این اے پچھہتر ۔۔لاپتہ پریذائیڈنگ افسران کا قصہ

0
47

میاں افتخار الحسن

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے پچھہترکا قصہ زبان زدعام ہے۔ ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ اس حلقے میں کیا ہوا ؟ دو افراد جان سے بھی گئے ۔اور اب تک دونوں سیاسی پارٹیوں ن لیگ اور پی ٹی ائی کی جانب سے نہ ختم ہونے والے الزامات اور دعووں کا سلسلہ جاری ہے  جس میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت اتی جا رہی ہے ۔ مریم نواز اور ن لیگ کے دوسرے رہنما تحریک انصاف پر دھاندلی اور فائرنگ کے الزام عائد کر رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے رہنما ن لیگ کو ذمے دار ٹھہرا رہے ہیں ۔۔

اس کے ساتھ ساتھ دونوں پارٹیوں کی طرف سے جیت  کے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ پی ٹی ائی اور ن لیگ دونوں ہی حلقے میں کامیابی کا دعوی کر رہے ہیں ۔جبکہ مریم نواز نے الیکشن کے بعد حلقے کا دورہ کیا تو حکمران جماعت کے رہنما فواد چودھری ، عثمان ڈار، فردوس عاشق اعوان اور شبلی فراز بھی پہنچے اور دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی ۔۔پی ٹی ائی رہنماوں نے مریم نواز کو جھوٹا جبکہ رانا ثنا اللہ کو فائرنگ کا ذمے دار ٹھہرانے کی  بھر پور کوشش کی اور ہر وہ لفظ استعمال کیا جس سے مخالف کو زیر کیا جا سکے

اسی طرح مریم نواز نے بھی عمران خان سمیت حکمران جماعت کو کھری کھری سنائیں۔۔اور تمام تر صورتحال کا ذمے دار حکمران جماعت کو ٹھہرایا ۔۔

ادھر معاملہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی عدالت میں پہنچ گیا ۔۔ٓج اس کی پہلی سماعت ہوئی تو ریٹرنگ افسر نے موقف اپنایا کوئی نتیجہ تبدیل نہیں ہوا ۔صبح 3 بج کر 37 منٹ تک337 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آر ایم ایس میں جمع ہوچکے تھے

جبکہ ن لیگی اُمیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ  بات صرف بیس پولنگ اسٹیشنز کی نہیں، الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز تاریخی دستاویز ہے، پریس ریلیز میں اعلی ترین سطح پر دھاندلی کی نشاندہی کی گئی، یہ پہلا الیکشن ہے جہاں بیس ریٹرننگ افسران غائب ہوگئے، پولنگ کے دوران اور بعد میں آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب سمیت سب ہی لاپتہ تھے، تمام لاپتہ پریزائیڈنگ افسران ایک ساتھ ہی نمودار ہوئے، جس ڈی ایس پی کو الیکشن کمیشن نے ہٹایا تھا اسے ایس پی بنا کر تعینات کردیا گیا، الیکشن کمیشن کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا گیا۔ لہٰذا حلقے میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے

دوسری طرف ریٹرنگ افسر نے سماعت کے ودران کہا کہ جو نتائج بعد میں ملے وہ وہی تھے جو واٹس ایپ پر آ چکے تھے، بعض پریزائیڈنگ افسران کے نتائج وٹس ایپ پر بروقت آ گئے تھے، کچھ کا رزلٹ صبح 6 جب کہ کچھ کا 7 بجے ملا،رات کو ساڑھے تین بجے لیگی امیدوار نے شکایت کی، جس پر ڈی ایس پی ڈسکہ کو پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ تعینات پولیس سے رابطے کا کہا گیا، لیکن پولیس افسران کا بھی تعینات عملے کے ساتھ رابطہ نہیں ہوسکا تھا ۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ۔۔اُنہوں نے استفسار کیا کہ  جب آپ نے الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا تو گھبرائے ہوئے کیوں تھے، آپ نے کہا تھا ہماری جان کو خطرہ ہے، کیا انتظامیہ نے آپ سے تعاون نہیں کیا تھا؟ جس کے جواب میں ریٹرننگ افسر نے کہا کہ آر او آفس میں نعرے بازی ہو رہی تھی دونوں پارٹیوں کے کارکن  دیواروں پر بھی چڑھے ہوئے تھے، ایک ہجوم تھا اس لئے گھبرا گئے تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے آر او کی رپورٹ فریقین کو دینے کی ہدایت کی۔

دوسری طرف دوران سماعت ممبر پنجاب الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ کیا موبائل کمپنیوں سے پریزائیڈنگ افسران کی  لوکیشن معلوم کرائی گئی ؟ جس پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ ڈی پی او کا نمبر بند تھا ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

جبکہ پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی نے کہا ان کے   آبائی علاقہ کے پولنگ سٹیشنز پر اعتراض کیا جا رہا ہے،بیس میں سے 18 سٹیشنز کے فارم 45 لیگی امیدوار کے پاس ہیں،آر او نے خود کمیشن کو بتایا کہ وٹس ایپ پر نتائج آ چکے تھے،اُن کے  وکیل علی بخاری نے دلائل دیے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، پہلے کہا گیا 3 ہزار ووٹوں سے جیت رہے ہیں،جیت رہے تھے تو دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟ نوشین افتخار کی درخواست کے ساتھ کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں،بہتر ہوتا کہ انتخابی نتائج کو ٹربیونل میں چیلنج کیا جاتا۔ لیگی درخواست آج ملی ہے اس پر دستاویزات جمع کرائیں گے، آئندہ ہفتے تک کا وقت دیا جائے، ن لیگ کی طرح غیر تصدیق شدہ دستاویزات نہیں دینا چاہتے۔

چیف الیکشن کمشنر نے  بدھ تک تمام دستاویزات اور شواہد جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اصل ریکارڈ الیکشن کمیشن کو مل چکا ہے زیادہ وقت نہیں دے سکتے ۔۔اور چیف الیکشن کمشنر نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔

ایک طرف معاملے کی سماعت ہو رہی ہے تو دوسری طرف دونوں پارٹیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے ۔۔اس لئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن جلد ازجلد فیصلہ سنائے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here