11.5 C
Pakistan
Wednesday, December 7, 2022

اخبارات کا قومی دن اور پرویز الہی کے عوام دوست اقدامات۔

میری بات۔۔۔مدثر قدیر
اخبار بینی کا شوق مجھے تیسری کلاس ہی سے ہوگیا تھا،میرے والد قدیر شیدائی خود ادیب،شاعر اور صحافی تھے اس لیے ہمارے گھر میں اخبار ہی سہولت موجود تھی جس سے پورا محلہ استفادہ کرتا تھا۔اردو پڑھنے لکھنے کا فن مجھے والد کی توسط سے پرائمری تک آگیا تھا اور میں درخواست لکھنا اور پڑھنا جان چکا تھا یہی وجہ تھی کہ جب چھٹی جماعت میں مسلم ماڈل اسکول میں داخل ہوا تواردو کا مضمون تو جیسے میرے لیے آسان ہوچکا تھا،شعروں کی تشریح اور پوری کہانی کے مرکزی خیال کو کم وقت میں تحریر کرلیتا تھا اور کبھی بھی اردو کے مضمون میں فیل نہیں ہوا مگر جب ایم اے اردو کے امتحان کے دوران اقبالیات کے پرچے میں میری سپلی آئی تو پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید کچھ کمی رہ گئی مگر پہلی ہی فرصت میں اس امتحان کو پاس کرکے یہ کمی پوری کرلی مگر مجھے آج تک اس بات پر اظہار افسوس رہا کہ ادب پرور،حلقہ ارباب ذوق کے رکن ہونے کے باوجود میں اقبالیات کے پرچے کو کلئیر نہ کرسکا۔ اخبارات روزمرہ زندگی سے تعلق رکھے والی مستند خبروں اور اداریوں سے عوامی رائے بناتے ہیں تاکہ مسائل پر حکومتی کی نظر ہو اور وہ ان مسائل کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرئے تاکہ عوامی رائے کا بھی احترام ہوسکے۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں طرز حکمرانی کیسی ہونی چاہیے یہ ہمیشہ ہی ایک دلچسپ موضوع رہا ہے جو ہمیشہ ہی سے اخبارات کے صفحات کی ضرورت بن چکا ہے اسی مناسبت سے گذشتہ دو دہائیوں میں یہاں حکمرانی کروانے والوں کو ان کے ماڈلز سے پہچانا جاتا ہے۔ایک شہباز شریف ماڈل تھا جس میں وہ ہر وقت کام کرتے ہی دکھائی دیتے تھے اور اپنے طرز حکمرانی کی وجہ سے خبروں میں رہے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں کام لینے کا فن آتا ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلٰی عثمان بزدار بھی ساڑھے تین سال پنجاب کے حاکم رہے اور ان کی حکومت میں جو خبر تواتر سے میڈیا کی زینت بنی وہ تھی بیوروکریسی کام نہیں کر رہی اور یہ بات سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی کئی مرتبہ آن ریکارڈ کہی مگرگذشتہ بیس برسوں کے دوران پنجاب میں ایک تیسرا ماڈل بھی رہا ہے اور اِس وقت دوبارہ یہی ماڈل کار فرما ہے، وہ ہے چوہدری پرویز الٰہی ماڈل اور اب یہی ماڈل دو مہینوں سے پنجاب میں چل رہا ہے جس کے بارے میں تاثر ہے کہ پنجاب میں اب حکومت کو بیورو کریسی سے بظاہر کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی بیوروکریسی کو کوئی مسئلہ ہے۔پنجاب کے سابق وزیر اعلٰی شہباز شریف کی طرح چوہدری پرویز الٰہی دن رات فیلڈ میں تو نظر نہیں آتے لیکن ان کا ماڈل‘ بھی کامیابی سے چل رہا ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب بنتے ہی چوہدری پرویز الٰہی نے غیر ضروری تبادلوں کے بجائے پہلے سے موجود افسران حتیٰ کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کے ساتھ ایک ٹیم کے طور پر کام کرنے کا اعلان کیااور رواں ہفتے سول سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور سیکریٹریز کی کانفرنس بلائی اور ایک ہی ہدایت دی کہ کوئی بھی فائل دو روز سے زیادہ کسی افسر کی ٹیبل پر نہیں رکنی چاہیے،صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے درمیانے اور چھوٹے افسران کے ساتھ ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ بنانے کے لیے غیر متوقع مراعات کا اعلان بھی کیا۔