آنکھوں کا سرطان قابل علاج

0
12

تحریر :مدثر قدیر
آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے ملکہ ترنم نور جہاں کا گایا ہوا یہ صدابہا ر گیت آج بھی پون صدی گزرنے کے باوجود موسیقی اور صوتی رنگ کی آمیزش سے اپنا مقام برقرا رکھے ہوئے ہے اس گانے کے تمام کرداراپنا وجود کھو چکے ہیں مگر ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز آج بھی ذندہ ہیں اور ساتھ ہی وہ الفاظ ذندہ ہیں جو تنویر نقوی نے نوشاد کی موسیقی میں ترتیب دیے اور یہ فنی مخطوطہ سامنے آیا یعنی انسان کے دنیا سے جانے کے بعد اس کی اآواز اگر ریکارڈ ہو تو محفوظ رہتی ہے اور باقی سب فنا ہوجاتا ہے یہاں مجھے سابق گورنر رفیق رجوانہ کے الفاظ یاد آئے جو انھوں نے سرراہ عبدالستار ایدھی کی وفات پر میرے ساتھ گفتگو میں کیے کہ کتنا ہمدرد انسان تھا جاتے جاتے اپنی اانکھیں بھی کسی اور کو عطیہ کر گیااس سے پتہ چلا کہ انسان کے جانے کے بعد اس کی آنکھیں بھی ذند رہتی ہیں۔
آنکھیں انسانی شخصیت کی عکاس اور روح کی ترجمان ہیں میرے بزرگ دوست اداکار جمیل فخری ڈائیلاگ کی بجائے آنکھوں کے تاثرات سے ایسی بات کرجاتے تھے جو الفاظ کی ادائیگی میں ممکن نہیں تھی مگر بروقت جملہ کی ادائیگی میں جو طرہ خالد عباس ڈار کی شہرت ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیاآپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں آج اپنے موضوع سے ہٹ گیا ہوں مگر ایسی بات نہیں دراصل مجھے کچھ روز پہلے روز پہلے ایک دوست کے علاج کے ضمن میں میو ہسپتال جانا پڑ ا وہاں پر ایمرجنسی کے نزدیک ایک بچے کو دیکھا تو لرز اٹھا اس کی آنکھ اپنے سائز سے تقریبا 4گنا بڑی ہوگئی تھی جس کے باعث اس کو چہرہ ایک جانب بڑھا ہوا نظر آیا مجھے اس بچہ کو دیکھ کر خوف آیا مگر دوسرے لمحے یہ خوف اس بچہ کے والدین کو دیکھ کر ختم ہوگیا جو اس کو بسکٹ کھلا رہے تھے واقعہ ہی ماں،باپ اورڈاکٹرز کا حوصلہ ہواتا ہے جو ایسے بچوں کا خیال رکھتے ہیں چاہے وہ علاج کے ضمن میں ہو یاں پھر حفاظت،دیکھ بھال کے حوالے سے۔ اس بچے کے والدین سے پتہ چلا کہ وہ خانیوال کے ر ہائش ہیں اور اس بچے کو آنکھ کی پتلی کا کینسر ہے جس کا سرکاری علاج لاہورہی میں ممکن ہے بچہ کا نام افضل اس کی عمر 5سال کے قریب تھی اس کے باپ سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ اب کیموتھراپی کی وجہ سے آہستہ آہستہ آنکھ کا سائز کم ہوتا جارہا ہے اور جلد ہی وہ و وقت بھی آجائے گا جب اس کی آنکھ اور چہرہ کا سائز نارمل ہوجائے گا۔
کینسر کو اب تک میں ایسی بیماری تصور کرتا تھا جو جسم کے کسی بھی اعضاء کو اپنی گرفت میں لے کر اپنا دباؤ پیدا کرکے اپنا اثر دکھاتا تھا اور اب مجھے ایسے کینسر کی بات کرنی ہے جو بصارت سے تعلق رکھتا ہ یاو آنکھ کی پتلیوں میں پیدا ہوکر مستقل اندھے پن کا سبب بھی بن جاتا ہے کافی تگ ودو کے بعد میں لاہور جنرل ہسپتال مں قائم شعبہ امراض چشم تک پہنچا جہاں اس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد معین سے تفصیلی بات ہوئی تو انھوں نے مجھے بتایا کہ آنکھ کی پتلی کا کینسر،بصارت کا کینسر یاں پھر آنکھ کے پردے کا کینسر باڈی سیلز کے انتشار،اتار چڑھاؤ سے پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کا احتمال وراثتی طور پر بھی ہوسکتا ہے،کینسر کی یہ قسم صرف بچوں میں نظر آتی ہے اور 9سال کی عمر کے بعد اس رسولی کا بننا تقریبا ناممکن ہوجاتا ہے یعنی کینسر کی اس طرز کا شکار 9 سال کی عمر تک کے بچے ہوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر بچوں کی آنکھ کی پتلی جو سیاہ ہوتی ہے اس میں سفید دھبہ نظر آئے،بچے اگر ٹیرھا پن،بھینگا پن کا شکار ہو،آنکھ کا سائز بڑا ہونا شروع ہوجائے جو چہرے کو ایک جانب ڈی سائز کردے،سفید موتیا ہوجائے تو امراض چشم سے ضرور رجوع کریں اور ہاں کیلشیم کے خاص ڈیپاذٹ بھی آنکھ میں بن جاتے ہیں جو اس کینسر کی ایک وجہ تصور کیے جاتے ہیں اس کینسر کی شناخت کے لیے ایم آر آئی ٹیسٹ سب سے موئثر ہے کچھ الٹرا ساؤنڈ اور سی ٹی اسکین بھی کیے جاتے ہیں جبکہ علاج کے لیے پہلا مرحلہ پیڈز انکالوجسٹ کی زیرر نگرانی ہوتا ہے جہاں کیموتھراپی کرکے اس رسولی کا سائز چھوٹا کیا جاتا ہے اس پراسس میں بچے کی صحت تھوڑی گر جاتی ہے مگر وہ اس پراسس کو ریکور کرجاتا ہے جس کے بعد ہمارا علاج شروع ہوتا ہے جو بیماری کی شدت کے مطابق طویل اور مختصر مدت پر مبنی ہوتا ہے یعنی پہلے 6 ہفتے کیمو تھراپی اور بعد میں 6 ماہ یاں اس سے زائد باقی صوتحال کو کلیر کرنے میں لگ جاتے ہیں یہ سارا عمل ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس میں نیورو ریڈیالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر عمیر رشید کا نام بھی لوں گا جن کی وجہ سے ہم خون کی نالی کے ذریعے آنکھ کے اندر جاکر ٹارگٹڈ اینجو گرافی کرکے اپنا کام کرتے ہیں،اگر رسولی پتلی کے درمیان میں ہو تو اس پر علاج خاصا مشکل ہے مگر ہم ہمت کرکے اس کو مکمل کرتے ہیں ا س موقع پر پروفیسر محمد معین کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس جدید مشینری موجود ہے اور ہمارا عزم انسانیت کی خدمت کے جزبے کے تحت اپنا مشن جاری کھے ہوئے ہیں،بچوں کے علاج پر لاکھوں روپیہ درکلار ہوتا ہے اور حکومت اس ضمن میں اپنا کردار ادا کررہی ہے لاہو ر جنرل ہسپتال کے اس یونٹ میں علاج معالجے کی تمام تر سہولیات بلامعاوضہ دی جارہی ہیں تاکہ ہمارا مستقبل کینسر کی اس طرز سے محفوظ رہ سکے ہمارے ہاس 20 سے 30 بچے صوبے بھر سے ہر ہفتے رجسٹرڈ ہوتے ہیں جبکہ دیگر صوبوں سے بھی ریفر ہونے والے بچے بھی ہمارے یونٹ میں زیر علاج ہیں اب تک ایک سال کے دوران ہم نیں 100سے زائد بچوں کی بیماری کا علاج کرکے انھیں اس عفریت کے اثرات سے بچایا ہے جس پر ہم اللہ کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد معین کی گفتگو سے اس کینسر کی شدت اور اس کے اثرات کا پتہ چلتا ہے مگر اس گفتگو سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ اس بیماری کا شکار کم عمر بچے ہی ہوتے ہیں اگر ان بچوں کو جلد علاج معالجے کی سہولیات مل جائیں تو ان کی بصارت ختم ہونے اور مستقل اندھے پن کا شکار ہونے سے بچا جاسکتا ہے۔حکومت اس ضمن میں اپنا کردار صرف صوبے کے ایک ہسپتال میں ادا کررہی ہے ایسے یونٹ تو صوبے کے ریموٹ ایریاز میں بھی قائم کیے جانے چاہییے جہاں سے بچوں کو لاہور ٓانے کی ضرورت محسوس نہ ہو اور حکومت کا منشور علاج گھر کی دہلیز پر بھی پایہ تکمیل تک پہنچے ابھی اس ضمن میں بہت کام کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here