22.6 C
Pakistan
Tuesday, September 27, 2022

آن لائن  پرسنل لون  دینے والی کمپنیاں کس طرح لوگوں کو پھنسا رہی ہیں؟

تحریر:میاں افتخارالحسن

پاکستان میں غربت سے لڑنے والوں اور زندگی کی ضرورتوں  کو پورا کرنے کیلئے جدو جہد کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اسی طرح اُن لوگوں کی تعداد بھی  بہت زیادہ ہے جو کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسے ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے پیسہ حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہوتے ہیں ایسے ہی لوگوں کو جال میں پھنسا نے کیلئے آج کل ایسی لاتعداد کمپنیاں موجود ہیں جو آن لائن پرسنل لون کی آفر کرتی ہیں جن کے اشتہارات سوشل میڈیا پر عام پائے جاتے ہیں ،اگر آپ فیس بک یا کوئی  بھی دوسرا سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں تو ایسی کمپنیوں کے اشتہارات سے آپ کو ضرور واسطہ پڑتا ہے ۔دراصل یہ کمپنیاں جال بچھاتی ہیں اور مچھلی کا انتظار کرتی ہیں ۔دوسری طرف ضرورت مند لوگ باآسانی ان کا شکار بن رہے ہیں ، پاکستان میں آن لائن پرسنل لون دینے والی کمپنیاں مکمل طور پر دھوکہ دہی اور لون لینے والے کو لوٹنے کا کام کر رہی ہیں ، ہوتا کیا ہے ایک شخص کسی بھی کمپنی کا اشتہار دیکھتا ہے جو پرسنل لون کی آفر کرتی ہے ،کمپنی کی جانب سے ضروری معلومات بھی  فراہم کی گئی ہوتی ہیں ،جن کو ضرورت مند بغور پڑھتا ہے اور سوچتا ہے کہ اگر کمپنی سے وہ وہ ضرورت کے مطابق قرض لے  تو زندگی کے معاملات کو حل کرنے میں آسانی ہو جائے گی ، اب کمپنی نے لکھا ہوتا ہے آپ تیس ہزار روپے قرض لے سکتے ہیں جو آپ کو نوے روز میں واپس کرنا ہونگا ، نوے روز کا مطلب ہوتا ہے تین ماہ ، جو ضرورت مند کیلئے مناسب وقت ہوتا ہے سو وہ لون کیلئے اپلائی کرتا ہے۔کمپنی کی مطلوبہ تمام معلومات فراہم کرتا ہے جس کے  بعد  ایک دو روز میں اُسے لون مل جاتا ہے ۔اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے ،لون لینے والا صارف مطمئن ہوتا ہے کہ اُسے پیسے نوے روز میں ادا کرنے ہیں جبکہ ٹھیک چھ سے سات روز بعد کمپنی کے ایجنٹ کا فون اُسے آتا ہے جو یہ کہتا ہے آپ اپنا لون  فوری واپس کریں کیونکہ وقت ہو چکا ہے ۔جبکہ لون لینے والا کہتا ہے کہ معاہدے کے تحت وہ نوے روز بعد لون واپس کرنے کا پابند ہے جس پر ایجنٹ بدمعاشی پر اتر اتا ہے اُسے دھمکیاں دی جاتی ہیں ہراساں کیا جاتا ہے ۔چونکہ لون لینے والے کے رشتے داروں کے فون نمبرز بھی کمپنی کے پاس ہوتے ہیں اُسے دھمکی دی جاتی ہے کہ لون کے بارے میں اُس کے رشتے داروں کو آگاہ کر دیا جائے گا جس  وہ پر ذہنی اذیت کا شکار ہوتا ہے ، پھر اُسے ایجنٹ افر کرتا ہے  کہ لون کے مطابق اتنے  پیسے جمع کر دیں تو چھ روز مزید مل سکتے ہیں صارف اپنی عزت بچانے کی خاطر پھر یہ کام کرتا ہے یوں اصل رقم بھی موجود رہتی ہے اور ایکسڑا پیسے بھی ادا کیئے جاتے ہیں ۔اس وقت پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کمپنیوں کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

پاکستان میں اس معاملے کو ڈیل کرنے والے ادارے کا نام ہے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج  کمیشن آف پاکستان ،جس کے مطابق ڈیجیٹل قرض دینے والی کچھ ایپس نان بینکنگ کمپنیوں سے منسلک ہیں اور انہیں ایس ای سی پی کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے اور باقاعدہ ان کمپنیوں کو لائسنس دیا جاتا ہے تاہم بعض کمپنیاں بغیر لائسنس کام کر رہی ہیں جو غیر قانونی ہے ۔

ایس ای سی پی کی جانب سے اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈیجیٹل قرض دینے اور لینے کے سلسلے کی نگرانی کر رہا ہے اور اس سے جڑے بنیادی خطرے کو بھی دیکھ رہا ہے تاکہ اس سلسلے میں ضروری ریگولٹیری مداخلت کے ذریعے قرض دہندگان اور صارفین کو محفوظ رکھا جا سکے۔

کمپنیوں کی جانب سے قرض دہندگان کو ڈرانے دھمکانے کے معاملے پر ایس ای سی پی نے کہا کہ قرض دینے والوں کو صحیح معلومات اور قرض فراہم کرنے کی تمام شرائط کو صحیح طریقے سے بتانا چاہیے اور کسی شکایت کی صورت میں متعقلہ کمپنی سے رابطہ کرے اور وہاں سے داد رسی نہ ہونے کی صورت میں ایس ای سی پی سے رابطہ کرے اور https://sdms.secp.gov.pk/ پر اپنی شکایت درج کرائے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ کمپنیاں مقامی ہیں یا غیر مقامی ، کیونکہ ایک ضرورت مند شخص جب قرض لینے کیلئے بے تاب ہوتا ہے  اور اُسے کوئی اُمید نظر آتی ہے تو وہ اس طرح کے سوال نہیں اٹھاتا ۔یہ کمپنیاں مقامی بھی ہیں اور غیر مقامی بھی ۔ بعض ذرائع کے مطابق چینی باشندے ان کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ ہمیں یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ چین میں ایسی کمپنیاں چلانا منع ہے ۔ پاکستان میں غربت  اور حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے لوگ ان کمپنیوں  کے جال میں بااسانی پھنس رہے ہیں ۔

Related Articles

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Stay Connected

22,017FansLike
0FollowersFollow
20,100SubscribersSubscribe
- Advertisement -

Latest Articles