اسی طرح پرویز الٰہی نے پولیس افسران اور جوانوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کرنے والے اہلکاروں کے لیے سپیشل الاؤنس کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس ماڈل کی اہمیت اور وضح ہوتی جارہی ہے اورعوامی رائے میں پاکستان کے تناظر میں موجودہ ماڈل کارگر ہے کیونکہ جب آپ سرکاری افسروں کو اختیارات استعمال کرنے کی طاقت دیں اور ساتھ ہی انہیں مراعات دیں اور مراعات بھی درمیانے اور نچلے سطح کے افسران اور اہلکاروں کو تو یقیناً اس سے بیورو کریسی کام کرنے اور ٹیم ورک میں عار محسوس نہیں کرتی۔ 2002ء میں وہ وزیر اعلی بنے تو ان پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ شہباز شریف کے تاثر کو توڑنا ہے اور پھر یہ ہوا بھی ریسکیو 1122 دیکھ لیں انفراسٹکچردیکھیں آج بھی یہ منصوبے چل رہے ہیں۔پرویز الہی نے حکومت سنبھالتے ہی صرف کام پر فوکس کیا اور اس میں سب سے پہلے بیوروکریسی اور پولیس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ اور یہی کنجی ہے جو بزدار کے پاس نہیں تھی جبکہ اسی چابی کو شہباز شریف اپنے انداز میں استعمال کرتے ہیں ان کی ساری توجہ اب بھی اپنی سیاسی بقا ہے ابھی آپ دیکھیے گا سرکاری وسائل کے در کھول دیے جائیں گے اور نوکریاں بھی نکالی جائیں گی جس کا اعلان گزشتہ روز وزیر اعلی نے پسرور میں جلسہ کے دوران کیا انھوں نے صوبے میں ایک لاکھ نوکریاں دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں میں ملازمتیں دی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے جنوبی پنجاب کے 14 اضلاع کے سکولوں میں جانے والی بچیوں کیلئے وظیفے میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو سکول جانے پر وظیفے کی رقم بڑھا دی ہے اور پنجاب بھر میں بی اے تک مفت تعلیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے میں بی اے تک کتابیں بھی فری دیں گے اور سکول سے یونیورسٹی تک ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم لازم قرار دینے کے ساتھ ایف اے تک ترجمے کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم کو اب لازم قرار دیا ہے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ٹریفک وارڈنز اور پٹرولنگ پولیس کے الاؤنسز کو ڈبل کر دیا ہے انھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے میرے ”پڑھا لکھا پنجاب“پروگرام کو آتے ہی بند کیااورریسکیو 1122 تباہ و برباد کرنے کی پوری کوشش کی یہی وہ ریسکیو 1122 ہے جس نے فلڈ میں آرمی کے بعد سب سے زیادہ کام کیااب ہماری حکومت ریسکیو1122 کو مزید گاڑیاں دے گی اور ان کی خدمات کا دائرہ کار وسیع کریں گے اورریسکیو موٹربائیک سروس کا دائرہ کار بھی بڑھا رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کا عزم ہے کہ عام آدمی کی زندگیوں میں آسانی پیدا کروں جس کی وجہ سے ان کی تمام پالیسیوں کا محور غریب آدمی ہے اور اس لیے انھوں نے تمام ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ میں ادویات اور انجکشن فری کر دیئے ہیں جو کہ ان کی پنجاب کی عوام کے ساتھ اس گرانی کے دور میں شفقت طلب بات ہے جس کو جاری ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,300SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles