور ن لیگ ایک دوسرے کےساتھ سیاست کر رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی بلاول بھٹو زرداری اس غصے کا اظہار بھی کرتے ہیں اور نواز شریف ، ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں ۔

سب جانتے ہیں ن لیگ اور پی پی کرپشن کی وجہ سے گزشتہ دو اڑھائی برسوں کے دوران مشکلات کا شکار ہیں ۔ آئے روز ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا نیا سے نیا اسکینڈل سامنے آتا ہے جس پر حکومتی ارکان خاص طور پر وزیراعظم کے ترجمانوں کی جانب سے فوری ردعمل دیا جاتا ہے ۔ خاص طور پر فواد چودھری، فردوس عاشق اعوان، بابر اعوان، شہباز گل اور فرخ حبیب قابل ذکر ہیں ۔ اسی طرح دوسری طرف سے مریم اورنگزیب، عطا تارڑ، احسن اقبال اور دیگر کی جانب سے حکومت کو فوری جواب بھی دیا جاتا ہے ۔ گویا کہ ملک میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک عجیب و غریب الزامات کی جنگ جاری ہے ۔ اب تو سوشل میڈیا پر لوگوں کا فوری ردعمل بھی سامنے آتا ہے کہ وہ اس الزامات کی جنگ سے کتنا اکتا چکے ہیں ۔لوگوں کے ردعمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو اور ملک وقوم کی فلاح کے لئے توانائی خرچ کی جائے مگر ایسا نہیں ہونے والا۔ پاکستانی قوم ایسے الزامات، شور شرابا، اقتدارکی جنگ اور دست و گریبان ہونے کے نظارے گزشتہ ستر برس سے دیکھ رہی ہے ،اسی اور نوے کی دہائی میں بھی یہی کچھ ہوتا  تھا جب ن لیگ اور پی پی پی  رہنما نوازشریف اور بے نظیر بھٹو آمنے سامنے آتے تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان سے سیکھا نہیں گیا ۔

پاکستان کا سیاسی کلچر عدم برداشت سے بھرا پڑا ہے جس میں گزشتہ اڑھائی برسوں کے دوران مزید اضافہ ہوا ہے ۔ اور مستقبل میں بھی صورتحال بہتر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ اپوزیشن رہنما کرپشن کیسز کے باعث مکمل مفلوج دکھائی دے رہیں دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر کچھ بھی کرنے  کے اہل نہیں ۔ دوسری طرف حکومت اسی چیز کا بھر پور فائدہ اٹھاتی دکھائی دے رہی ہیں اور پارلیمنٹ میں کم عددی اکثریت کے باوجود حکومت نہ صرف قائم دائم ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی جا رہی ہے جو کچھ سینیٹ الیکشن میں ہوا اور کچھ سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں ہوا کس طرح سے اپوزیشن نے دعوے کئے ، یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے ممبر تو بن گئے مگر چیئرمین سینیٹ کے لئے ایک پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے یوسف رضا گیلانی کامیاب نہ ہو سکے ۔ کوئی بھی ایشو ہو اپوزیشن ایک مرتبہ تو اس پر بھر پور ردعمل دیتی ہے اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کا اعلان کرتی ہے مگر جیسے ہی کرپشن کیسز پر نیب ، ایف آئی اے اور دیگر ادارے اہم اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف متحرک ہوتے ہیں اپوزیشن کی سانسیں اکھڑ جاتی ہیں اور دونوں بڑی جماعتوں کی راہیں بھی جدا ہو جاتی ہیں ۔بیک ڈور ڈپلومیسی بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے ۔ اس بات سے جتنا بھی انکار کیا جا ئے مگر اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ کہ اپوزیشن جماعتوں کے  بعض ارکان حکومتی ارکان سے رابطے میں ہوتے ہیں، بیک ڈور ڈپلومیسی چل رہی ہوتی ہے اور موجودہ اپوزیشن کی  سر توڑ کوشش رہتی ہے کسی طرح کرپشن کیسز سے ریلیف مل جائے ۔ جس کو وزیراعظم عمران خان این آر او کی شکل میں عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اپوزیشن کی یہی وہ کوششیں ہوتی ہیں جن کے باعث حکومت کے خلاف جدوجہد یا تحریک کمزور ہو جاتی ہے ۔ موجودہ حکومت جو عوام کو گڈ گورننس نہ دے سکی ، جو عوام کو مہنگائی سے ریلیف نہ دے سکی ، جو چینی مافیا کے خلاف کچھ نہ کر سکی  اور جو اب تک اسٹیل مل، ریلوے ،پی آئی اے اور دیگر اداروں کو منافع بخش نہ بنا سکی مگر وہ اپوزیشن کی اس ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف برقرار ہے بلکہ اگلے پانچ سال کا بھی دعوی کر رہی ہے ۔  تو ایسے میں بجٹ منظور کرانا کوئی جان جوکھوں کا کام نہیں تھا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here